اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 04 Sep 2008 05:41:00

آصف زرداری فٹ ہیں

آصف زرداری فٹ ہیں
اور پھر بیاں اپنا.... قمر علی عباسی
ہم دوست رشتے دار جان پہچان والوں کے مبارکباد کے فون وصول کر رہے تھے، مٹھائی بانٹ رہے تھے، گھی کے چراغ جلا رہے تھے ، اپنی قسمت پر نازاں تھے کہ ظالم مغرب کو ہماری یہ مسرت ایک آنکھ نہ بھائی اور وہ کیا جو ایک بدترین دشمن بھی نہیں کرتا۔
ہماری خوشی اور اس فخر کی بات یہ تھی کہ پہلی مرتبہ پاکستان کو ایک ذہین، سمجھدار، معاملہ فہم، سلجھا ہوا جناب آصف زرداری جیسا سیاست دان ملا اور پوری قوم انہیں سرپر اٹھائے اٹھائے پھرتی ہے اور ملک کا صدر دیکھنا چاہتی ہے۔ اسی وقت برطانیہ کے سب سے بڑے اخبار فنانشل ٹائمز نے یہ انکشاف کیا ہے کہ جناب آصف زرداری گزشتہ سال ستمبر میں سنگین نفسیاتی بیماریوں کا شکار تھے انہیں ڈی منیشیا تھا جس میں یادداشت چلی جاتی ہے یہ سرٹیفکیٹ دبئی، امریکہ اور برطانیہ کے طبی ماہرین نے دیئے تھے حکومت پاکستان نے جب برطانوی عدالت میں جناب آصف زرداری کی جائیداد ضبط کرنے کا مقدمہ دائر کیا اور عدالت نے انہیں بلوایا تو ان کے وکیل نے طبی ماہرین کے سرٹیفکیٹ عدالت میں جمع کروائے جن کے مطابق ان کی یادداشت چونکہ خراب ہو چکی ہے ڈپریشن اور ذہنی دباﺅ کا شکار ہیں اس لئے عدالت میں حاضر نہیں ہو سکتے۔ امریکہ کے ایک ڈاکٹر نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ مارچ 2007 ءمیں وہ ایک موقع پر اپنے اہل خانہ کو بھی بھول گئے تھے۔
برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر ممتاز صحافی جناب واجد شمس الحسن نے اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آصف زرداری 1990 ءسے 1993 ءتک اور 1997 ءسے 2004 ءتک جیل میں رہے اور انہیں ناکردہ گناہوں کا اعتراف نہ کرنے پر تشدد اور سخت تکلیف پہنچائی گئی وہ کسی بھی بڑے عہدے کیلئے ”فٹ“ ہیں۔
امریکہ بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں رہا اس نے اپنے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب زلمے خلیل زاد کو آصف زرداری سے براہ راست رابطے اور مشورے دینے پر جواب طلب کیا ہے۔ یہ بھی خبر ہے کہ اگلے ہفتے زلمے آصف زرداری سے ملاقات کرنے دبئی جا رہے تھے۔ امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ باﺅچر نے ان کی دبئی ملاقات تو منسوخ کرا دی ہے اور اب اس بات کی توقع کی جا رہی ہے کہ زلمے کی گوشمالی کی جائے گی لیکن لوگوں کے دلوں میں یہ بات کسی نہ کسی طرح بیٹھ جائے گی کہ جناب آصف زرداری کے امریکہ سے مسلسل رابطے ہیں۔
زندگی میں بہت سے ایسے موقع آتے ہیں جب انسان کسی کام سے بچنے کیلئے کوئی غلط قدم اٹھا لیتا ہے پاکستان میں ایسے لوگ ان گنت ہوں گے جنہوں نے دفتر سے چھٹی لینے عدالت میں حاضر نہ ہونے اور کوئی مالی فائدہ حاصل کرنے کیلئے ڈاکٹر سے سرٹیفکیٹ لیا ہو گا ہمیں یقین ہے جناب آصف زرداری نے کس وجہ سے عدالت کی حاضری سے بچنے کیلئے اس قسم کے سرٹیفکیٹ لئے ہوں گے۔
ہمارے آفس میں ایک خاتون کسی مجبوری کی وجہ سے ملازمت سے ریٹائرمنٹ چاہتی تھیں جس کی وجہ سے انہیں اس وقت بڑی رقم اور پنشن مل سکتی تھی لیکن عام حالات میں یہ ممکن نہیں تھا ایک جہاں دیدہ شخص نے مشورہ دیا وہ میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش ہو جائیں اور کہیں میری یادداشت اکثر گم ہو جاتی ہے انہوں نے ایسا ہی کیا۔ میڈیکل بورڈ نے انہیں ذہنی مریضہ قرار دے کر ریٹائرمنٹ کی سفارش کر دی آج کل وہ انتہائی ”سوجھ بوجھ“ کی زندگی گزار رہی ہیں۔
اردو کے بیشتر شاعروں کو اپنے محبوب ڈی منیشیا کے مریض نظر آتے ہیں کیونکہ وہ انہیں بھول جاتے ہیں اور اسے ادبی زبان میں حسینوں کی ادا کہا جاتا ہے۔ بڑے لوگوں کے بارے میں بھی یہی مشہور ہے کہ وہ اپنے سے کمتر غریب اور نادار لوگوں کو بھول جاتے ہیں۔ جمہوریت میں وہ راہنما سب سے اچھا سمجھا جاتا ہے جو انتخاب جیت کر عوام سے کئے ہوئے وعدے بھول جائے انہیں آج تک کسی نے ڈی مینشیا کا مریض قرار نہیں دیا ہم بھی کتنے ہی لوگوں کو بھول جاتے ہیں کہ وقت اور حالات کا یہی تقاضہ ہوتا ہے۔ بھول جانا ایک اچھی بات ہے جہاں تک بیوی بچوں کو بھول جانے کا تعلق ہے اس کیلئے محسن بھوپالی نے کہا تھا
نہ دیکھا جان کے اس نے کوئی سبب ہو گا
اسی خیال سے ہم دل برا نہیں کرتے
ہم اسے ایک اچھا سیاست دان سمجھتے ہیں جو قوم کے غم میں عوام کی خدمت کیلئے اپنے بیوی بچوں کو بھی بھول جائے۔
برطانیہ کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے جب کہہ دیا کہ جناب آصف زرداری ”فٹ“ ہیں تو کسی کو شک و شبے کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے ہم سمجھ رہے ہیں کہ جناب آصف زرداری کی یادداشت گم ہونے کی خبر صرف اس لئے جاری کی گئی ہے کہ پاکستان کے صدر کو نااہل قرار دینے کیلئے پہلی دو شرطیں ذہنی اور جسمانی طور پر بیمار ہونا ہیں۔
18فروری کے بعد جناب آصف زرداری نے جس سوجھ بوجھ، عقل و فراست، دانشمندی برداشت ،معاملہ فہمی کا مظاہرہ کیا ہے اور میاں نوازشریف کو موافقت سے مخالفت کی طرف لے گئے ہیں اسے دیکھنے کے بعد ہم یہ تمنا کریں گے کہ سیاست میں ایسے لوگ پاکستان میں کئی اور پیدا ہو جائیں اور اگر یہ ڈی منیشیا ہے تو راہنماﺅں کو کسی نہ کسی طرح اس بیماری کو گلے لگانا چاہئے۔

5 / 5 (1 Votes)







  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: air purifier