کنکریاں.... عباس اطہر
”آج اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرتا ہوں“۔
ایک زبان سے ایک جملہ نکلا اور پورے ملک کی ہیئت سر سے پاﺅں تک اور ایک سے دوسرے کونے تک تبدیل ہو گئی۔ اضطراب کی جگہ اطمینان نے لے لی۔ سٹاک مارکیٹ میں تیزی آئی اور ڈالر کی قیمت مزید بڑھنے کے بجائے ایک روپیہ بیس پیسے کم ہو گئی۔
شہر شہر گاﺅں گاﺅں لوگ ”گو مشرف گو“ کے نعرے لگاتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔ مٹھائیاں تقسیم ہوئیں اور بھنگڑے ڈالے گئے۔
سابق صدر کے قوم سے آخری خطاب کے پہلے حصے میں تھوڑی سی ”جرنیلی“ موجود تھی۔ جب وہ آخری حصے میں داخل ہوئے، ان کی آواز سے آنسو تھرتھرارہے تھے اور آنکھیں ڈبڈبائی ہوئی تھیں۔ ایوان صدر میں آخری گارڈ آف آنر لیتے وقت بھی پرویز مشرف صاحب کا پورا جسم سوگ اور رقت سے بوجھل بوجھل لگتا تھا۔ تینوں مسلح افواج کے سربراہوں نے انہیں خدا حافظ کہا۔ انہوں نے یقیناً ہر وردی کو حسرت بھری نظر سے دیکھا ہو گا اور اپنے اس دور کو بہت یاد کیا ہو گا جب وہ خود وردی میں تھے اور وقت ان کے گرد گھومتا تھا۔
اسرائیل سے عبرت ناک شکست کھانے کے بعد، جب مصر کے مرحوم صدر جمال عبدالناصر نے قوم سے آخری خطاب مکمل کیا۔ ایک خاتون اناﺅنسر کی سسکی سٹوڈیو سے ابھری اور پورا ملک سڑکوں پر نکل آیا تھا۔ صدر ناصر کو استعفٰی واپس لینا پڑا۔ ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے اپنے کارنامے بڑے فخر سے بیان کئے اور یہاں تک کہہ دیا کہ ”12 اکتوبر 1999ءسے پہلے پاکستان کی کوئی پہچان نہیں تھی۔ ہم نے اس ملک کو رتبہ دیا، اب ہماری آواز سنی جاتی ہے“۔
ہماری آواز کہاں سنی جاتی ہے؟
ہمارے کان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی چیخیں نہیں سن سکتے۔
ہماری آواز ہر جگہ سنی جاتی ہے.... مر جانے کا مقام ہے۔
پرانی کہانیوں میں ایسے جنات، جادوگروں اور بلاﺅں کا تذکرہ آتا ہے۔ جن کی جان طوطوں میں ہوتی ہے۔ پرویز مشرف صاحب کی ساری طاقت وردی میں تھی۔ وہ 98 فیصد ووٹ لیکر ریفرنڈم جیت گئے حالانکہ دو فیصد ووٹر بھی پولنگ سٹیشنوں پر نہیں آئے تھے۔ 2002ءکے انتخابات میں پری پول اور آفٹر پول رگنگ کے باوجود وہ مسلم لیگ (ق) کو واحد اکثریتی پارٹی نہیں بنا سکے اور ہارس ٹریڈنگ کرکے ایک ووٹ کے فرق سے میر ظفر اللہ جمالی کی حکومت بنا نی پڑی۔ پھر شوکت عزیز کو لانے اور اسمبلی کے 5 سال وردی کے زور پر پورے کرالئے۔
وردی اتروانے کی پہلی جدوجہد متحدہ مجلس عمل نے کی تھی۔ خدا جانے اس کے قانون دان آئین کی وہ شق کیسے نظر انداز کر گئے جس کے تحت مشرف صاحب کو وردی میں صدر برقرار رکھا جا سکتا تھا۔ جنرل صاحب نے سترھویں ترمیم منظور کروانے کے بعد متحدہ مجلس عمل کو صاف جواب دے دیا اور یہ جماعت آج تک شرم سے منہ چھپائے پھرتی ہے۔
9 مارچ 2007ءکو مشرف صاحب نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا۔ وکلاءاور ججوں کی مشترکہ تحریک نے 20 جولائی کو انہیں پہلا سبق یوں دیا کہ نظریہ ضرورت دفن ہوا اور افتخار محمد چودھری بحال ہو گئے۔ مشرف اپنا اقتدار بچانے کیلئے محترمہ بینظیر کی طرف دوڑے۔ جہاں سے پہلا اور بنیادی مطالبہ یہی تھا کہ وردی اتار دو۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کو این آر او دیا۔ 3 نومبر کو باوردی انتخاب کی مخالف عدلیہ برطرف کر دی۔ اس دوران محترمہ بینظیر مشرف صاحب کے غیر ملکی خصوصاً امریکی سرپرستوں کو اس بات کا قائل کر چکی تھیں کہ جمہوریت پر چڑھی ہوئی وردی اتار دینی چاہئے۔ سپریم کورٹ میں دی گئی یقین دہانی اور بیرونی اور داخلی دباﺅ پر مشرف نے وردی اتاری۔ جس کے نتیجے میں الیکشن ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔ آخر میں محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔
کمانڈو کو گھیرنا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن آصف زرداری نے انہیں خوب کھلایا۔ اپنے وزیراعظم اور کابینہ کو تحفظات ظاہر کئے بغیر صدر سے حلف لینے دیا۔ پیپلز پارٹی کے وزراءنے مسلم لیگ (ن) کے وزراءکے برعکس کالی پٹیاں باندھیں نہ چائے پینے سے انکار کیا۔ وہ چین کے دورے پر گئے تو پیپلز پارٹی کے دو وزیر ان کے ساتھ تھے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ایوان صدر جا کر ان سے ملتے اور ورکنگ ریلیشن شپ کی افادیت بتاتے رہے۔ زرداری صاحب مسلسل یہ تاثر دیتے رہے کہ اقتدار کیلئے صدر اور قاف لیگ کو قبول کر سکتے ہیں۔ مشرف صاحب کو امریکہ اور فوج سے مدد کی توقع تھی، آصف زرداری نے ”کلیرنس“ ملنے کے بعد میاں نواز شریف کے ساتھ مل کر صدر مشرف کے مواخذے کا اعلان کر دیا۔ مشرف صاحب کا خیال تھا کہ سندھ اسمبلی کا کارڈ کھیل لیں گے اور اپنی اخلاقی پوزیشن بہتر بنا لیں گے۔ لیکن وہاں سے اور پھر بلوچستان سے انہیں ایک ووٹ بھی نہیں مل سکا۔ گزشتہ روز مشرف صاحب پر آخری اور مہلک وار کنڈولیزا رائس کی طرف سے آیا۔ جس کے بعد استعفٰی کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
14 اگست کو جمہوری پاکستان وجود میں آیا تھا۔ 27 اکتوبر 1958 سے 25 مارچ 1969ءتک ایوب خان اور یحیٰی خان کی آمریت تلے دبا رہا۔ پھر 4 جولائی 1977ءکو جنرل ضیاءالحق نے مارشل لا لگا دیا۔ 17 اگست 1988ءکو اس مارشل لا سے رہائی ملی اور کل 18 اگست کو شاید پاکستان کا تیسرا اور آخری یوم نجات تھا۔
مشرف صاحب نے یقیناً ہر طرف سے ہار مان کر استعفٰی دیا ہے بہرحال یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا سمجھا جا رہا ہے۔ قوم سابق صدر سے حساب لینا چاہتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جن طاقتوں نے انہیں استعفٰی دینے پر مجبور کیا ہے۔ کیا انہوں نے ”محفوظ راستے“ کی کوئی ضمانت نہیں دی ہو گی۔ میاں نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) ان سے ایک ایک ظلم اور قومی نقصان کا حساب لینا چاہتی ہیں۔ پیپلز پارٹی اور آصف زرداری باقی سب کچھ بھول سکتے ہیں۔ محترمہ بینظیر کی شہادت کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ لیکن کیا ہم اپنے فیصلے خود کرنے کے قابل ہو گئے؟.... ہم غیروں کی امداد کے محتاج، مقروض ،مجبور اور جذباتی لوگ ، جنہوں نے مشرف کے آنے پر بھی مٹھائی بانٹی اور جانے پر بھی۔
صدر صاحب کا یہ استعفٰی مکمل شکست کا اعلان ہے نہ انہوں نے اپنے آپ کو سیاسی طاقتوں کے رحم و کرم پر چھوڑا ہے۔ یہ لازمی طور پر کسی نہ کسی ڈیل کا نتیجہ ہے۔ مشرف صاحب کی رخصتی سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا مشترکہ دشمن اچانک درمیان سے نکل گیا ہے۔ اب دونوں بڑی جماعتوں کی اپنی اپنی سیاست شروع ہو گئی ہے۔ اتحاد ٹوٹ چکا ہے اور مسلم لیگ (ن) نے آصف زرداری کے مقابلے میں جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی کو صدارتی امیدوار کھڑا کر دیا ہے۔ اکثریت پیپلز پارٹی کے پاس ہے، زرداری ہی جیتیں گے لیکن نیا کھیل بہرحال شروع ہو چکا ہے۔