|
عالم تمام .... ظہیر الدین بٹ پاکستان پیپلزپارٹی ، پاکستان مسلم لیگ (ن)، اے این پی اور جے یو آئی کا اتحاد قائم ہوا اور حکومت قائم ہوئی تو پاکستان کے عوام کو ایک امید کی کرن نظر آنے لگی تھی کہ اب بڑے بڑے لیڈران نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ لیا ہے اور اب ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لئے کندھے سے کندھا ملا کر چلیں گے اور عملی طور پر وہ کر دکھائیں گے کہ آج سے قبل پاکستان کی تاریخ میں ایسا نہیں کیا گیا لیکن بدقسمتی کس کی ہے۔ لیڈران، ملک پاکستان یا پھر پاکستان کی معصوم عوام کی کہ وہ بار بار ڈسے جا رہے ہیں اور پہلے سے خطا کھا کر پھر بھی اعتبار کرتے آرہے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن کا اتحاد وہ بھی پاکستان پیپلزپارٹی سے شروع سے ہی عجیب لگ رہا تھا لیکن شاید انہیں اپنی پارٹی کی کمزوری کو مدنظر رکھ کر محترمہ اور مرحومہ بے نظیر بھٹو سے اتحاد کرنا پڑا تھا تا کہ صدر (سابق) پرویز مشرف سے اپنی حکومت کے خاتمے کا بدلہ لے سکیں لیکن قدرت کو شاید کچھ اور ہی منظور ہے۔ حالات کو بغور دیکھیں تو پاکستان میں عجیب و غریب سی سیاسی کھچڑی پک رہی ہے۔ ہر پارٹی اور لیڈر ذاتی مفاد کو پیش نظر رکھ رہا ہے اور تمام نے بیک جنبش ملکی مفاد اور قومی اہمیت کو درگزر کر دیا ہے۔ حکومتوں کے چکر میں وہ اپنا ماضی بھول چکے ہیں اور ذاتی مفاد کی جنگ میں ملوث ہو کر عوام کی امیدوں سے کھیل رہے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن نے شروع دن سے ججز کی بحالی کے لئے تگ و دو کی۔ پاکستان پیپلزپارٹی سے معاہدے کئے کچھ خفیہ اور کچھ اوپن لیکن ان کی امیدیں بر نہ آسکیں اور پاکستان پیپلزپارٹی شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے میاں نوازشریف کو دن میں وہ تارے دکھائے ہیں کہ انہیں چھٹی کا دودھ ہی نہیں بلکہ نانی یاد آگئی ہے لیکن ایک بات ہے کہ صبر کا امتحان خوب دیا ہے۔ اور بالکل آخیر کر کے ہی اتحاد کو خیر باد کہا ہے۔ مری، دبئی ، اسلام آباد اور نہ جانے کہاں کہاں ملاقاتیں ہوئیں ایک دوسرے کو بھائی کا درجہ دیا لیکن آج یوں لگتا ہے کہ دل میں کچھ اور تھا اور منہ سے کچھ اور ادا ہو رہا تھا۔ سب معاہدے اور وعدے ایک دم توڑ دیئے گئے اور وہ مسائل پیچھے چلے گئے جنہیں اولیت دی گئی تھی۔ معاہدے توڑنا اور پھر یہ کہنا کہ ان کی کوئی حیثیت نہیں اور یہ وقت کے ساتھ تبدیل ہونے چاہئیں۔ اس سے ہم پوری دنیا کو کیا پیغام دینا چاہ رہے ہیں کیونکہ اگر اندرونی معاہدوں کی پاسداری نہ کی جا سکے گی تو بیرون ممالک سے کئے گئے وعدوں کو کیسے وفا کیا جا سکے گا اور وہ ممالک ہم پر کس حد تک اعتماد کریں گے؟؟؟ پہلے ہر مسئلے کا مورد الزام صدر مشرف کو گردانا جاتا تھا اور اب ان کے جانے کے بعد کون ذمہ دار ہو گا؟ کسی مسئلے کو اگر خود حل نہ کیا جا سکے تو اس کا مورد الزام کسی دوسرے کو نہیں ٹھہرانا چاہئے۔ فاٹا اور قبائلی علاقوں میں جاری آپریشن میں اب بہت تیزی آچکی ہے اور یہ کام پہلے بھی ہو رہا تھا اب کیا فرق ہے حتیٰ کہ حکومت بھی جمہوری آچکی ہے اور ہم ہیں کہ حسب سابق یس سر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اب تو موجودہ حکومت کی مذاکرات کی پالیسی بھی تبدیل ہوتی نظر آرہی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے آج جو فیصلہ کیا ہے شاید اس کےلئے وہ تیار نہ تھی کیونکہ وہ بہت پر امید تھے کہ دیگر جماعتیں بشمول پاکستان پیپلزپارٹی وہ اقدامات اٹھائیں گی جو ان کے اصولوں اور اعلانات کے مطابق ہوں گے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے تو کہا جا رہا ہے کہ خوب میاں نوازشریف کو استعمال کیا ہے اور اب خالی ٹشو کی طرح استعمال کے بعد پھینک دیا ہے۔ اب پھر وہ سیاسی کھیل شروع ہو جائے گا۔ کیونکہ پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت ہے اور دیگر صوبوں میں مشترکہ اور اتحادیوں کی حکومتیں ہیں۔ ادھر صدر کے الیکشن کو جلدی میں اناﺅنس کر کے سیاسی گیم ہل چل مچا دی گئی ہے۔ اب پھر ہارس ٹریڈنگ اور ذاتی مفادات کی کہانیاں شروع ہو جائیں گی اور ہر کوئی پارٹی اپنے امیدوار کو جتوانے کے چکر میں ایسے ایسے کام کرےگی ایسے ایسے لوگوں سے ملے گی جنہیں شاید پہلے دیکھنا تک گوارہ نہ ہوتا کہ اپنے مقاصد کی تکمیل کی جا سکے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی مرضی کے آگے کیا ہو سکتا ہے۔ قدرت کے کھیل کو کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ تمام پارٹی لیڈران کو ملک کی سلامتی مقدم رکھنی ہو گی تاکہ ملک دشمن قوتیں کسی طرح کا نقصان نہ پہنچا سکیں۔ اگر ہم داخلی طور پر غیر مستحکم ہو گئے تو پھر دشمن کو زیادہ تکلیف کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ آصف علی زرداری نے معاہدوں کو نظر انداز کر کے جس رویئے کا اظہار کیا ہے اس کو پوری قوم اچھے طور سے نہیں دیکھی رہی اور عوام ان کے پارٹی لیڈران پر حیران ہیں کہ وہ بھی ”یس سر“ کا وہ کردار ادا کر رہے ہیں جو فوج کا طرہ امتیاز ہے۔ پاکستانی سیاست اور لیڈران پر آج پوری دنیا حیران ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے کراچی اور حیدر آباد میں ماضی میں کئے گئے اقدامات جس میں لوگوں کو مارا گیا۔ میاں نوازشریف کے زمانے میں فوجی عدالتیں قائم کر کے ہمدرد دوا خانے کے سربراہ حکیم سعید کے قتل کے بعد فوری سزاﺅں کے عمل کو چھوڑ کر اور درگزر کر کے اتحاد اور سیاسی طور پر مل کر کام کرنے کا عزم یہ امید دلانے کے لئے کافی تھا کہ اب ملکی ترقی ممکن ہو سکے گی لیکن نیتوں کو انسان خود ہی جانتا ہے کہ وہ کیا چاہتا ہے؟ اگر آئندہ صدارتی الیکشن کےلئے تمام مسلم لیگیں اکٹھی ہو جائیں گی تو ذاتیات کو دشمنیوں اور اور پھر اختلافات کو بھول سکیں گے۔ انہوں نے تو کوئی آپسی ایسا کام بھی نہیں کیا کہ دوبارہ سے نہ مل بیٹھ سکیں۔ ادھر پاکستان مسلم لیگ (ق) کیا پاکستان پیپلزپارٹی سے ہاتھ ملا لے گی اور وہ سب کچھ بھول جائے گی کہ جس کا الزام آج تک ان پر لگاتی آئی ہے کہ چودھری ظہور الٰہی (مرحوم) کو انہوں نے قتل کروایا تھا۔ اگر الزام سچ ہے تو مجھے نہیں لگتا کہ پاکستان مسلم لیگ (ق) ان کے اتحاد میں شامل ہو گی۔ اگر حکومت میں آنے کا لالچ ہو تو شاید پھر بات بن جائے لیکن وہ تو کئی سال تک اس کا مزہ لے چکے ہیں۔ ادھر جے یو آئی کے سربراہ فضل الرحمان کی آنکھیں بھی کھل گئی ہیں کہ اگر پاکستان مسلم لیگ (ن) سے پی پی پی کا رویہ ایسا ہے تو وہ کس باغ کی مولی ہیں؟ ویسے اسفندیار ولی کو بھی سوچنا ہو گا؟ ملک کی بہتری اور ترقی کےلئے سب لیڈروں اور پارٹیوں کو سر جوڑ کر اقدامات کرنے ہوں گے۔ دیکھیں صدارتی الیکشن کیا گل کھلاتا ہے۔
|
|