اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

 
Thu, 04 Sep 2008 05:38:00

ہمارا ملک پاکستان کسی کی ذاتی جاگیر نہیں!!!

ہمارا ملک پاکستان کسی کی ذاتی جاگیر نہیں!!!
ظہیرالدین بٹ
صدارتی الیکشن جو 6 ستمبر کو ہونے جا رہے ہیں چہ جائیکہ اس کی ووٹنگ خفیہ ہوگی اور ہر رائے دہندہ اپنی مرضی کے کینیڈیٹ کو ووٹ ڈالے گا۔ لیکن ایک بات تو بالکل واضح ہو کر سامنے آگئی ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے کو چیئرمین آصف علی زرداری کی کامیابی یقینی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار سعیدالزمان صدیقی اور پاکستان مسلم لیگ ق کے امیدوار مشاہد حسین بھی بھرپور انداز میں الیکشن مہم چلا رہے ہیں۔ وہ تو اپنے آپ کو اس عہدے کے لیے اہل بھی کہہ رہے ہیں جبکہ دوسرے امیدواروں کو خصوصاً آصف علی زرداری کو چیلنج تک کر رکھا ہے کہ ان سے مقابلہ کرلیں اور حالات پر بحث مباحثہ کرلیں۔ لگتا ہے سب سیاسی شوشے ہیں۔ دونوں مسلم لیگیں اگر آپس میں اتحاد نہیں کر سکتیں اور ایک مشترکہ امیدوار نہیں لا سکیں اور متحد ہو کر الیکشن میں نہیں اتریں تو پھر آصف علی زرداری کا مقابلہ کیونکر کر سکیں گی۔ دونوں اگر مل جائیں تو کم از کم مقابلہ تو کانٹے دار ہو سکتا ہے اور ہار جیت میں فرق بھی نمایاں طور پر کم ہو سکتا ہے لیکن ہماری سیاست کا یہ حال ہے کہ ذاتی دشمنیوں کو ملکی مفاد پر ترجیح دیتے ہیں۔ بڑی مشکل سے فوجی حکومت سے چھٹکارا ملا ہے لیکن حسب سابق ہم پھر سے اشاروں کناﺅں میں فوج کو دعوت دینے لگے ہیں کہ ہم سیاستدان اس مقابل نہیں ہیں کہ حکومت چلا سکیں۔ میاں محمد نوازشریف کا بیان آیا ہے کہ پنجاب میں اگر ہماری حکومت کو گرانے کی کوشش کی گئی تو فوج خاموش تماشائی نہیں بنی بیٹھے گی۔ ایسی باتوں کا کیا مقصد ہے۔ میدان ہے اور گھوڑا بھی ہے کیوں نہ مقابلہ کیا جائے۔ ادھر یہ بھی خبر آئی ہے کہ آصف زرداری اور سعیدالزمان صدیقی کی اہلیت کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔ اب ان درخواستوں پر کیا فیصلہ ہوتا ہے وقت ہی بتائے گا ویسے مجھے نہیں لگتا کہ اس سے صدارتی الیکشن میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوگی۔ پاکستان پیپلزپارٹی کہہ رہی ہے کہ چونکہ پاکستان کی تین صوبائی اسمبلیوں میں آصف علی زرداری کے حق میں قراردادیں پاس ہوگئی ہیں تو انہیں ہارس ٹریڈنگ کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی وہ ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے سینٹ میں خطاب کے دوران کہا ہے کہ حکومت امریکہ کی نہیں بلکہ عوام کی پابند ہے۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو لیکن یقین نہیں آتا کیونکہ بڑے بڑے زور آور لیڈران بھئی اس کے آگے ہی جا کر جھکتے ہیں اور سلام کرتے ہیں۔ ویسے انہوں نے ایک بات اور بھی کی ہے کہ ججز کی بحالی کے بعد وہ دوبارہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت میں آنے کی دعوت دیں گے۔ کیا وہ یہ دعوت قبول کرلیں گے۔ مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ہوگا لیکن آج کل سیاست میں کچھ بھی بعید نہیں۔ ہر چیز ممکن نظر آ رہی ہے۔ میڈیا پر یہ بیان دونوں پارٹیاں دے رہی ہیں کہ وہ مرکز میں یا پھر پنجاب میں کسی کی حکومت کو بھی غیر مستحکم نہیں کیا جائے گا لیکن اندر کھاتے دونوں ہی اسی پر کام کر رہی ہیں۔
رمضان المبارک شروع ہو چکا ہے عوام مہنگائی کی وجہ سے پس رہے ہیں۔ آٹا نہیں مل رہا اور بجلی کی لوڈشیڈنگ سے لوگوں کو تو جو مشکلات ہیں کارخانوں اور فیکٹریوں کی کیا حالت ہوگی جہاں پر لوگوں کو روزگار میسر آتا ہے۔ تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور دہشت گردی کا مسئلہ تو گلے کو آگیا ہے۔ صدارتی الیکشن کے بعد حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر اور ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات اٹھائے اور عام لوگوں کو ریلیف دینے کے لیے کام شروع کرے۔ سیاست بہت ہو چکی اور سیاسی انتقام کو درگزر کرتے ہوئے حقیقتاً عوام کی خدمت میں جٹ جانا ہوگا۔
ہمارا پیارا ملک پاکستان کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہے کہ اس پر ہر کوئی اپنی ملکیت جتاتا پھرے۔ یہ دراصل غریب عوام اور ان لوگوں کی قربانیوں کی وجہ سے ملا تھا جن کے خاندان کے خاندان تباہ ہوئے اور جو اپنے گھروں کو خیرباد کہہ کر ملک پاکستان آئے۔ صرف اس لیے کہ وہ اپےن مذہب اور آزادی اور سکھ کا سانس لے سکیں لیکن چھ دہائیاں گزرنے کے باوجود ہم وہ مقصد نہ حاصل کر سکے جس کے لیے خون کے دریا پار کیے گئے۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنا قبلہ درست کرلیں اور عوام کی خدمت اور ملک کی ترقی اور خوشحالی کا جذبہ دوبارہ سے زندہ کرلیں۔










 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier