کنکریاں.... عباس اطہر
قائداعظم کی وفات اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد پاکستان میں جمہوریت کا خواب بکھر گیا تھا۔ گورنر جنرل غلام محمد نے عدلیہ کو نظریہ ضرورت پر لگایا۔ اسکندر مرزا کے بعد ایوب خان، یحیٰی خان، ضیاءالحق اور پرویز مشرف چھوٹے چھوٹے سویلین وقفوں کے بعد اقتدار میں آئے۔ میں نے ایوب خان اور محترمہ فاطمہ جناح کے زمانے میں صحافت میں قدم رکھا تھا۔ ان دنوں صحافت پر حکومت کا بہت سخت کنٹرول تھا۔ میرا پہلا اخبار روزنامہ انجام کراچی تھا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ انور شعور کے کالم کے ایک جملے پر کتنے دن ہمارے دفتر میں خوف و ہراس پھیلا رہا جملہ یہ تھا ”صدر اور گولیمار میں زیادہ فاصلہ نہیں ہے“ ان دس لفظوں نے دس دن تک تمام کارکنوں (ایڈیٹروں سمیت) کو اس خوف میں مبتلا رکھا کہ اخبار کا دفتر تہس نہس کر دیا جائیگا اور ہم لوگوں کو نکال کر سڑک پر پھینک دیا جائے گا۔ اس زمانے میں لوگ سرگوشیوں میں اس طرح کی منصوبہ بندی کیا کرتے تھے کہ جب ”انقلاب“ آئے گا وہ ایوب خان کو سڑکوں پر گھسیٹیں گے اور پرزے پرزے کر دیں گے۔ جنرل یحیٰی کا انقلاب آیا۔ ایوب خان ایوان صدر سے رخصت ہو کر اسلام آباد کی ایک پہاڑی پر واقع خوبصورت گھر میں منتقل ہو گئے۔ بڑے سکون سے وفات پائی اور بھٹو دور میں فوجی اعزاز کے ساتھ دفن ہوئے۔ جنرل یحیٰی نے آدھا ملک ہار دیا، ٹیلی ویژن پر آ کر قوم سے خطاب کرتے ہوئے اس شکست کے جواز میں غزوہ احد کا تذکرہ کیا وہ ملک کی مزید خدمت کرنے پر تلے ہوئے تھے لیکن جنرلوں نے بغاوت کر دی ایک غیر آئینی نظام کا غیر آئینی تسلسل برقرار رکھنے کیلئے ذوالفقار علی بھٹو کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بننا پڑا۔ لوگ یحیٰی خان کی بوٹیاں نوچنا چاہتے تھے لیکن انہوں نے گھر میں اپنی مرضی کی زندگی گزاری اور جرنیلی شان سے قبر میں اترے۔ ضیاءالحق نے جمہوریت پر شب خون مارا۔ ملک کے مقبول ترین لیڈر کو پھانسی دی۔ ہزارہا لوگوں کو قید کیا، کوڑے لگائے، بیسیوں بے گناہوں کو پھانسی چڑھایا۔ گیارہ سال ملک پر زبردستی قابض رہے۔ طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہوئے تو اسلام کے ہیرو قرار پائے اور فیصل مسجد کے نواح میں دفن ہوئے۔ ان کے ظلم کا نشانہ بننے والے لاکھوں افراد حسرت سے دیکھتے رہ گئے۔
جنرل پرویز مشرف نے 12 اکتوبر 1999ءکو آئین کے آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کرکے اقتدار پر قبضہ کیا۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کو گرفتار کرکے جیل میں ڈالا پھر جلاوطن کر دیا۔ پی سی او نافذ کرکے اپنے ناپسندیدہ ججوں کو فارغ کیا۔ ضیاءالحق جیسا ریفرنڈم کرایا اور خود ہی فیصلہ کر لیا کہ وہ صدر منتخب ہو گئے۔ معطل اسمبلیاں توڑنے کے بعد 2002ءمیں عام انتخابات کرائے اور ہارس ٹریڈنگ کرکے اپنی مرضی کی حکومت بنا لی۔ 9 مارچ 2007ءتک وہ اطمینان سے حکومت کرتے رہے حالانکہ انہوں نے دہشت گردی کی جنگ میں اندھا دھند کود کر اپنے ملک کو خودکش بمباروں کی قتل گاہ بنا دیا تھا۔ انہوں نے چیف جسٹس افتخار چودھری کو برطرف کرنا چاہا تو پہلے وکلاءاور پھر عوام سڑکوں پر آئے۔ 20 جولائی کو چیف جسٹس کی بحالی کے بعد سپریم کورٹ نے نظریہ ضرورت دفن کیا اور افتخار محمد چودھری صاحب بحال ہو گئے۔ مشرف صاحب وردی میں مزید 5 سال کیلئے منتخب ہونا چاہتے تھے لیکن سپریم کورٹ راستے کی رکاوٹ بن گئی۔ انہوں نے آرمی چیف کے عہدے کو بنیاد بنا کر دوبارہ آئین توڑا اور افتخار چودھری صاحب سمیت سپریم کورٹ وہائی کورٹس کے 60 ججوں کو برطرف کر دیا۔ لال مسجد میں قتل عام کروایا۔ اکبر بگٹی سمیت بلوچستان میں اور وزیرستان میں ہزاروں انسانوں کو ہلاک زخمی اور گرفتار کیا۔ صدر منتخب ہونے کے بعد وردی اتاری تو انتخابات کا کنٹرول ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔ پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) اور دوسری مشرف مخالف طاقتیں دوتہائی سے اکثریت سے جیت کر اسمبلیوں میں آئیں لیکن وہ صدارت چھوڑنے کیلئے تیار نہیں تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مواخذے کی نوبت آئی۔ چاروں صوبائی اسمبلیوں سے مخالفانہ قرار دادوں کے بعد ان کی اخلاقی بنیاد بالکل منہدم ہو گئی۔ اس کے باوجود وہ صدارت چھوڑنے کی بجائے ”نیا انقلاب“ برپا کرنے کیلئے تیار تھے۔ انہیں اسمبلیاں توڑنے سے روکنے کیلئے آصف زرداری سے ان کی ڈیل کرائی، جس کے ذریعے استعفے کے عوض یہ ضمانت دی گئی کہ ان سے ماضی کے مظالم اور آئینی جرائم کا حساب نہ لیا جائیگا۔
مشرف صاحب گارڈ آف آنر اور تینوں مسلح افواج کے سربراہوں سے سلامی لیکر ایوان صدر سے رخصت ہوئے۔ آجکل اپنے کیمپ ہاﺅس میں چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔ ٹینس کھیلتے ہیں اور دوستوں سے گپ شپ کرتے ہیں۔ چک شہزاد میں ان کی رہائش گاہ تعمیر و تزئین کے آخری مراحل میں ہے۔ وہ فی الحال ملک سے باہر جانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ یہیں بیٹھ کر حکومت اور قوم کی بے بسی سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں۔
ایک قوم کے طور پر ہمارا المیہ دیکھئے کہ ہم اپنے چوتھے فوجی ڈکٹیٹر سے بھی آئین توڑنے کا حساب نہیں لے سکے۔ لاکھوں آدمیوں نے یہ خواب دیکھے تھے کہ اس بار آئین توڑنے کے جرم کا نہ صرف مقدمہ چلے گا بلکہ مجرم کو سزا بھی ہو گی۔ یہ خواب اس لئے پورا نہیں ہو سکا کہ ہمارے جیسے ملکوں کی حقیقتیں ہمیشہ خوابوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور ہوتی ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ ہم مشرف صاحب کا کچھ نہیں بگاڑ سکے نہ بگاڑ سکیں گے۔