|
(ملک سلیم اکبر) بینظیر جب خاتون اول ہوا کرتی تھیں تو آصف زرداری کو ”مرد اوّل“ کا خطاب ملا۔ اب اگر کوئی بہت ہی بڑی انہونی نہ ہوئی تو زرداری صاحب پاکستان کے صدر بن کر حقیقی معنوں میں ”مرد اوّل“ بن جائیں گے لیکن بی بی ان کی خاتون اوّل نہ ہوگی۔ ہماری اپنی ناقص رائے میں اگر حکومت کو لونڈی بنا کر گھر میں ہی رکھنا مقصود تھا تو زرداری کو اپنی بہن فریال تالپور ہی کو نامزد کر دینا چاہیے تھا تاکہ سانپ بھی مر جاتا اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹتی کیونکہ زرداری صاحب کی ہمشیرہ بہرحال زرداری صاحب سے کم ہی متنازعہ سمجھتی جاتی ہیں۔ ہماری اپنی انتہائی معتبر اطلاع کے مطابق زرداری صاحب کی درحقیقت ”مجبوری“ یہ ہے کہ آصف زرداری کو اپنی جان کا سخت خطرہ ہے اور زرداری صاحب نفسیاتی طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو اپنی جان بچانے کیلئے صدر والی سکیورٹی درکار ہے اور وہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ وہ خود صدر پاکستان بن کر فول پروف سکیورٹی حاصل کریں۔ سکیورٹی کے فکر میں انسان کتنا ذلیل ہوتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے کیجئے کہ کسی ممکنہ دہشت گردی کا نشانہ نہ بننے کے خطرے کے پیش نظر مشرف کی سکیورٹی اس قدر سخت کردی گئی ہے کہ مشرف کے گھر سے باہر نکلنے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ اللہ کی شان دیکھئے وہ جس نے سب کو قید کر رکھا تھا آج خود ہی ”قید“ ہو کر رہ گیا ہے اور مشرف کو فی الحال پاکستان چھوڑ کر باہر جانے کی ”اجازت“ بھی نہیں مل رہی۔ پاکستان میں سکیورٹی کی جو روزبروز ابتر ہوتی ہوئی صورتحال ہے اس کا اندازہ محض اس بات سے کیجئے کہ آج پاکستان کے دارالخلافے اسلام آباد میں بم دھماکہ ہوا ہے جس میں 6 افراد ہلاک اور شدید زخمی ہوگئے ہیں۔ اس سے پہلے پشاور میں امریکی قونصل جنرل LYNNE TRACY کی گاڑی پر قاتلانہ حملہ ہو چکا ہے۔ ایسے میں مشرف میاں تو دم دبا کر گھر میں ہی قید ہونے کو ترجیح دے رہے ہیں جبکہ آصف زرداری بھی صدر والی سکیورٹی حاصل کرکے خود کو محفوظ بنانے کے چکر میں عوام الناس میں خوب رسوا ہو رہے ہیں کہ زبانی کلامی پے در پے وعدہ خلافیاں کرنے کے بعد اب نوازشریف نے زرداری صاحب کے تحریری معاہدوں کو عوام کے سامنے لا کر زرداری صاحب کی بچی کھچی اخلاقی پوزیشن کی بھی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں کہ بین الاقوامی دنیا میں حکمرانوں کی ”زبان“ ہی کو تحریری معاہدوں سے بھی بڑھ کر عزت و اہمیت دی جاتی ہے اور جو حکمران عوام میں اپنا اخلاقی جواز کھو دیتے ہیں ان کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ بھی ہو لیکن وہ عوام میں عزت و احترام حاصل کرنے سے معذور رہتے ہیں۔ عوام حیران ہیں کہ آخر عدلیہ کو بحال نہ کرکے زرداری کن کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں؟ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر زلمے خلیل زادہ کو زرداری کے ساتھ براہ راست خفیہ رابطے رکھنے کا راز افشاءہونے کے بعد یہ حقیقت بھی منظرعام پر آ چکی ہے کہ دونوں کے درمیان اگلے ہفتے دبئی میں ایک خفیہ ملاقات بھی طے ہو چکی تھی۔ 718-692-0707 پر دوپہر بارہ بجے سے شام 7 بجے تک پاک یو ایس ٹریول ایٹ جی میل ڈاٹ کام پر ای میل کرکے ہمیں بتائیں کہ کیا آپ اس رائے سے متفق ہیں کہ زرداری درحقیقت ایک نیا مشرف بن کر مسلط ہونے والے ہیں جس طرح مشرف نے تمام تر طاقت اپنی ذات میں اکٹھا کررکھی تھی بالکل اسی طرح آصف زرداری بھی پی پی پی کی مرکزی قیادت سمیت تمام تر ریاستی اور حکومت اختیارات کو اپنی ذات کے گرد جمع کرکے جمہوریت کے نام کو ایک ایسا بدنما داغ بنا دیں گے کہ جب زرداری اور نوازشریف کی محاذ آرائی کے خاتمے کیلئے چیف آف آرمی سٹاف اشفاق کیانی آگے بڑھیں گے تو شاید پاکستانی عوام انہیں ایک مسیحا سمجھ کر ان کا استقبال بھی کریں گے اور مٹھائیاں بھی بانٹیں گے۔ ہم ذاتی طور پر فوج کے برسراقتدار آنے کو سخت معیوب سمجھتے ہیں اور بدترین جمہوریت کو بھی بہترین آمریت پر فوقیت دیتے ہیں لہٰذا ہمارا مخلصانہ مشورہ زرداری اور نوازشریف کو صرف یہی ہے کہ عوام نے جمہوریت کی گاڑی چلانے کی تمام تر ذمہ داری آپ پر ڈالی ہے۔ براہ کرم اپنی ذمہ داری کو فرض سمجھ کر ادا کریں۔ گزشتہ جمعہ کے روز پاکستان کے سینئر نائب صدر جاوید ہاشمی نیویارک کی مقامی قیادت کے ساتھ ہمارے آفس آئے اور کہنے لگے کہ مجھے آج رات کی فلائٹ ہی سے پاکستان جانا ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ یہ کام صرف آپ ہی کر سکتے ہیں لہٰذا ہماری مدد کریں۔ ہمارے آفس کے باہر سینکڑوں لوگ جاوید ہاشمی کی آمد کا سن کر جمع ہوگئے۔ نوازشریف کا حکم تھا کہ جاوید ہاشمی آج ہی کی فلائٹ سے واپس آئیں۔ ہماری ذات کیلئے ان کی سیٹ کنفرم کرنا تقریباً ناممکن کام کو ممکن بنانا ہی تھا لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہمارے ساتھ رہا۔ ہم نے دو تین فون کالیں کیں اور اللہ کا شکر ہے کہ ہم جاوید ہاشمی کی سیٹ جمعہ ہی کی رات کی کنفرم کرنے میں کامیاب ہوگئے یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے اللہ تعالیٰ پاکستان میں جمہوریت کی بات بنائے ہی رکھیں۔ MQM کا بھی بہت انوکھا امتحان شروع ہوگیا ہے۔ نوازشریف نے جسٹس سعیدالزمان صدیقی کو صدارتی امیدوار بنا دیا ہے جو اردو سپیکنگ بھی ہے اور درمیانہ طبقے سے بھی تعلق رکھتا ہے جس کا ماضی بھی بے داغ ہے۔ MQM نے ہمیشہ وڈیرہ شاہی کی سیاست کیخلاف بات کی ہے۔ زرداری بھی جاگیردار اور وڈیرے ہی ہیں۔ ایم کیو ایم کا تو ووٹ بینک بھی اردو بولنے والوں کا ہے۔ دیکھئے ایم کیو ایم کس طرح اس امتحان میں کامیاب ہوتی ہے۔ خدا پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ پاکستان زندہ باد،پاکستان پائندہ باد
|
|