بیگم فریدہ شبیر احمد (فلوریڈا)
دیکھو گے تو ہر موڑ پہ مل جائیں گی لاشیں
ڈھونڈو گے تو اس شہر میں قاتل نہ ملے گا
اب تو بات شہر سے آگے جا پہنچی ہے۔ ڈھونڈو گے تو اس ملک میں قاتل نہ ملے گا۔ ایک دور وہ تھا کہ شب بارات کو بچے آتش بازی کر کے خوش ہو جایا کرتے تھے۔ بڑے کچھ ڈرے رہتے تھے کہ کسی کو چوٹ نہ لگ جائے۔ آتش بازی کے کسی ٹھیلے یا دکان پر آگ لگ جاتی تھی تو ملک بھر کے اخباروں میں شہ سرخیوں کے ساتھ خبر شائع ہوا کرتی تھی۔ اب آئے دن بڑے بڑے بم دھماکے ہیں۔ کہیں خودکش حملے ہو رہے ہیں تو کہیں ریموٹ کنٹرول بم چل رہے ہیں۔ وطن عزیز انارکی کا شکار ہے۔ نہ حکومت کا دبدبہ ہے۔ نہ پولیس اور فوج کا کچھ خوف۔
حکومت کچھ نہیں جانتی کہ اس افراتفری کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے لیکن عوام میں سے کچھ افراد یقیناً جانتے ہیں اس لئے کہ ان کے تعاون کے بغیر ایسے جرائم ممکن ہی نہیں ہمارے خیال میں ملک میں دہشت گردی پھیلانے والے زیادہ تر اپنے ہی لوگ ہیں۔ کچھ قبائلی ،کچھ طالبان اور القاعدہ جیسے مذہب پرست عناصر اور کچھ پٹے ہوئے سیاسی مہرے۔ کچھ ذمہ دار افسر یہ کہہ کر بری الذمہ ہونا چاہتے ہیں کہ یہ سب بیرونی عناصر کا کام ہے۔ چیچنیا کے باشندوں، ازبک قبائل، عربوں، بھارتی ایجنٹوں، ایرانی باغیوں اور امریکہ کے پشت پناہوں کا نام خبروں میں آتا رہتا ہے لیکن ہم عرض کر چکے ہیں کہ ہمارے اپنے عوام میں چھپے شرپسند عناصر کے تعاون کے بغیر یہ سب ہنگامہ آرائی ہو نہیں سکتی۔ ستم یہ ہے کہ مجرم ہاتھ نہیں آتا
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پر کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
وطن عزیز کے دھماکوں نے تو عراق اور افغانستان کو بھی مات کر دیا ہے۔ امریکی فوج کی موجودگی سے ان دونوں ملکوں کو یہ فائدہ ہوا ہے کہ وہاں کے دہشت گردوں کو جدید ترین اسلحہ کے ذریعے اڑا دیا جاتا ہے۔ ادھر سعودی عرب ہے اور ایران ہے۔ ان دونوںملکوں میں دہشت گردوں کی کچھ کمی نہیں۔ وہاں یہ دھماکے کیوں نہیں ہوتے؟ وجہ یہ کہ وہاں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہمیشہ چوکس رہتے ہیں اور مجرموں کو فوری طور پر عبرتناک سزا دی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں تو یہ حال ہے کہ دہشت گرد عناصر پولیس اور فوج کے اہلکاروں کو قتل کر کے دندناتے پھرتے ہیں اور انہیں اغوا بھی کر لیتے ہیں۔ ہمارے یہاں اس اندھیر نگری کی ایک انوکھی وجہ یہ بھی ہے کہ غیر سرکاری طور پر سرحدی قبائل انتہائی خوفناک اسلحہ خود بنا لیتے ہیں۔ دنیا کے کسی ملک میں یہ جرم اس پیمانے پر نہیں ہوتا۔
ان خونریزیوں کا حل یہاں سے شروع ہونا چاہئے کہ جب کوئی مجرم یا مشتبہ افراد پکڑے جائیں تو فوجی عدالتوں کے ذریعے انہیں پبلک میں فوری اور عبرتناک سزا دی جائے۔ جیسا کہ ایران اور سعودی عرب میں ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں بھی فسادیوں کے لئے سخت ترین سزائیں مقرر کی ہیں۔ سعودی عرب میں تو منشیات سمگل کرنے والوں کی سرعام گردن مار دی جاتی ہے وہاں کی حکومت میں لاکھ برائیاں ہوں لیکن قانون کا دبدبہ (رٹ) وہاں پوری طرح سے قائم ہے۔ ہم تو بہت ہی مجبور و بے کس ہو کر رہ گئے ہیں۔ دہشت گردی کے شکار ہیں اور پھر بھی ہم پر دہشت گردی کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ افغانستان ہو یا ہندوستان نیٹو ہو یا امریکہ سب کی انگلیاں ہماری طرف اٹھتی ہیں۔
نئی حکومت نے ایک کارنامہ ایسا بھی کر دکھایا ہے جس کی دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے افواج پاکستان سے کہہ دیا ہے کہ بھئی دہشت گردی سے نمٹنا آپ کے حوالے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت کا وقار قائم رکھنے کی ذمہ داری فوج کی ہے تو ایوان صدر، ایوان وزیراعظم اور پارلیمنٹ کس کھاتے میں جائیں گے۔ معیشت اور مہنگائی پر سے انہوں نے پہلے ہی ہاتھ اٹھا لئے ہیں کہ یہ ہمارے بس کا روگ نہیں۔ حکومت کا کام اب صرف بیانات جاری کرنا رہ گیا ہے۔ عوام تاریخ میں پہلی بار اتنی مایوسی کا شکار ہیں۔ عین ممکن ہے کہ ہم قدرت کے پیمانوں کی لپیٹ میں آ گئے ہوں۔
1۔ جیسے تم ہو گے ویسے حکمران تم پر مسلط کئے جائیں گے۔
2۔ عوام اپنے حکمرانوں کے طرزعمل پر ہوتے ہیں۔
یہ دو اصول ایک خطرناک دائرہ بناتے ہیں۔ سوال یہ کہ پہلے عوام ٹھیک ہوں یا حکمران؟
حسین حقانی صاحب امریکہ میں ہمارے سفیر ہیں۔ اخباروں میں کالم یوں لکھا کرتے تھے جیسے
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
سارے جہاں کا درک
ہمارے ہی سر میں ہے
(درک یعنی عقل و فہم یا ادراک) امریکہ میں ان سے زیادہ نااہل سفیر شاید کبھی مقرر نہ ہوا۔ باتوں کے گھوڑے خوب دوڑاتے تھے۔ عمل کے میدان میں ٹٹو پر بیٹھ جاتے ہیں۔ کسی سرکاری محفل میں شریک ہوتے ہیں تو پاکستان کا امیج مزید خراب کر کے رخصت ہوتے ہیں۔ پاکستانی امریکیوں سے رابطہ رکھنا حرام سمجھتے ہیں۔ آپ انہیں فون کیجئے، خط لکھئے، ای میل کیجئے اور پہلے سے یقین فرما لیجئے کہ کوئی جواب نہیں ملے گا۔ حقانی صاحب اپنی نااہلی سے خوب آگاہ ہیں لہٰذا اپنے ہم وطنوں سے بھی ڈرے سہمے رہتے ہیں۔ امریکی حکومت کے اہلکار جب انہیں دھمکیاں دیتے ہیں کہ افغانستان میں متعین افواج پاکستان میں بھی آپریشن کریں گی تو سفیر صاحب کے الفاظ حلق میں اٹکنے لگتے ہیں۔ وہ صرف اتنا کہہ پاتے ہیں کہ میں آپ کی تشویش حکومت پاکستان تک پہنچا دوں گا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ میں ہوتا تو کیا ہوتا
بے شک آپ نہ ہوتے تو بہتر ہوتا۔ مغرب کے تھنک ٹینک یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں موجود طالبان یہ چاہتے ہیں کہ حکومت کا وقار خاک میں ملا دیں اور پھر اسی طرح پاکستان میں اقتدار پر قابض ہو جائیں جس طرح افغانستان میں ہوئے تھے۔ وطن عزیز میں اس وقت 12 ہزار مذہبی مدرسے ہیں اور لاکھوں مسجدیں ہیں۔ مذہبی اور سیاسی پارٹیوں کی بھی کوئی کمی نہیں۔ تبلیغی جماعت، جیشِ محمد، لشکر طیبہ، سپاہ صحابہ، حزب التحریر، تحریک ختم نبوت، منہاج القرآن سب پوری طرح چاق و چوبند ہیں صرف کاغذ پر ان میں سے کچھ کالعدم ہیں۔ لاکھوں کروڑوں آوازیں اس بات پر متفق ہیں کہ ملک میں انسانوں کا بنایا ہوا نظام شریعت نافذ کیا جائے جہاں عورتوں کو گھروں میں بند کر دیا جاتا ہے۔ لڑکیوں کے سکول اور کالج ختم کر دئیے جاتے ہیں۔ برقع سے عورت کا پاﺅں یا ناک بھی دکھائی دے جائے تو اسے لاٹھی ماری جاتی ہے۔ لوگوں کی داڑھیاں ناپی جاتی ہیں۔ مزید کیا کہئے؟ افغانستان میں طالبان کی حکومت کا تصور فرما لیجئے۔ قوم کا آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے جس میں ہر شخص خود کو فرشتہ اور دوسروں کو شیطان سمجھتا ہے۔ ان حالات کو کون سدھارے اور کیسے سدھارے؟
میریٹ ہوٹل اسلام آباد کی تباہی پر بعض لیڈروں نے کہا کہ یہ پاکستان کا 9/11 ہے لیکن یہ تو ابتدائے عشق ہے۔ بم ٹیکنالوجی جس خطرناک تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے وہ بہت بڑے خطروں کی گھنٹیاں بجا رہی ہے۔ اگر خدانخواستہ یہ جمہوری حکومت بھی ناکام ہو گئی تو کیا ہو گا؟ ہمارا خیال ہے مارشل لاءتو نہیں آئے گا کیونکہ فوج خود سمجھتی ہے کہ حالات کو قابو میں لانا ان کے بس کا کام بھی نہیں۔ ادھر ہماری بے کسی کی حالت یہ ہے کہ میریٹ ہوٹل میں آگ بجھانے کے کیمیکلز بھی ہمارے پاس موجود نہیں تھے اور تھوڑی دیر بعد آگ بجھانے والے انجنوں کے پاس پانی تک موجود نہ تھا۔ اللہ حافظ و نگہبان!
اس تحریر پر تبصرہ کرنے کیلئے http://www.urdutimes.com پر اپنی رائے کا اظہار کیجئے