جیسے کہ ماہرین آثار قدیمہ اور
ماہرین موسمیات کہہ رہے ہیں لگتا یہی ہے کہ ایلپاءن سے ملنے والے آثار ایک بہت
بڑی موسمی تبدیلی کا پتہ دیتے ہیں۔
برفانی آدمی اولٹزی کی کہانی تو
سب جانتے ہوں گے۔ اسے آسٹرین گلیشءر سے 1991 میں نکالا گیا تھا اور گلیشءر
تقریباً 3000 میٹر کی بلندی پر تھا۔ اولٹزی 3300 سال قبل مسیح کا رہنے والا تھا
اور اعداد شمار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ایلپس پر انسانی زندگی کے مزید آثار
بھی دیکھنے کو آ سکتے ہیں۔ آجکل سویزرلینڈ کے شندیجاخ گلیشءر جو 2756 میٹر کی
بلندی پر واقع ہے سے ملنے والے شواہد نے اس حقیقت کی مزید تصدیق کر دی ہے۔
2003 کی بات ہے سوزرلینڈ کا ایک
جوڑا ہاءکنگ کرتا ہوا لکڑی کے ایک ٹکڑے سے آن ٹکرایا جس نے ان کے تجسس کو ابھارا
اور وہ مزید کھوج میں لگ گءے۔ وہ اسے اپنے ساتھ نیچے لے آءے اور اسے کینٹن برن کے
محکمہ آثار قدیمہ کے حوالے کر دیا۔ انتہاءی محتاط تجزیے سے معلوم ہوا کہ وہ لکڑی
کا ٹکڑا کوءی 3000 ہزار سال قبل مسیح کے زمانہ کا ہے۔ شروع شروع میں یہ خبر صیغہ
راز میں رکھی گءی لیکن اب ماہرین کی ایک جماعت نے ایسے بہت سے آثار دریافت کر لءے
ہیں جو اپنی قدامت کے اعتبار سے اتنے ہی پرانے ہیں جتنا وہ لکڑی کا ٹکڑا تھا۔ کینٹن
برن کے سب سے بڑے ماہر آثار قدیمہ ایلبرٹ ہیفنرکا کہنا ہے کہ ایلپس سے ملنے والے آثار انتہاءی منفرد نوعیت کے حامل ہیں
اور یہ کہ دنیا میں ایسے آثار کسی اور جگہ سے ابھی تک دریافت نہیں ہو پاءے۔