ماہرین آثار قدیمہ روم کے کچھ نادر شاہکار دریافت کرنے کی امید میں ہیں
ماہرین آثار قدیمہ روم کے کچھ نادر شاہکار دریافت کرنے کی امید میں ہیں
ایڈن برگ کے شمال میں کرامنڈ کے
مقام پر کھدائی کرنے والی ٹیم کا خیال ہے کہ وہ عنقریب کچھ قدیم رومی نوادرات تک
پہنچنے والے ہیں جو اس قلعے کے بارے میں معلومات فراہم کریں گی جو کبھی ایڈن برگ
میں موجود تھا۔مقامی لوگ اس کھدائی میں پوری طرح
تعاون کر رہے ہیں اور اب تک کچھ ایسی چیزیں ڈھونڈ بھی چکے ہیں جنہیں سکاٹ لینڈ کی
اہم نوادرات کہا جا سکتا ہے۔
صدیوں پرانے اس علاقے کی کھدائی کے
دوران رضاکارانہ طور پر شریک لوگوں کا خیال ہے کہ وہاں سے ملنے والی نوادرات کسی
زمانے میں وہاں پر رومی سلطنت کے ہونے کے بارے میں مفید معلومات فراہم کریں گی۔
کریمنڈ سے ملنے والی اب تک کی نوادرات میں سکے، برتن، دھاتی اوزار وغیرہ شامل ہیں۔
کریمنڈ سے ہی سکاٹ لینڈ کی سب سے اہم دریافت سامنے آئی تھی جو ایک شیرنی کے مجسمے
کی شکل میں تھی یہ مجسمہ دریائے ایلمنڈ کے کنارے مٹی میں لت پت ملا تھا۔ اور
کیونکہ اس طرح کے مجسمے ہمیشہ جوڑوں کی صورت میں بنائے جاتے تھے اس لیے لوگوں کا
خیال ہے کہ شیر کا مجسمہ بھی یہی کہیں ہوگا۔ جان لاسن جو ایڈن برگ سٹی کونسل کے
ماہر آثار قدیمہ ہیں کا خیال ہے کہ شیرنی کے مجسمے کی دریافت ان کی زندگی کا حاصل
ہےان کی خواہش ہے کہ وہ دوسرے مجسمہ بھی ڈھونڈ لیں۔ لیکن اور بھی بہت سی چیزیں
ڈھونڈی جانے کی منتظر ہیں۔
تاہم کریمنڈ سے ملنے والی نوادرات دیدار عام کے لیے
رکھ دی گئی ہیں۔