مصر کے
فرعونوں میں سے سب سے طاقت ور فرعون رامسس دوئم کا مجسمہ دریائے نیل کی وادی میں
واقع ایک گاؤں سے 5 فٹ گہری ریت سے دریافت ہوا ہے۔ یہ گاؤں جہاں سے رامسس دوئم کا
مجسمہ ملا ہے اس کا نام ٹیلباسٹا ہے جو قاہرہ سے 50 میل کے فاصلے پر شمال میں واقع
ہے۔ ٹیلباسٹا کسی زمانے میں قاہرہ یا مصر کا دارالحکومت ہوا کرتا تھا مصری ماہرین
آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ انہیں یہ مجسمہ گلابی گرینائیٹ کا بنا ہوا ملا ہے اس
مجسمے کی ناک ٹوٹ چکی ہے اور اس کی داڑھی
بھی غائب ہے۔ مصر کے ماہرین آثار قدیمہ کی سب سے بڑی کونسل کے صدر ذاہی حواس کا
کہنا ہے کہ رامسس جو کہ اپنے یونانی نام اوزی مینڈیاس سے بھی مشہور ہے، نے 1279 سے
1213 قبل مسیح تک مصر کی سب سے مضبوط حکومت پر بادشاہت کی اور کئی محل اور معبود
بنائے۔ رامسس دوئم کی تعمیرات میں آبوسمبل جو جنوب میں واقع ایک بہت بڑا مسجمہ ہے
بھی شامل ہے۔ رامسس دوئم اپنی ملکہ نیفرتی تی کی خوبصورتی کے حوالے سے بھی بہت
مشہور ہے۔ اس کے علاوہ اسے وہی رامسس کہا جاتا ہے جس کی حکومت میں حضرت موسی علیہ
السلام بنی اسرائیل کو لے کر خروج کر گئے تھے۔ رامسس کو لکسر کے قریب بادشاہوں کی
وادی مین دفن کیا گیا تھا لیکن بعد میں یعنی گزشتہ صدی کے دوران اس کے ممیائی ہوئی
باقیات دریافت ہوئیں اور آج کل قاہرہ کے عجائب گھر میں پائی جا رہی ہیں۔رامسس دوئم
کے ملنے والے اس مجسمے کا سر 76 سینٹی میٹر یعنی 30انچ اونچا ہے۔ مسٹر حواس کا
کہنا ہے کہ یہ دریافت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اب ہمیں رامسس دوئم کے سب سے بڑے
معبود اور محل کی باقیات کے قریب ہونا محسوس ہو رہا ہے۔ مجسمے کے بعض دوسرے حصوں
کو ڈھونڈنے کے لیے ٹیلباسٹا میں کھدائی جاری ہے۔