اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

 
Thu, 28 Aug 2008 12:49:00

زندگی کی سب سے بڑی سزا

زندگی کی سب سے بڑی سزا
(غیر سیاسی باتیں.... عبدالقادر حسن)
تینوں افواج کے چاق و چوبند دستوں نے تنے ہوئے جسموں اور ملے ہوئے قدموں کے ساتھ اسے گارڈ آف آنر پیش کیا اور تینوں افواج کے سربراہوں نے اپنی اپنی یونیفارم میں ایڑیاں جوڑ کر اسے سلیوٹ کیا اور اس طرح مکمل پروٹوکول کے ساتھ اس مستعفی فوجی صدر کو رخصت کیا گیا۔ وہ اپنی پسندیدہ بلٹ پروف سیاہ مرسڈیز کار میں اپنی قیام گاہ کو روانہ ہوا البتہ اس کار پر پہلی بار قومی پرچم نہیں لہرا رہا تھا لیکن مکمل سکیورٹی کیلئے کاروں کا ایک قافلہ پہلے کی طرح ساتھ تھا۔ 8 برس 10 ماہ اور 8 دن بعد شاہی طمطراق ختم ہوا۔ اب وہ محض ایک سابق صدر ہے لیکن چونکہ ایک برگزیدہ طبقے سے تعلق رکھتا ہے اس لئے اس میں اور دوسرے زندہ سابق صدور سردار فاروق احمد خان لغاری اور محمد رفیق تارڑ میں بہت فرق ہے۔ یہ عام شہری کی طرح زندگی بسر کررہے ہیں جبکہ سابق فوجی صدر حسب سابق آرمی ہاﺅس میں مقیم ہے جو اس کے پرشکوہ ماضی کی یاد دلاتا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اسلام آباد کے قریب اس کا پانچ ایکڑ کا فارم ہاﺅس دو تین ماہ میں مکمل ہوجائیگا اور پھر وہ اس میں منتقل ہوجائیگا۔ اس کے بعض سیاسی نیازمند اس کے ساتھ ملاقاتیں کررہے ہیں اور وہ آف دی ریکارڈ تبصرے کررہا ہے اور حالات کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کررہا ہے لیکن ایک اطلاع کے مطابق وہ ایک مقررہ مدت تک خاموش رہیگا۔ وہ مطمئن ہے کہ اس کے خلاف حکومت کوئی کارروائی نہیں کریگی جبکہ عوام حیران ہیں کہ کئی ایک ثابت شدہ جرائم کے باوجود اس کو معاف کیا جا رہا ہے اور بعض تو ایسے ہیں کہ اس نے ان کا خود اپنی کتاب میں اعتراف کیا ہے۔ تازہ معلومات کے مطابق امریکہ کی خواہش پر برطانیہ نے پرویز مشرف کے معاملے میں مداخلت کی ہے اور اسے واپسی کا محفوظ راستہ دلوایا ہے۔ ایک کمزور ملک نے سر جھکا کر اپنے ملزم اور مجرم کو جانے دیا ہے ورنہ دنیا کے کسی قانون اور کسی وراثت کے تحت اس کیلئے کوئی محفوظ راستہ نہیں تھا۔ پاکستان کے عوام کو ان کے جرم ضعیفی کی سزا ملی ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ پاکستان کے حکمرانوں کو یہ سزا ملی ہے کیونکہ عوام تو کبھی کمزور نہیں رہے۔ ان کے حکمران ہی کمزوریاں دکھاتے رہے ہیں۔ چور چوروں کا احتساب کیسے کرسکتے ہیں؟
پاکستانی قوم کو روحانی اور اخلاقی زندگی کا ایک موقع ملا تھا جو اس کی بدقسمتی سے ضائع ہوگیا۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کو اگر پاکستان کی حکومت عدالت میں پیش کردیتی اور عدالت اسے کوئی سزا دیتی تو ایٹمی قوت رکھنے والا ملک ایک ایسی اخلاقی قوت کا حامل بھی ہوجاتا جس کی طرف بری نظر سے دیکھنا ممکن نہ رہتا۔ جس ملک کے پاس اپنے مجرموں کے حساب کتاب کی طاقت ہو، جو اپنے ملزموں اور مجرموں کو سزا دینے کا حوصلہ رکھتا ہو، اسے کون شکست دے سکتا ہے؟ ہمیں تاریخ میں ایک بار پھر وہی توانائی اور قومی توقیر مل جاتی جو قیام پاکستان کے وقت مادی کمزوری کے باوجود حاصل تھی۔ یہی وہ قومی حمیت تھی جس نے اس ملک کو کمزوریوں سے نکال کر ایک طاقت بنا دیا۔ بہرکیف ہماری دنیا پرست اور روحانی اوصاف سے محروم حکومت نے ہمیں ایک بار پھر رسوا کردیا۔ آج ہمارا ملزم ہمارے سامنے بیٹھ کر ہمیں للکار رہا ہے اور ہمارا مذاق اڑا رہا ہے۔ جو لوگ اس سے ملاقات کرکے آتے ہیں ان کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس شخص کو اپنے جرائم کا کوئی خوف نہیں ہے۔ اس کے ملنے والے اس کی پسند کے پرانے فلمی گانوں کے ریکارڈ بھجوا رہے ہیں اور وہ ان کے شکرئیے ادا کررہا ہے۔ اسے ایک بھارتی گلوکار مکیش کی آواز پسند ہے، چنانچہ اس نے ایک مہمان سے فرمائش کی ہے کہ اس گلوکار کے گانے اسے بھجوائے جائیں۔
پاکستانی فوج اپنے لیڈر کی توہین برداشت نہیں کرتی۔ اس نے اس کی رخصتی کی تقریبات سے یہ ثابت بھی کیا ہے۔ چنانچہ اسے یقین ہے کہ فوج اس کے جسم کی حفاظت بھی کریگی اور اس کی عزت کی بھی، یعنی اس کی بے عزتی نہیں ہونے دیگی ورنہ عزت نام کی کوئی چیز اس کے پاس ہے کہاں کہ کوئی اس کی حفاظت کرے۔ یہی وجہ ہے کہ جو خبریں موصول ہورہی ہیں ان کے مطابق وہ کسی دوسرے ملک میں نہیں پاکستان میں رہیگا ورنہ ہوتا یہی ہے کہ کوئی معزول آمر عموماً ملک سے باہر چلا جاتا ہے اور کسی دوسرے ملک میں پناہ طلب کرلیتا ہے لیکن پاکستان کے اس آمر کو باہر کا کوئی ملک بحفاظت رکھنے پر تیار نہیں تھا۔ آگ کے اس گولے کو کون سنبھال سکتا ہے اور کسی کو کیا پڑی کہ وہ اس آگ میں ہاتھ ڈالے۔ یہ شخص پرامن عوام کا ہی ملزم و مجرم نہیں ہے بلکہ اس نے ایسے لوگوں کو بھی اپنا دشمن بنالیا ہے جو سربکف اور بم پرست ہیں۔ وہ جامعہ حفصہ میں اپنی بچیوں کے خون کی تلاش میں ہیں۔ وہ اپنے پرامن خاموش پہاڑوں پر گولے برسانے والے کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ نہ جانے کتنے جوان ہیں جو اس سے انتقام کا عہد کرچکے ہیں۔ دنیا کے کسی دوسرے ملک کو کیا پڑی جو اتنا بڑا خطرہ مول لے لے؟ اس کی میزبانی کرنے والے متوقع ملکوں نے باری باری کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے اس کی پذیرائی سے معذرت کرلی ہے۔ خود امریکہ جس کیلئے اس نے اپنی زندگی تباہ کرلی ہے، یہ کہتا ہے کہ اگر اس نے درخواست کی تو دیکھیں گے۔ صرف ایک ملک اس دنیا میں ایسا ہے جس نے اگرچہ کھل کر میزبانی کی پیشکش تو نہیں کی لیکن وہ شاید اسے قبول کرلے اور وہ ہے اسرائیل جو اس کی معزولی پر بہت چیخا چلایا ہے۔ ان رونے والوں میں دوسرا بھارت ہے۔ خبریں ہیں کہ اس کی حفاظت اگر کسی ملک میں ہوسکتی ہے تو وہ اسرائیل ہے لیکن پھر بھی وہ پاکستان میں رہیگا اور فوج اس کی حفاظت کریگی اور کوئی بھی حکومت ہوگی، وہ فوج کو ناراض نہیں کریگی البتہ یہ ایک الگ بات ہے کہ اس کی باقیماندہ زندگی خوف اور دہشت کی زندگی ہوگی اور موت کا کھٹکا ہر وقت لگا رہیگا۔ یہ اس کی بہت بڑی سزا ہوگی جس میں وہ مبتلا ہوچکا ہے، سلمان رشدی کی طرح۔
٭٭٭

5 / 5 (1 Votes)









 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier