گریبان.... منو بھائی
جن بزرگوں نے اولاد کو اپنے اعمال صالحہ کے ذریعے سکھایا ہو کہ جو کوئی تم سے رشوت قبول نہیں کرے گا اس پر ہرگز اعتبار نہیں کیا جا سکے گا اُن کے بچے بڑے ہو کر یہ کبھی نہیں پوچھیں گے کہ اُن کے خلاف مقدمہ کیا ہے؟ وہ صرف یہ معلوم کرنا چاہیں گے کہ مقدمہ کون سی عدالت میں ہے یعنی کس کی عدالت ہے؟ اور پھر اپنے خلاف کیس سے گلوخلاصی کے لئے ”بریف کیس“ پر توجہ دیں گے۔ اُن کے بہترین مفاد میں ہو گا کہ جیسے تعلیم اور صحت کی نجکاری کے ذریعے ان دونوں کے حصول کا تعلق لوگوں کی قوتِ خرید کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے ویسے ہی انصاف بھی منڈی کی جنس بن جائے اور بوقتِ ضرورت خریدا اور بیچا جا سکے۔ اس سے بھی بہتر صورت حال، قوت خرید رکھنے والوں کے لئے یہ ہو سکتی ہے کہ اُنہیں انصاف حاصل کرنے یا خریدنے کے لئے کسی ”وچولے“ آڑھتی یا وکیل کی ضرورت ہی نہ پڑے اور سب کام خود بخود ”ڈائریکٹ ڈائیلنگ“ اور ”ون ونڈو آپریشن“ کے تحت ہو جائے۔ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ چوکھا آئے۔ سیاں کوتوال نہ بن سکیں تو کوتوال کو سیاں بنا لیا جائے۔
سابق جرنیل صاحب کی حکومت کے وزیراعظم یا پرائم فنانس منسٹر جناب شوکت عزیز کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے ”آزاد“ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے تصور کو ”نجی شعبہ“ کے مرکزی بینک کے تصور میں بدل کر اسکی ”پرائیویٹائزیشن“ کر دی تھی۔ کچھ سیاسی عناصر اُن کی تقلید میں ”آزاد عدلیہ“ کے تصور کے ساتھ بھی وہی سلوک کرنا چاہتے ہیں جو سابق پرائم فنانس منسٹر نے قومی معیشت کے ساتھ کیا تھا۔
بتایا جاتا ہے کہ اُن کی (شوکت عزیز کی) خداداد صلاحیتوں اور خود ساختہ خوبیوں کا کرشمہ ہے کہ معیشت کی پیچیدگیوں اور سرمایہ کاروں کی چکر بازیوں سے مکمل طور پر نابلد جرنیل اُن کی خوش کلامی اور چرب زبانی سے متاثر ہو کر اُن کے تقریباً چیلے بن گئے۔ بلی کے بھاگوں گیارہ ستمبر 2001ءکا چھینکا ٹوٹا اور غیر ملکی قرضوں کی ”ری شیڈولنگ“ کے ذریعے غیر ملکی قرضوں کا کشکول ٹوٹنے کے ذریعے غیر ملکی کرنسی کے خزانے بھرے جانے لگے تو جرنیل صاحب خوشی سے اپنی وردی میں پھولے نہ سمائے اور جناب پرائم فنانس منسٹر نے اپنے ہاتھ کی صفائی سے اُن تمام خرابیوں اور پریشانیوں کی ٹھوس بنیادیں رکھنے میں کامیابی حاصل کر لی جو فروری 2008ءکے ”صاف شفاف“ عام انتخابات سے پہلے اور وزیراعظم کے ملک سے راہ فرار اختیار کرنے کے فوراً بعد آٹے، تیل اور بجلی کے خوفناک بحران اور ضروریات زندگی، بے پناہ مہنگائی اور پاکستانی روپے کی انتہائی شرمناک بے قدری کی صورت میں اُبھر کر سامنے آ گئیں اور جرنیل صاحب کے تین مرتبہ پاکستان طلب کرنے کے باوجود شوکت عزیز صاحب نے پاکستان تشریف لانے کا خطرہ مول نہ لیا جانتے ہوں گے کہ جرنیل صاحب کی کارکردگی تو ”مواخذے“ سے بچ جائے گی مگر اُن کی کارستانیوں کے لئے ان کا یقینی طور پر ”مونڈن“ ہو جائے گا۔
معلوم نہیں یہ محض افواہ تھی یا واقعی صدر جنرل ایوب خان نے ایک آرڈیننس ”مشکلات کو دور کرنے کے آرڈیننس“ کے عنوان سے بھی تیار کروایا تھا کہ جس کے تحت کسی بھی مشکل کو دور ہو جانے کا حکم جاری کر دیا جائے گا اور اُس مشکل کے لئے لازمی ہو گا کہ خودبخود دور ہو جائے مگر اُن کے بعد سیاسی اقتدار پر قبضہ کرنےوالے تیسرے فوجی آمر نے قومی سیاست میں ”بریف کیس“ کے ذریعے مشکلات دور کرنے والے سیاست دانوں کو متعارف کرایا اور اُن کو ملک کے عوام دوست اور بنیادی عوامی مسائل حل کرنے والے بالغ نظر اورترقی پسند عناصر کی سرتوڑ مخالفت کر کے ملک کے قدامت پرستوں اور انقلاب دشمنوں کی زیادہ سے زیادہ حمایت اور ہمدردی حاصل کرنے کا سبق دیا اور یوں ملک کے دو بنیادی سیاسی عناصر کے درمیان تصادم کی فضا پیدا کر کے اپنے اقتدار کو زیادہ سے زیادہ طول دینے کی کامیاب کوشش کی۔
تب سے اب تک کے عرصے میں کم از کم ایک ربع صدی پھیلی ہوئی ہے اور اس ربع صدی کے دوران پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزرچکا ہے اور بہت سے پلوں کے نیچے تو محض ریت اڑتی ہے۔ زمانے کی تیز رفتاری کی وجہ سے 25 سال پہلے بہت سے مفروضے کثرتِ استعمال سے ناکارہ ہو چکے ہیں۔ ان میں ایک ”تصادم کی پالیسی“ کے مقبول ہونے کا مفروضہ بھی ہے جو ناکارہ ہی نہیں ناکام بھی ثابت ہو چکا ہے۔ قومی سیاست کے سفر میں اگر میاں نوازشریف 25 سال پیچھے ہیں تو سینیٹر آصف علی زرداری ساڑھے گیارہ سالوں کی قید کے دوران ایسے بے شمار لمحوں سے گزر چکے ہیں جن کے بارے میں احمد ندیم قاسمی نے کہا تھا کہ
کچھ ایسے دور میں پیدا ہوئی ہے پود اپنی
کہ ایک پل میں زمانے گزرتے دیکھے ہیں