|
اردو ٹائمز(نیوز) آرٹ اور کلچر کے گڑھ نیو یارک میں آج کل ایک ایسی نمائش جاری ہے جس میں 1965 سے 1980 کے دوران فنون لطیفہ پر تحریک حقوق نسواں یا فیمینسٹ موومنٹ کا اثر دکھایا گیا ہے۔ دنیا بھر سے آرٹسٹس کی پینٹنگز، مجسمے اور پرفارمنس آرٹس کے نمونے اس شو کا حصہ ہیں۔ ویک، آرٹس اور فیمینسٹ ریوولوشن نامی اس شو کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ پہلا آرٹ شو ہے جس نے 1965 سے 1980 تک کے آرٹ پر تحریک حقوق نسواں یا فیمینسٹ موومنٹ کے اثرات پر جامع نظر ڈالی ہے۔ اس شو میں امریکہ، لاطینی امریکہ، ایشیا، مشرقی یورپ اور دیگر جگہوں سے 120 آرٹسٹس کا کام شامل ہے۔ کورنیلیا بٹلر اس شو کی منتظم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس شو کا ٹائیٹل اہم ہے کیونکہ میرے لیے یہ بہت ضروری تھا کہ میں آرٹ اور نسائی انقلاب یا فیمینسٹ ریوولوشن میں فرق واضح کر دوں۔ کیونکہ اگرچہ اس شو سے فیمینسٹ آرٹ کی وضاحت خود بخود ہو جاتی ہے لیکن دراصل یہ شو خواتین کے حقوق اور ان کے مسائل، سیاست اور آرٹ کے درمیان تعلق واضح کرتا ہے۔ انقلاب کے ذریعے کوشش کی گئی ہے کہ فیمینسٹ آرٹ موومنٹ کے رومانس اور اس کے آئیڈیلزم کی عکاسی کی جائے۔ تحریک حقوق نسواں، اور اس سے منسلک سیاست سے ایک خاص قسم کا رومانس وابستہ ہے۔ یہ خواتین تمام ثقافتی روابط کو ایک نئی نظر سے دیکھنا چاہتی تھیں۔ اور اکثر پرانی قدروں کو چیلنج بھی کرتی تھیں۔ جس میں ایک رومانس بھی تھا اور ایک ناکامی بھی۔ کیونکہ انقلاب کا لفظ اپنے اندر ایک ناکامی بھی چھپائے ہوئے ہے۔ اور میں چاہتی تھی کہ یہ لفظ ہی عنوان بنے۔ کورنیلیا بٹلر کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگوں نے مجھے بتایا ہے کہ وہ اس احساس سے بے حد متاثر ہوئے ہیں جو اس پورے کام میں نمایاں ہے، جو عکاسی کرتا ہے اس جدوجہد کی جو خواتین کو کرنی پڑی صرف ایک بیوی، ایک آرٹسٹ، ایک ساتھی رہنے کے لیے۔ اس طرح کی جدوجہد جو اس نمائش میں دکھائی گئی ہے وہ آج بھی ایک عالمی جذبہ ہے۔ یہ نمائش میوزیم آف ماڈرن آرٹس کے پی ایس ون کنٹمپوریری آرٹ سنٹر میں بارہ مئی تک جاری رہے گی۔
|
|