اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

 

بیگم فریدہ شبیر احمد (فلوریڈا)

تو کہ ناواقف آداب غلامی ہے ابھی
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے
دبئی سے ”خلیج ٹائمز“ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر جناب اعجاز ذکاءسید نے اپنا شائع شدہ مضمون ای میل پر بھیجا ہے۔ انگریزی سے اردو ترجمہ آپ کیلئے ہم نے کیا ہے اور حاضر خدمت ہے۔ اس کالم کا عنوان بے خیروعافیت بھی ہوسکتا تھا کیونکہ یہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں ہے۔
ڈاکٹر عافیہ ایک ممتاز پاکستانی نیورو سائنٹسٹ ہیں جو امریکہ میں پروان چڑھیں۔ انہوں نے امریکہ کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کی اور ہمیشہ صف اول کی طالبہ رہیں۔ 11 ستمبر 2001ءکے سانحہ کے بعد انہیں ان کے شوہر اور تین بچوں کو امریکہ چھوڑ کر پاکستان جانا پڑا کیونکہ ان پر طرح طرح کے شکوک و شبہات کئے جارہے تھے۔ تین ننھے بچوں والا یہ گھرانہ پرامن شہریوں کی طرح کراچی میں مقیم تھا۔ مارچ 2003ءمیں ایک دن یہ ذہین و فطین خاتون اپنے ننھے بچوں کو بزرگوں سے ملانے بذریعہ ہوائی جہاز اسلام آباد جانے کیلئے کراچی ائرپورٹ پہنچی۔ پھر پانچ برس گزر گئے اور ان کا کچھ اتہ پتہ نہ ملا۔ اس دوران ان کا گھرانہ اور عزیز و اقارب جس ذہنی اذیت سے گزرے ہوں گے اس کا تصور بھی محال ہے۔ اس دوران ایسی خبریں آتی رہیں کہ افغانستان کی بگرام جیل میں راتوں کو ایک خاتون کی چیخ و پکار اور اردو میں دہائی سنائی دیتی ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کے گھرانے کا خیال تھا کہ یہ عافیہ ہی ہوسکتی ہے۔
پچھلے دنوں نیویارک کی ایک عدالت میں اچانک ڈاکٹر عافیہ دیکھی گئیں بحیثیت ایک ملزمہ کے۔ ان کی حالت سے تشدد صاف ظاہر تھا، منہ سے لہو بہہ رہا تھا، نہ ان سے ٹھیک طرح چلا جاتا تھا اور نہ بولا جاتا تھا۔ کہا گیا کہ ڈاکٹر عافیہ نے امریکی فوجیوں اور ایف بی آئی ایجنٹوں پر جدید ترین بندوق سے حملہ کیا تھا۔ امریکی ذرائع نے یہ بھی کہا کہ وہ صرف پچھلے ماہ گرفتار ہوئی ہیں جب وہ غزنی کے گورنر کے دفتر میں ایک بیگ لیکر داخل ہوئیں جس میں مشتبہ مائع جات کی ٹیوبیں تھیں۔ جب امریکی فوجی اور ایف بی آئی کے افسر عافیہ سے تفتیش کرنے پہنچے تو عافیہ نے ان پر پراسرار اسلحہ سے حملہ کردیا۔ خلیج ٹائمز کے ایڈیٹر کا کہنا ہے کہ یہ اسلحہ کسی نے الزام تراشی کیلئے ان کے پاس رکھ دیا تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ عافیہ نے فائرنگ کے بہت سے راﺅنڈ چلائے مگر حیرت ہے کہ کوئی شخص زخمی تک نہ ہوا البتہ بے چاری کے سینے میں گولی مار دی گئی۔ اس وقت وہ نیم زندہ، نیم مردہ حالت میں ہیں لیکن عدالت کے حکم کے باوجود نہ ہسپتال میں داخل کیا گیا نہ کوئی علاج مہیا کیا گیا۔ بے چاری ڈاکٹر عافیہ اتنی زخمی اور بیمار ہیں کہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں اور ان پر الزام کیا ہے؟ ایڈیٹر نے یہ بھی لکھا ہے کہ مجھے حیرت ہے کہ وہ انچ سال تک کہاں چھپی رہیں اور اپنے تین ننھے بچوں کے ساتھ اتنی دور صوبہ غزنی کیسے پہنچ گئیں اور اگر وہ واقعی القاعدہ کی ممبر ہیں تو اتنے برسوں سے انہیں عدالت میں کیوں پیش نہیں کیا گیا؟ ان پر امریکی فوجیوں پر حملہ کرنے کا جو الزام ہے، ایک دھان پان نازک سی لڑکی اتنی جرا¿ت کیسے کرسکتی تھی؟ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ حکومت پاکستان کو عافیہ کی افغانستان میں گرفتاری اور پھر امریکہ بھیج دینے پر مطلع کیوں نہیں کیا گیا؟ کیا یہ ممکن ہے کہ پاکستان کی لیڈر شپ نے اس تین بچوں کی 31 سالہ ماں کی گرفتاری میں خود حصہ لیا ہو؟
جو کچھ ہورہا ہے وہ امریکی آئین اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کے عین خلاف ہے۔ آپ ایک معصوم شادی شدہ خاتون کو اس کے بچوں سمیت اغوا کرلیں، پانچ سال تک جیل میں رکھیں اور لاقانونیت سے بھرپور افغانستان میں کسی عدالت میں بھی پیش نہ کیا جائے۔ ڈاکٹر عافیہ کی امریکی وکیل کہتی ہیں کہ بدیر سہی لیکن اب بھی ان کا قصہ اس لئے سامنے آیا ہے کہ مشہور برطانوی صحافی خاتون ”ایوون رڈلی“ ان کے بارے میں مسلسل تحریک چلاتی رہی ہیں۔ ایوون رڈلی وہی خاتون ہیں جنہیں 2001ءمیں طالبان نے گیارہ دن تک قید رکھا تھا اور وہ ان کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر مسلمان ہوگئی تھیں۔ رڈلی اپنی تحریک کو ”پنجرے کی قیدی“ کا نام دیتی ہیں۔ پنجرے کی یہ قیدی نمبر 650 ڈاکٹر عافیہ کو افغانستان میں امریکی ہوائی اڈے ”بگرام“ میں قید تنہائی میں رکھا گیا اور پانچ برس تک مسلسل اذیتیں دی گئیں۔ رڈلی کے ایک برطانوی ساتھی معظم بیگ نے جو انہی دنوں بگرام میں قید رہ چکے تھے، رڈلی کو راتوں کو ایک عورت کی چیخ و پکار سے آگاہ کیا۔ ایوون رڈلی کہتی ہیں کہ اپنی تحقیق کے بعد انہیں یقین ہوا کہ یہ چیخیں ڈاکٹر عافیہ ہی کی تھیں اور قیدی نمبر 650 ان کے سوا کوئی نہیں۔ پاکستانی پریس اور ایوون رڈلی کی تحریک نے قیدی نمبر 650 کا راز افشاءکیا تو حبس بے جا میں رکھنے والوں نے سوچا کہ راز کھلتا جاتا ہے لہٰذا عافیہ کو امریکہ ٹرانسفر کردیا جائے۔ اس دوران جسمانی اور ذہنی اذیت اور جنسی جرائم کی داستانیں بھی عام ہوتی گئیں۔ ”خلیج ٹائمز“ کے ایڈیٹر لکھتے ہیں کہ یقین نہیں آتا کہ آج کے دور میں سب سے زیادہ تہذیب یافتہ کہلانے والا ملک ایک ایسی بے کس اور بے گناہ خاتون پر اس طرح کے ظلم کرسکتا ہے۔ اگر یہ سلوک ایک امریکی تعلیم یافتہ سائنٹسٹ کے ساتھ ہوسکتا ہے تو کتنے ہی ان پڑھ اور غریب مرد اور عورتیں ہوں گے جنہیں پاکستان، افغانستان اور دیگر ممالک سے اغوا کیا گیا ہوگا اور ان کے ساتھ مظالم کئے جا رہے ہوں گے۔ ان بے چاروں کو تو کوئی ایوون رڈلی بھی میسر نہیں۔ وہ لوگ کس حساب میں گئے جو کیوبا میں امریکی جیل خانے گوانتاناموبے سے ہمیشہ کیلئے غائب ہوگئے۔ نہ ان پر مقدمہ چلا اور نہ کسی نے ان کی تلاش کی۔ کون جانے کہ اس طرح کے بلیک ہول دنیا میں کتنے ہیں اور کہاں کہاں ہیں؟
اسلام آباد، کراچی اور دیگر شہروں میں آج کل ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی حمایت میں مظاہرے جاری ہیں۔ بی بی سی کے مطابق ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ ہر بڑے مظاہرے میں حاضرین سے خطاب کرتی ہیں۔ بات صرف ایک مسلمان خاتون کی نہیں رہی، انسانی حقوق کی ایشیائی تنظیم نے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی اور امریکی کانگریس سے ان کی پانچ سالہ پراسرار گمشدگی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈاکٹر فوزیہ کہتی ہیں کہ مجھے اطمینان دلایا گیا تھا کہ اگر عافیہ امریکی تحویل میں ہیں تو ان کے ساتھ وہاں بدسلوکی نہیں ہوگی لیکن دیکھئے میری بہن کے ساتھ کیا ہوا ہے؟ کون سی بدسلوکی ہے جو امریکی جیل میں ان کے ساتھ نہیں کی گئی؟
پاکستان کی سینٹ میں بعض سنیٹرز نے پاکستانی شہری کی گرفتاری اور امریکی قید پر حکومت سے سوال کیا۔ (بی بی سی) قائد ایوان رضا ربانی نے حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کی گمشدگی اور گرفتاری سے موجودہ حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے لیکن حکومت اس معاملے پر اپنی پوری کوشش کررہی ہے اور وزیر خارجہ اس بارے میں امریکی انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
معزز قارئین! جو بھی ظلم ہوا اور ہورہا ہے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا کوئی تین بچوں کی ماں پر پانچ برس تک اذیت رسائی کے بعد اس کے گھرانے کے زخموں پر مرہم رکھ سکتا ہے؟مزید معلومات کیلئے آپ مندرجہ ذیل ای میل پر رابطہ کرسکتے ہیں۔ اردو یا انگریزی mustafvi@aol.com۔ دعاگو بیگم فریدہ احمد۔

 










© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: air purifier