اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

 
Thu, 04 Sep 2008 05:40:00

نوازشریف بھی اس گناہ میں برابر ہی کے شریک ہیں؟

نوازشریف بھی اس گناہ میں برابر ہی کے شریک ہیں؟
(ملک سلیم اکبر)
کیا یہ بات آپ کو عجیب و غریب نہیں لگ رہی کہ پی پی پی کے صدارتی امیدوار آصف علی زرداری کے بارے میں امریکی اور یورپی اخبارات میں اوسطاً طور پر محض چار دنوں میں ساڑھے تین ہزار خبریں شائع ہوئی ہیں جن میں ان کے دماغی خلل یعنی دماغی حالت سے لیکر آصف علی زرداری کی کرپشن کے معاملات تمام تر شواہد اور ثبوتوں کے ساتھ شائع ہوئے ہیں جسے پی پی پی آصف علی زرداری کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈہ قرار دے رہی ہے، لیکن یہاں Million Dollor Question ہی یہ رہ جاتا ہے کہ آصف علی زرداری کے خلاف شائع ہونیوالی ان عالمی خبروں سے امریکہ اور یورپ کے اخبارات کو بھلا ذاتی طور پر کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟ اگر یہ پاکستانی اخبارات کی ”من گھڑت“ کہانیاں ہوتیں تو ہم کہہ سکتے تھے کہ نوازشریف یا مشاہد حسین کی (ق) لیگ جان بوجھ کر یا صحافیوں کو خرید کر آصف علی زرداری کی ”نیک نامی“ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن معاف کیجئے، گستاخی معاف، ماضی کے اخبارات گواہ ہیں کہ آصف علی زرداری کو ہمیشہ کرپشن کا بادشاہ قرار دیا گیا۔ محترمہ کی حکومتوں میں آصف علی زرداری نے ہمیشہ ہر حکومتی سودے ،ہر حکومتی خریداری میں کم از کم 10 پرسنٹ کمیشن اپنے ذاتی اکاﺅنٹس میں جمع کروائی۔ یوں آصف علی زرداری مسٹر ٹین پرسنٹ کے بدنام زمانہ نام سے عالمی دنیا میں مشہور ہوئے اور عالمی اخبارات میں شائع ہونیوالے تبصروں کے مطابق اب مسٹر ٹین پرسنٹ کے بجائے اب مسٹر ہنڈرڈ پرسنٹ بننے جا رہے ہیں۔ جس سوئس عدالت سے آصف علی زرداری کو بری کرکے آصف علی زرداری کے منجمد ہونیوالے 65 ملین ڈالر بحال کئے گئے ہیں، اب اسی عدالت کے جج نے عالمی اخبارات کو بیان دیا ہے کہ آصف علی زرداری اس کرپشن کیس میں سزا کے مستحق تھے اور آصف علی زرداری کو ہر حال میں سزا بھی ہونی چاہئے تھی اور ان کے منجمد اثاثے بھی بحال نہیں ہونے چاہئیں تھے لیکن مشرف حکومت کے اٹارنی جنرل نے خود ہی یہ کیس واپس لینے کی درخواست دی تھی لہٰذا عدالت کو مجبوراً یہ کیس خارج کرنا پڑا۔ حیرت ہے کہ عدالت کا جج اپنے ضمیر کے مطابق یہ کہہ رہا ہے کہ آصف علی زرداری کرپشن کے کیس میں سزا وار تھے لیکن مشرف حکومت نے این آر او کے تحت آصف علی زرداری کے 100 ملین ڈالر سے زیادہ کی کرپشن معاف کردی۔ حیرت ہے، افسوس ہے، تعجب ہے کہ غریب عوام آٹے کیلئے ترس رہے ہیں اور حکمرانوں کے کروڑوں ڈالر کی کرپشن ہماری حکومت اور ہمارے حکمران محض اپنے اقتدار کو دوام دینے کیلئے کروڑوں ڈالر کی کرپشن کو معاف کررہے ہیں۔ کوئی چاہے یا نہ چاہے آصف علی زرداری صدر پاکستان کے باعزت منصب پر فائز ہونیوالے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر جاوید ہاشمی اور جماعت اسلامی کے قاضی حسین نے بھی بالآخر یہ کہہ دیا ہے کہ اگر آصف علی زرداری منتخب ہوئے تو وہ صدر کے طور پر قبول ہوں گے۔ 718-692-0707 پر دوپہر بارہ بجے سے شام ساڑھے سات بجے تک فون کرکے یا پاک یو ایس ٹریول ایٹ g میل ڈاٹ کام پر ای میل کرکے بتائیں کہ نوازشریف ہی کے دور حکومت میں زرداری کیخلاف مقدمات بنے تھے اور انہیں مسٹر ٹین پرسنٹ کا بدنام زمانہ خطاب ملا تھا تو اب کس منہ سے نوازشریف کا آصف علی زرداری سے اتحاد چل رہا ہے؟ قانون تو یہ کہتا ہے کہ مجرم کا ساتھی بھی برابر ہی کا مجرم اور سزاوار ہوتا ہے۔ ہماری ذاتی رائے میں تو اصل مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے نوازشریف، آصف زرداری نے مل جل کر یہ صدارتی انتخاب میں آصف علی زرداری کی صدارت کے مسئلے کو اس قدر بڑا ایشو بنا رکھا ہے ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ آصف علی زرداری کو صدر صدر بنے بغیر اس وقت بھی ڈیفکٹو وزیراعظم اور پاکستان کے حکمران اعلیٰ کی حیثیت حاصل ہے۔ وہ پارٹی کے تمام فیصلے بھی خود کرتے ہیں اور حکومت کے تمام فیصلے بھی ایوان وزیراعظم کی بجائے زرداری ہاﺅس ہی میں ہورہے ہیں اور وزیراعظم یوسف گیلانی کے علم میں لائے بغیر آصف زرداری ہی تمام فیصلے کرتے ہیں تو پھر پاکستان کا صدر بن کر آصف علی زرداری کی ”پوزیشن“ میں بھلا کیا فرق پڑجائیگا؟ وہ اب بھی مسٹر ہنڈرڈ پرسنٹ ہیں اور صدر پاکستان بن کر بھی ”ہنڈرڈ پرسنٹ“ ہی رہیں گے البتہ آصف علی زرداری کو سرخاب کے پَر لگانے میں میاں محمد نوازشریف بھی برابر کے گناہگار ہیں جبکہ آصف علی زرداری نوازشریف کو ابھی بھی ”نابالغ“ ہی سمجھتے ہیں۔ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ عوام ہمارے بالغ النظر ضرور ہیں۔
پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد
٭٭٭










 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier