مجسمہ آزادی جسے فرانسیسی مجسمہ
ساز فریدرک آگست بارتولدی نے جولائی 1884ء کو مکمل کیا سرکاری سطح پر 'دنیا کو منور کرنے والی شخصی
آزادی' کے نام سے مشہور ہے۔ تکمیل سے 10 سال
پہلے اس مشہور مجسمے کو مکمل کرنے کا خواب لے کرکام شروع کرتے ہوئے بارتولدی نے کئی ایک چھوٹے چھوٹے نمونے تیار کیے۔ ایک بار جب مجسمے کا ڈیزائن حتمی شکل اختیار کر
گیا تو لکڑی کے بڑے بڑے ٹکڑے بنائے گئے جن
کے اوپر تانبے کی چادریں چڑھا کر انہیں موجودہ شکل دے دی گئی۔ تانبے کے اس خول کو
ایک لوہے کے ڈھانچے سے جوڑا گیا جسے گستاو آئیفل نے تیار کیا تھا ، وہی گستاو
آءفل جس نے بعد میں آئیفل ٹاور بنانے کا
اعزاز حاصل کیا۔ فرانسیسی لوگوں کے عطیات پر تیار ہونے والا یہ مجسمہ آزادی 1775
سے 1783 تک جاری رہنے والے امریکی انقلاب کے دوران امریکی ریاستوں اور فرانس کے
باہمی اتحاد کی یادگار ہے۔ 4 جولائی 1884ء کو 151 فٹ اونچے ، 225 ٹن وزنی اس مجسمہ
آزادی کو پیرس میں امریکی سفیر کے سپرد
کر دیا گیا۔ اپنے اردگرد چار پانچ منزلہ عمارتوں سے اونچی اس فلک بوس پندرہ منزلہ
بھاری بھرکم مجسم خاتون کو دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے۔ نیویارک کی بندرگاہ تک لانے
کےلیے مجسمہ آزادی کو تین سو ٹکڑوں میں تقسیم کر کے لکڑی کے 214 کریٹوں میں بند
کر دیا گیا۔ مجسمہ کے صرف مشعل پکڑنے والے ہاتھ جسے پہلے 1876ء کی سو سالہ تقریبات
کے سلسلے میں فلڈیلفیا میں نمائش کے لیے پیش کیا جاچکا تھا ، کے ٹکڑے 21 بکسوں میں
پورے آئے۔
جب مجسمہ آزادی امریکہ بھیجنے کے لیے تیار ہو گیا تو بحر اوقیانوس میں کچھ مسائل کھڑے ہوگئے۔ جس ستون پر مجسمہ آزادی کو ایستدہ کرنا تھا وہ
ابھی تک نامکمل تھا۔ آخر کار17 جون 1886ء کو اسے نیویارک کی بندرگاہ پر اتارا گیا
اورسرکاری طورپر ایک اخبارکے پبلیشر جوزف پلٹزرکی امداد سے تعمیر پانے والے رچرڈ موریس ہنٹ کے ڈیزائن کردہ
بہت بڑے ستون پر نصب کر دیا گیا۔ بیڈلو کے
جزیرے ، جسے بعد میں کانگریس کے پاس کردہ قانون کے مطابق 1956ء میں جزیرہ آزادی
کا نام دے دیا گیا تھا ، پر واقع یہ ستون پتھر اور گرینائٹ کا بنا ہوا ہے اور اس کے گردا
گرد ستارے جیسی شکل کی وہ دیوار ہے جو کبھی اس فورٹ وڈ کا حصہ تھی جسے انیسویں صدی
کے آغاز میں نیویارک کا دفاع کرنے کے لیے 1812ء کی جنگ کے دوران تعمیر کیا گیا
تھا۔ اکتوبر 1886ء کو مجسمہ آزادی سے اظہار
وفا داری کی تقریب منعقد ہوءی اور صدر
گریول کلیولینڈ کے خطاب کے دوران امریکیوں کے سامنے اس مجسمہ کی نقاب کشاءی کی
گءی۔ 1903ء کو اس خوبصورت خاتون کے مجسمہ کی تکمیل میں ایک اور اضافہ ہوا اور اس
کے ستون پر امریکی شاعرہ ایما لیزارس کی
نظم 'نیو کلاسس' کندا کر دی گءی۔ اس کے بعد 1924ء میں اسے قومی یادگار کا درجہ دے
دیا گیا۔
صد سالہ تقریبات کی تیاریوں کے سلسلے میں 1986ء کو فرانس اور امریکہ کے بحالیاتی
پروجیکٹ کی رو سے اس مجسمہ کی مرمت اور صفائی ستھرائی کا کام کیا گیا اور شیشے اور دھات کی بنی ہوئی مشعل کو سونے کی پتیوں سے مرقع مشعل سے تبدیل
کر دیا گیا۔ آج نیویارک کے بیٹری پارک سے گاڑیاں زائرین کو جزیرہ آزادی لے جاتی
ہیں۔ یہ زائیرین بنیادی ستون کی چوٹی پر واقع عرشہ مشاہدہ پر پہنچنے کے لیے لفٹ یا
192 زینوں والی سیڑھی استعمال کر سکتے ہیں۔ مجسمہ کے بنیادی ستون میں واقع عجائب
گھر نہ صرف تفصیلاً اس یادگار کی پوری تاریخ
دیتا ہے بلکہ اصل مشعل اور شعلے کے خواص بھی واضع کرتا ہے۔ اگر زائیرین میں
سے کوئی زیادہ پُرعزم ہوتو 354 زینوں پر مشتمل سیڑھی اسے اس بنیادی ستون سے چوٹی
تک لے جاتی ہے جہاں نیویارک شہر اور
نیویارک کی بندرگاہ کے بارے میں اسے دم بخود نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بحیثیت
مجموعی مجسمہ آزادی کی اس قومی یادگار
میں ایلز جزیرہ بھی شامل ہے اور یہ کہ لبرٹی
جزیزہ اور ایلز جزیرہ نیویارک کی بندرگاہ کے بالائی حصے میں واقع ہیں۔
مجسمہ آزادی علامتی حیثیت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھلی فضاءوں میں بے خوفی سے کھڑا یہ مجسمہ آزادی تقریباً ایک سو سال سے
دنیا بھر کے لءے آزادی کی علامت بنا ہوا ہے۔ اکتوبر 1886ء کی نقاب کشاءی کے بعد
اس مجسمے کو دیکھ کر ہر امریکی کا دل حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہو جاتا ہے۔ اس
نے ایلس جزیرے میں آنے والے تمام آباد کاروں کو سلام کیا ہے اور انہیں اس بات کی
نوید سناءی ہے کہ آخر کار آزادی کی سرزمین تک پہنچنے کے لءے ان کا سفر ختم ہو
گیا ہے۔ اس مجسم خاتون کی شعلہ بار مشعل، اڑتے ہوئے فرغل، اور سات نوکوں والے تاج
نے امریکیوں میں ہمیشہ فخر اور بڑائی کے جذبات پیدا کیے ہیں۔ اس مجسم خاتون کے انداز کی کشش اور
طاقت امریکہ کے لءے ایک ایسا علامتی تعویذ
ہے جو ہمیشہ اس عظیم قوم کے لیے قوت، دولت
اور آزادی پیدا کرتا رہے گا۔
اس یادگار مجسمہ آزادی میں ایک ایسی عورت کو دکھایا
گیا ہے جو اپنے پاءوں میں پڑی جبر و استبداد کی زنجیروں سے نکل بھاگتی ہے۔ اس مجسم
عورت کے دائیں ہاتھ میں ایک جلتی ہوئی مشعل ہے جو
آزادی کی علامت ہے اور بائیں ہاتھ میں ایک تختی جس کے اوپر رومن اعداد میں وہ
تاریخ درج ہے جس پر امریکا نے اپنی آزادی کا اعلان کیا تھا (یعنی 4 جولائی 1776ء)۔
اس مجسم عورت نے ایک اڑتا ہوا فرغل پہنا ہوا ہے اور اسکے نوک دار تاج سےآسمان کو
جاتی سات ایسی شعاعیں نکل رہی ہیں جو سات
سمندروں اور سات براعظموں کی علامت ہیں۔
قوانین و ضوابط۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1862ء میں نئے
آباد کاروں کو روکنے کے لیے کانگریس نے ایک ایسا قانون بنایا جس کے تحت امریکی
بحری جہازوں کے چینی نو آباد کاروں کو امریکہ لانے پر پابندی لگا دی گئی۔ بیس سال
بعد 1882ء میں کانگریس نے چینیوں کے انخلاء کا قانون پاس کرتے ہوئے اس پابندی کو مزید
سخت کر دیا اور تمام چینی باشندوں پر امریکی ریاستوں میں داخلے کی ممانعت کے
احکام صادر کر دیے۔ اسی طرح کانگریس نے 1875ء ، 1882ء، اور
1892ء میں بھی کچھ قانون پاس کیے جن کے مطابق نہ صرف نو آباد کاروں کا معائنہ اور
امتحان ضروری ٹھہرایا گیا بلکہ تمام
مجرموں ، کثرت ازواج کے حامیوں ، طوائفوں ،
چھوت اور موذی امراض کے شکار لوگوں اوردوسرے جرائم میں ملوث اشخاص کو
امریکہ سے نکالنے کے احکام بھی جاری کر دیے گءے۔ اس کے علاوہ 1885ء ، 1887 ، 1888ء
اور 1891ء کے الائن کانٹریکٹ لیبل لاز بھی پاس کیے گئے جن کے تحت امریکہ میں آنے
والے نو آباد کاروں کو وہ کام کرنے کی اجازت نہیں تھی جن کے کانٹریکٹ وہ اپنی
آمد سے قبل لے چکے تھے۔
امریکہ کا سفر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ امریکہ جانے کا رجحان پیدا کرنے میں دنیا کے
جن ثقافتی گروہوں نے زیادہ فیصلہ کن کردار ادا کیا برطانوی ان میں سرفہرست ہیں۔ یہ برطانوی ہی تھے جنہوں نے ایسی کالونیاں بنائی
جو بعد میں امریکی ریاستوں کی شکل اختیار کر گئی۔ ان کے بچے امریکی ریپبلک کا حصہ
بن گءے اور انہوں نے ایسی بنیادیں رکھیں جو بعد میں آنے والوں کے لءے انتہاءی مدد
گار ثابت ہوءیں۔ سب سے پہلی کامیاب اور مستقل برطانوی آبادی کا نام جیمز ٹاؤن تھا جسے ورجینیا کمپنی
نے 1607ء میں آباد کیا تھا۔ جیمز ٹاؤن آباد کرنے والے اس چھوٹے سے گروہ کی قیادت
کیپٹن کرسٹوفر نیو پورٹ کر رہا تھا جسے لندن کمپنی نے آبادکاروں کو لانے کے لیے ملازم رکھا ہوا تھا۔ 1609ء اور 1610ء کی سردیوں
میں بہت سے نوآبادکار بھوک اور بیماری سے مر گئے۔ تاہم اگلے سال جون میں امدادی
سامان کی آمد نے جیمز ٹاؤن کے باقی ماندہ لوگوں کو وہیں رکنے کا حوصلہ دیا۔ 1612ء میں تمباکو کی کاشت شروع ہوئی تو یہ
کالونی خوشحال ہو گئی اور ورجینیا کا مرکز بن گئی۔ 1619ء میں امریکہ کی پہلی نمائندہ
اسمبلی کا انعقاد یہیں ہوا۔ اسی سال جیمز
ٹاؤن میں اولین سیاہ فام غلاموں کو تیرہ پرانی ریاستوں میں متعارف کرایا گیا۔ لیکن
اس چھوٹے سے گاؤں پر اکثر مقامی امریکی حملہ کر دیتے تھے۔ 1622ء میں 350 اور 1644ء میں 500 رہاءشی اپنی
زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
گورنر ولیم برکلے کی حکومت کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے نوآبادکاروں نے جیمز
ٹاؤن کو آگ لگادی۔ 1699ء میں مڈل پلانٹیشن
جس کا موجودہ نام ولیمز برگ ہے ، حکومت کا
مرکز بن گیا اور جیمز ٹاؤن کو پوری طرح منہدم کر دیا گیا۔ نیشنل پارک سروس اور پرزرویشن
آف ورجینیا اینٹی کویٹیز کی انجمن جو 9 ہیکٹر یعنی 23 ایکڑ زمین کی مالک تھی ، نے
اس سارے علاقے کو کھدائی کروا کر اپنے قبضے میں لے لیا۔ جیمز ٹاؤن آرکیا لوجیکل
لیبارٹری میں ایسی بہت سی نوادرات موجود ہیں جو نیشنل پارک سروس کی کھدائی کے بعد
سامنے آئیں۔ نیشنل پارک سے متصل جیمز ٹاؤن فیسٹیول پارک میں اولین بحری جہازوں کے
سارے نمونے بھی موجود ہیں اور 1607ء والے جیمز فورٹ کی تخلیق نو
بھی۔ تاہم جیمز فورٹ میں بنی ہوئی پویلینز
مقامی امریکیوں اور انگریزی ثقافتوں کا برملا اظہار ہیں۔(مائیکروسافٹ 1998)
نیو انگلینڈ کی طرف نقل مکانی کا سلسلہ اس وقت شروع ہوجب وہ زائیرین یہاں
آئے جنہون نے 1620ء میں میساچوسٹس بے میں پلائی ماؤتھ کالونی کی بنیاد رکھی تھی۔
1629ء میں انگلستان میں پیورٹنز کے ایک بہت بڑے گروہ نے میسا چوسٹس بے میں رہائشی
آبادی قائم کی جو اپنے ساتھ پیورٹن کامن ویلتھ قائم کرنے کا ایک چارٹر اور مشن لے
کر آئے تھے۔
1730ء سے 1740ء تک کی اگلی دہائی وہ زمانہ ہے جو عظیم نقل مکانی کے نام سے
یاد کیا جاتا ہے۔ ان سالوں میں میسا چوسٹس کی آبادی انتہائی تیز رفتاری سے پھیلی
جس کی وجہ نیو انگلینڈ نقل مکانی کرنے والے تقریباََاکیس ہزار تارکین وطن کی آباد
کاری تھی جس کا تیسرا حصہ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا تھا۔ تاہم 1660ء تک
برطانیہ سے نیو انگلینڈ بڑے پیمانے پرہونے والی نقل مکانی فی الفور روک دی گئی اور اس نئی دنیا میں آنے
کے لءے سرکاری طورپر پابندیاں عائد ہونے
لگیں۔
1700ء میں برطانیہ نے انگلستان سے امریکہ جانے پر پابندیاں عائد کرنا شروع
کر دیں۔ 1718ء میں برطانوی پارلیمنٹ نے ہنر مند لوگوں کی برطانوی جزیروں سے امریکہ
نقل مکانی پر مکمل پابندی لگا دی ، اور 1775ء میں ایک انقلابی انتہا پسندی پھوٹ پڑنے سے ترک وطن سرکاری سطح پر روک دیا گیا۔
اس وقت سے لے کر اب تک مغربی یورپ کے دوسرے ملکوں کی نسبت برطانیہ سے بہت کم تارکین وطن امریکہ آئے ہیں۔