اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

 
Thu, 28 Aug 2008 12:50:00

جو کام ہوا ہم سے کبھی تم سے نہ ہوگا

جو کام ہوا ہم سے کبھی تم سے نہ ہوگا
( گریبان .... منو بھائی )
بغیر کسی شک و شبہ کے اور بلاخوفِ تردید یہ کہا جاسکتا ہے کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف اپنے سے پہلے کے فوجی آمروں اور طالع آزماﺅں کی طرح ناجائز، غیرقانونی، غیرآئینی اور غیراخلاقی بلکہ غیرانسانی طور پر بغیر کسی معقول جواز کے اپنے ملک کے سیاسی اقتدار پر قابض ہوئے اور اس غاصبانہ قبضے کو اکتوبر 1999ءسے 18 اگست 2008ءتک زبردستی جاری رکھنے اور اس مقصد کیلئے ملک کے اندر خانہ جنگی سے بھی خراب حالات پیدا کرنے کے مرتکب ہوئے اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی کی حفاظت کرنے میں ناکام رہے جو کہ پاکستان کے جمہوری مستقبل کی سب سے بہتر ضامن ہوسکتی تھیں مگر پرویز مشرف یہ کہنے میں بھی حق بجانب تھے اور اگر چاہتے تو قوم سے اپنے آخری نشری خطاب میں کہہ بھی سکتے تھے کہ
کودا کوئی دیوار سے یوں دھم سے نہ ہوگا
جو کام ہوا ہم سے کبھی تم سے نہ ہوگا
اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ اگر 9سال پہلے کے قومی حالات کا سرسری جائزہ بھی لیں تو پتہ چلے گا کہ پرویز مشرف، شوکت عزیز، شجاعت حسین اینڈ کمپنی نے اپنے ملک کو امریکی ملٹی نیشنل کمپنی بنانے کے علاوہ اپنے چیف ایگزیکٹو کی زیرہدایت اَن گنت خرابیوں اور غلطیوں کا ارتکاب کیا ہوگا جس کے بے شمار نقصانات ہماری آئندہ نسلیں بھی برداشت کرتی رہیں گی مگر ان خرابیوں اور غلطیوں کے دوران یا ان کی وجہ سے یا ان کے باوجود چند ایک اچھے کام بھی سرزد ہوگئے ہیں جن کی وجہ سے ملک اور قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا تھا۔
ایک ساتھی یاد دلاتے ہیں کہ 9 سال پہلے اکتوبر 1999ءمیں قوم سیاسی افق پر واضح طور پر یہ بھیانک خطرہ ایک یقینی دھمکی یا اندیشے کی صورت میں منڈلا رہا تھا کہ پاکستان کے آئین میں پندرہویں ترمیم کی تمام تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں اور صرف نئی صدی، نئے ملینیم کے تیسرے ماہ مارچ 2000ءکا انتظار کیا جا رہا ہے جب پاکستان سینٹ کی اکثریت آئین کی پندرہویں ترمیم کو منظور کرتے ہوئے ملک کی جمہوری سیاست اور جمہوری نظام کو یکسر تبدیل کرکے خلافت کے نظام میں بدل دیگی اور سربراہ حکومت وزیراعظم کی بجائے ”امیر المومنین“ بن جائیں گے جس کے بعد کسی چیف جسٹس، کسی سجاد علی شاہ اور کسی سپریم کورٹ پر حملہ کرنے کی ضرورت اور قیمے والے پراٹھے خرچ کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
ساتھی بتاتے ہیں کہ اگر ایسا ہوجاتا تو آج ملک کی وکلاءبرادری، این جی اوز، جمہوریت پسند عناصر، انسانی حقوق کے پاسدار، آزادی تحریر و تقریر کے علمبردار، سول سوسائٹی کی خواتین و حضرات اور سابق فوجیوں کے جمہوریت نواز ارکان صدر پرویز مشرف کی بجائے خودساختہ ”امیر المومنین“ سے استعفے طلب کررہے ہوتے جبکہ ملک کے نئے نظام خلافت میں استعفے کا کوئی تصور ہی نہ ہوتا۔ معزول چیف جسٹس مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کے ساتھیوں کی بحالی کی بجائے ملک کے سابقہ متروکہ عدالتی نظام کی بحالی کی تحریک جاری ہوتی اور کچھ اندازہ نہیں کہ اس تحریک میں خلافت کے جلادوں کی تلواروں کی زد میں آنے والی کتنی گردنیں کٹ چکی ہوتیں، کتنا خون بہہ چکا ہوتا، کتنی انسانی زندگیاں تلف ہوچکی ہوتیں، کتنے زخمی اپنے زخموں پر مرہم کا اور کتنے اپاہج اپنے کٹے ہوئے ہاتھ پاﺅں کیلئے مصنوعی اعضائے انسانی کا انتظار کررہے ہوتے۔
ہمارے ساتھی کہتے ہیں کہ انہوں نے اگر جنرل پرویز مشرف کے چیف ایگزیکٹو بن جانے کا بادل نخواستہ خیرمقدم کیا تھا تو اسکی بھی یہی وجہ تھی کہ ان کو یقین تھا کہ نئی صدی اور نئی ملینیم کے تیسرے مہینے میں ہماری بدنصیب تاریخ کے سب سے بڑے مینڈیٹ والے حکمران اپنے آپ کو امیر المومنین بنانے کی ضد پوری کریں گے (کُلی دا بھاویں ککھ نہ رہوے) اور یوں ملک اور قوم پر آمریت سے بھی بھاری آمریت لاد دی جائے گی جس کے نیچے سے کسی کو ”چوں چراں“ اور ”اگر مگر“ کرنے کی اجازت بھی نہیں ہوگی اور خلاف ورزی کی جرا¿ت کرنے والے گردن زدنی ہوں گے اور یہ سزا سرعام دی جائے گی۔ دوسرے لفظوں میں ہمارے ساتھی اپنی گردن کی سلامتی کے مفاد میں جنرل پرویز مشرف کے مارچ 2000ءسے پہلے پاکستان کے اقتدار پر قبضہ کرنے کا خیرمقدم کررہے تھے اور ان کی کتے کے بچوں کے ساتھ تصویر دیکھ کر اور اس تصویر میں ان کی والدہ ماجدہ کو ساڑھی میں ملبوس دیکھ کر خوش ہوئے تھے کہ جنرل پرویز مشرف پاکستان کے قائداعظم ثانی کی بجائے اتاترک ثانی بننے کی کوشش کریں گے۔ ہمارے اس ساتھی کا کہنا ہے کہ اگرچہ پرویز مشرف اور ان کے وزرائے اعظم نے پاکستان کی سیاست اور معیشت کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں کیا مگر شاعر نے کہا ہے کہ....ع
رہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو
یعنی پرویز مشرف کی حکومت نے کسی خودساختہ ”امیر المومنین“ کے قبضہ غاصبانہ کے خطرے کو ٹال دیا ہے مگر بعض دوستوں کا کہنا ہے کہ اگر نیویارک کے ٹوئن ٹاور پر حملہ نہ ہوتا اور اس حملے کی وجہ سے پرویز مشرف ”یوٹرن“ بلکہ ”ڈبلیو ٹرن“ پر مجبور نہ ہوتے تو وہ بھی آئین میں پندرہویں ترمیم لانے کی راہوں پر چل رہے تھے اور بڑی آسانی سے محمد علی درانی اور شیخ رشید کی مدد سے اپنے آپ کو ”امیر المومنین“ بنا سکتے تھے مگر قدرت کو یہ منظور نہیں تھا کیونکہ
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
ہر لمحہ تبدیل ہونے والے حالات کی قدرت کے علاوہ کسی بھی چیز یا عمل کو کوئی ثبات حاصل نہیں ہے اور یہی قدرت کے کارخانے کی سب سے اعلیٰ خوبی ہے بلکہ یہی خوبی قدرت کہلاتی ہے۔
٭٭٭










 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier