ڈاکٹر شبیر احمد
صاحبو! جب ہم آج سے بھی بہت چھوٹے تھے تو محلے کے بڑے اکثر کہا کرتے تھے، یہ بچہ بڑا ہو کر کچھ بنے گا۔ ظاہر ہے کچھ تو بننا ہی تھا۔ پکوڑے والا بھی تو بن سکتا تھا لیکن خدا ہمارے بزرگوں کو شاداں و فرحاں رکھے کہ انہوں نے بہت بچپن میں ایک چراغ روشن کردیا۔ اس چراغ کی کرنیں دل کو بھی منور کرتی رہتی تھیں اور دماغ کو بھی۔ والد محترم نے کامیابی کا پہلا اصول سمجھایا، ”باادب بانصیب“ والدہ محترمہ نے ارشاد فرمایا
تمہارے کام جو اچھے تو نام اچھے ہیں
تمہارا آج بھی کل بھی تمام اچھے ہیں
خالہ جان محترمہ جو والدہ محترمہ سے کسی طرح کم نہیں، کہنے لگیں ”کام کرو ایسا جو لکھا جائے اور لکھو ایسا جو پڑھا جائے“ وہ یہ بھی اکثر فرماتیں ”شبیر! اگر کمشنر بن جائے یا وزیر و سفیر یا صدر ہوجائے تو مجھے خوشی نہ ہوگی، اسے ڈاکٹر بننا ہوگا“۔
لیجئے صاحبو! محبت کے ہاتھوں روشن کئے ہوئے اس چراغ کو ہم کئی نام دے سکتے ہیں۔ شوق، لگن، آرزو، تڑپ، محنت، امید
عطار ہو رازی ہو رومی ہو غزالی ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سحر گاہی
قصہ مختصر کہ ہم پکوڑے والے نہ بن سکے اور خدائے مہربان کا کتنا بڑا احسان ہے کہ ملک کے صدر اور وزیراعظم بھی نہ بنے، ڈاکٹر بن کر رہ گئے۔ کیا کمال کیا؟....ع
دماغ شہر فکر اور غموں کے گھر گلی گلی
ڈاکٹر بھی تو گلی گلی پائے جاتے ہیں۔ ڈاکٹروں کی بات آگے بڑھانے سے پہلے یہ غور فرمائیے کہ ہمارے بزرگوں کے ارشادات کتنے صاف ستھرے اور دوٹوک تھے۔ اب تفریح طبع کیلئے صدر امریکہ جناب بش ابن بش کے کچھ بیانات ملاحظہ فرمائیے۔ ان کے ایک سیاسی مخالف نے ایک سو بیانات کا گلدستہ بناکر شائع فرما دیا ہے تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ لیجئے چند ایک کا ترجمہ ملاحظہ کیجئے (پورے ایک سو بیانات آپ کی صحت کیلئے نقصان دہ ہونگے)
-1 مسئلہ یہ ہے کہ ہماری اکثر درآمدات دوسرے ملکوں سے آتی ہیں۔
-2 اگر ہم عراق میں کامیاب نہ ہوئے تو ناکام ہوجائیں گے۔
-3 میں ریاستوں کے گورنروں کو صرف یک لفظی نصیحت کرتا ہوں اور وہ ایک لفظ یہ ہے کہ ”دن ہو یا رات، دھوپ ہو یا بارش، صبح ہو یا شام، مشکل ہو یا آسانی، ہمہ وقت اپنے فرائض میں چوکس رہیں“ (صاحبو! الفاظ کی گنتی فرمالیجئے)
-4 میں نے ماضی میں ہمیشہ صحیح فیصلے کئے ہیں، میں نے مستقبل میں بھی صحیح فیصلے کئے ہیں۔
-5 ہمارا مستقبل کل بہتر ہوگا۔
-6 ہمارے امریکی لوگ امریکی ہیں۔
-7 میں نے آج تک جتنی غلط بیانیاں کی ہیں میں آج بھی ان پر قائم ہوں۔
-8 ہم نے یو این او سے پکے وعدے کئے ہیں، ہم یو این او کا حصہ ہیں۔ ہم نے یورپ سے پکے وعدے کئے ہیں، ہم یورپ کا حصہ ہیں۔
-9 جب الیکشن میں ووٹ کم پڑیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ لوگوں نے ووٹ نہیں ڈالے۔
-10 میں مضبوط رائے رکھنے والا آدمی ہوں لیکن میں اپنی رائے سے اتفاق نہیں رکھتا۔
-11 ہم ہر اس خطرے کیلئے تیار ہیں جو کبھی واقع نہ ہوگا۔
-12 میں یہ بات واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ٹیچر ہمارے بچوں کو پڑھاتے ہیں۔
-13 ماحول میں آلودگی کوئی مسئلہ نہیں البتہ ہوا اور پانی میں آلودگی ہمارا مسئلہ ہے۔
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
صاحبو! آپ سے کیا چھپانا؟ ہم ڈاکٹر بھی کبھی کبھی بونگی بات کرجاتے ہیں۔
چار ڈاکٹروں کی بے کار باتیں ملاحظہ فرمائیے۔ وہ ایک کار میں بیٹھے تھے....ع
چلتے چلتے مرے پگ ہارے
کے مصداق گاڑی کا ٹائر فلیٹ ہوگیا۔ جو ڈاکٹر صاحب ڈرائیو کررہے تھے، بولے گاڑی روکتا ہوں یار کچھ ہوگیا ہے۔ چاروں باہر نکل آئے۔ ایک صاحب بولے، ہاں! یہ پچھلا ٹائر فلیٹ معلوم ہوتا ہے۔ دوسرے ڈاکٹر صاحب نے گاڑی کا طواف فرمایا اور ٹائر کو ٹھوک بجا کر فرمایا، ٹھیک کہا ٹائر فلیٹ ہے۔ تیسرے بولے، تشخیص نہیں بنی، فلیٹ ہوا کیوں؟ کچھ دیر چاروں ڈاکٹر سوچ میں پڑ گئے۔ چوتھے ڈاکٹر قریب سے معائنہ کرتے ہوئے فرمانے لگے، دیکھو نا یار! اس میں کیل چبھا ہوا ہے۔ مزید ارشاد آیا لکڑی کے تختے پر چڑھا دی ہوگی گاڑی۔ ڈرائیور ڈاکٹر کہنے لگے، یار یہ الزام دینے کا وقت نہیں، علاج سوچو۔ اس تماشے میں آدھا گھنٹہ گزرا تو پولیس کار وہاں ٹھہر گئی۔ چاروں ڈاکٹر اپنے مریضوں کے بارے میں گفتگو کرتے رہے۔ انہیں یاد ہی نہ رہا کہ سب AAA کے ممبر ہیں
آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا
پولیس مین نے ایک فون کیا تو چاروں ایک ساتھ بولے، ہاں! ٹھیک ہے ٹائر بدلنا پڑے گا۔
ایک مریض ماہر نفسیات کے پاس پہنچا، ڈاکٹر صاحب! میری یادداشت کمزور ہے۔ ڈاکٹر نے پوچھا، کب سے؟ مریض نے کہا کوئئی تین چار برس سے کمزور ہے۔ ڈاکٹر صاحب بولے ”کیا چیز کمزور ہے؟“
ہماری ایک 90 سالہ امریکن مریضہ نے شکایت کی، ڈاکٹر صاحب! میرے دائیں گھٹنے میں درد رہتا ہے۔ ہم نے بحسن و خوبی معائنہ کرنے کے بعد فرمایا، ”محترمہ 90 سال کی عمر میں ایسا ہو ہی جاتا ہے“ وہ بولیں، ڈاکٹر صاحب میرے بائیں گھٹنے کی عمر بھی 90 سال ہے۔
ہمارے ایک ڈاکٹر دوست بہت خوب آدمی ہیں، بس ان کی یادداشت ذرا کمزور ہے۔
ایک دن بیگم نے کہا، دفتر سے آتے ہوئے دودھ کی بوتل اٹھاتے لائیے۔ میں اسٹیتھوسکوپ پر پرچی چپکا دونگی۔ ڈاکٹر صاحب شام کو خالی ہاتھ چلے آئے۔ بیگم پرچی چپکانا بھول گئی تھیں۔
ایک ڈاکٹر صاحب بہت مصروف دن گزار کر تھکے ہارے گھر پہنچے۔ مزاج چڑچڑا تھا۔ بیگم سے نوک جھوک ہوگئی۔ بیگم کے نام پرچی لکھی، مجھے صبح چھ بجے اٹھا دینا۔ آنکھ کھلی تو آٹھ بج چکے تھے او رسرہانے ایک پرچی رکھی تھی، چھ بج گئے ہیں اٹھ جائیے۔
صاحبو! قصے کہانیاں تو بہت لیکن خدا لگتی بات ہے کہ ڈاکٹری ہے بہت ہی معزز پروفیشن، اکثر لوگ اسے خشک پروفیشن سمجھتے ہیں لیکن اس میں ذرا دلچسپ واقعات پیش آتے ہیں اور مریض کے اچھا ہونے پر جو دلی اطمینان نصیب ہوتا ہے اسے بیان کرنا مشکل ہے۔ بلاشبہ تعلیم سے شروع ہو کر آخر تک میڈیسن میں محنت اور لگن اور دیانتداری کے بغیر بات نہیں بنتی
جچتے نہیں بخشے ہوئے فردوس نظر میں
جنت تری پنہاں ہے ترے خونِ جگر میں
آپ کہہ سکتے ہیں کہ اپنی چھاچھ کو کوئی کھٹا نہیں کہتا۔ جناب بش جیسا ہمارا جواب بھی سن لیجئے۔ کسی شخص سے پوچھ کر دیکھئے۔ بہت زیادہ امکان ہے کہ وہ اپنے ڈاکٹر کی تعریف ہی کریگا البتہ اس جواب میں ”بش رنگی“ یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر پسند نہ ہوتا تو وہ اس کے پاس جاتا ہی کیوں؟ میڈیکل پروفیشن میں مشکلیں بھی ہیں، سب سے بڑی دو مشکلیں ہیں۔
-1 دن ہو یا رات، اپنا ہو یا غیر، ڈاکٹر کو ہمہ وقت خدمت کیلئے تیار رہنا پڑتا ہے۔
-2 ہر چند کہ بے چارہ ڈاکٹر بھی انسان ہے اور انسان کو خطا کا پتلا کہتے ہیں لیکن ڈاکٹر کو خطا سے بالاتر سمجھا جاتا ہے۔ تیسری مشکل بھی شامل کرلیجئے۔ یہ پروفیشن بڑا ہی جذباتی معاملہ ہے۔ آپ کے گھر کی بجلی چلی جائے، پانی بند ہوجائے کوئی آپ سے ہمدردی نہ کریگا لیکن اگر سر میں ذرا درد ہوجائے اور ڈاکٹر کی کال فوراً نہ آئے تو ہاہاکار مچ جائے گی۔ آپ کو اللہ آبرو سے رکھے اور تندرست!“
٭٭٭