ڈاکٹر شبیر احمد
فلسفی بحث میں نے کی ہی نہیں
فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں
خان بہادر سید اکبر حسین 1846ءمیں پیدا ہوئے اور 75 برس کی عمر پا کر 1921ءمیں وفات پا گئے۔ خداوند کریم نے اچھی زندگی عطا کی اور انہوں نے اپنی عمر کے ساتھ اسی طرح انصاف کیا جس طرح ایک جج کی حیثیت میں سچا انصاف کرتے رہے۔ اردو شاعری کے چمن میں شگفتگی کے بہت سے پھول کھلائے۔ قدرت نے انہیں ذہن رسا عطا کیا تھا۔ علامہ اقبالؒ جیسے عظیم شاعر، دانشور کا ایک خط ”مکاتیب اقبال“ میں محفوظ ہے۔ جناب اکبر سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں، آپ اتنی اچھی گفتگو کرتے ہیں اور ہر نشست میں علم و دانش یوں بکھیرتے چلے جاتے ہیں کہ بے اختیار جی چاہتا ہے کاش! کوئی آپ کی ہر بات کو لکھا کرے۔
صاحبو! علامہ اقبالؒ نے یہ بات کسی اور شخص کے لئے نہیں کہی۔ کتنا بڑا اعزاز ہے! جناب اکبر کے لئے کوئی تو بات تھی کہ صاحب علم لوگوں نے اکبر الٰہ آبادی کو ”لسان العصر“ یعنی اپنے عہد کی زبان کا خطاب دیا۔ دونوں بزرگوں کی باہمی عقیدت ہمیشہ قائم رہی۔ اکبر نے بھی علامہ کو یوں منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔
دعویٰ علم و خرد میں جوش تھا اکبر کو رات
ہو گیا ساکت مگر جب ذکر اقبال آ گیا
خواجہ حسن نظامی بھی فرمایا کرتے تھے کہ خان بہادر اکبر الہ آبادی کے منہ سے پھول جھڑتے ہیں۔ ہمارے خیال میں اکبر الہ آبادی نے اپنی قابلیت اور قبولیت کا راز سب سے پہلے لکھے ہوئے شعر میں خود ہی فاش کر دیا ہے۔ وہ فلسفی بحث نہیں کرتے تھے اور اپنی عقل و خرد پر کچھ ناز نہ کرتے تھے۔ یوں تو ہمارے معزز ریڈرز کے خطوط سامنے پڑے ہیں جن سے بزم کہکشاں خوب سج سکتی ہے لیکن دل اس طرف مائل ہے کہ اکبر کے چند اشعار آپ کی خدمت میں پیش کئے جائیں۔ لیکن اس سے پہلے فلسفی بحث سے یاد آیا کہ ایک نوجوان کالج میں فلسفہ پڑھ رہا تھا۔ ناشتے کی میز پر بولا ”ابا جان! میں فلسفے کی رو سے ثابت کر سکتا ہوں کہ یہ جو انڈا سامنے پڑا ہے ایک نہیں دو ہیں۔ ابا جان نے انڈا اٹھایا اور کھاتے ہوئے بولے، ٹھیک ہے بیٹا! دوسرا انڈا تم کھا لو۔
صاحبو! اکبر کے دور میں بھی مسلمانوں کی حالت دگرگوں ہی تھی۔ دیکھئے! اس حالتِ زار کو کیسے بیان فرماتے ہیں
وزن اب ان کا معین نہیں ہو سکتا کچھ
برف کی طرح مسلمان گھلے جاتے ہیں
اتنے عظیم شاعر کی انکساری ملاحظہ فرمائیے
اکبر کی برائی اچھائی تو پوچھ محلے والوں سے
نظم ان کی سنی ہے البتہ ہاں شعر تو اچھے کہتے ہیں
صوفی و ملّا کی چپقلش یوں بیان کرتے ہیں
کہا پیر طریقت نے اکڑ کر اپنی ٹم ٹم پر
یہی منزل ہے جس میں شیخ کا ٹٹو نہیں چلتا
شاعروں میں شریک شعراءکا حال دل ملاحظہ فرمائیے
تمہارے مرحبا سے شعر کی ہو جائے گی عزت
نہ نکلے واہ دل سے تو زباں سے واہ کہہ دینا
صاحبو! بات صرف آج کی نہیں پرانی ہوتی جاتی ہے کہ شرافت سے بھرم تو رہ جاتا ہے زندگی کی گاڑی ذرا مشکل سے چلتی ہے۔ مثلاً رشوت نہ لینے والا نیک بخت پورے محکمے کے لئے عذاب بن جاتا ہے اور اس کے ساتھی کیا افسران بالا کیا اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں
ذرا تو پختہ شریفوں کو باغ دہر میں دیکھ
انہیں کا حال ہر اک سے زیادہ خستہ رہا
خان بہادر صاحب الفاظ سے کھیلنے پر آتے ہیں تو بھی کمال کر جاتے ہیں
دعا ہے کہ مر کر بھی رہ جاﺅں کچھ
وگرنہ یونہی مر کے رہ جاﺅں گا
نیرنگی سیاست دوراں پر کہتے ہیں
انقلاب دہر دیکھو بن گیا آقا غلام
قصر کا مالک جو تھا اب اس کا درباں ہو گیا
اردو شاعری میں انگریزی الفاظ بلاتکلف جتنے اکبر صاحب نے کہے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی
آفیشل اعمال نامے کی نہ ہو گی کچھ سند
حشر میں تو نامہ¿ اعمال دیکھا جائے گا
مذہب کی طرف آتے ہیں تو دقیق باتیں کس آسانی سے کہہ جاتے ہیں
تعلیم مذہبی کا خلاصہ یہی تو ہے
سب مل گیا اسے جسے اللہ مل گیا
فکر کہن اور دور جدید کے درمیان قوم کو اعتدال کی جانب دیکھئے کیسے ملاتے ہیں
پرانی روشنی میں اور نئی میں فرق اتنا ہے
اسے کشتی نہیں ملتی، اسے ساحل نہیں ملتا
طنز کا تیر و نشتر بھی ملاحظہ فرمائیے
مے خانہ¿ ریفارم کی چکنی زمین پر
واعظ کا خاندان بھی آخر پھسل گیا
کیسی نماز ہال میں ناچو جناب شیخ
تم کو خبر نہیں کہ زمانہ بدل گیا
حسینوں سے پریشان ہوتے ہیں تو فرما دیتے ہیں
یہ بت پنہاں نہیں ہوتے خدا ظاہر نہیں ہوتا
غنیمت یہ زمانہ ہے کہ میں کافر نہیں ہوتا
انگریزی ملازمت کرتے کرتے اس پر جرا¿ت مندانہ تنقید بھی کر جاتے ہیں
کہا انگریز نے ہم اڑ رہے ہیں
کہا میں نے خدا تم کو اڑائے
حضرت لسان العصر نے عشق بھی فرمایا ہو گا۔ تجربے کی بات لگتی ہے
دل میں سوزش ہے آنکھ میں آنسو
عشق ہے کھیل آگ پانی کا
لیکن خان بہادر صاحب پکے سچے مومن اور مشرقی تہذیب کے شیدائی تھے
خوف حق الفت احمد کو نہ چھوڑ اے اکبر
منحصر ہے ان ہی دو لفظوں پہ سارا اسلام
اور سنئے
حریفوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں
کہ اکبر ذکر کرتا ہے خدا کا اس زمانے میں
(کلیات اکبر مطبوعہ مکتبہ شعر و ادب سمن آباد لاہور میں یہ شعر اسی طرح درج ہے
گو کہ عام طور پر مشہور ہے، کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں)
معلوم ہوتا ہے کہ خان بہادر صاحب میر تقی میر کو اردو شاعری کا میر کارواں مانتے ہیں
میں ہوں کیا چیز جو اس طرز پہ جاﺅں اکبر
ناسخ و ذوق بھی جب چل نہ سکے میر کے ساتھ
مسائل میں مناسب اسباب کی اہمیت کس خوبی سے اجاگر کرتے ہیں
میں یہ نہیں کہتا کہ دوا کچھ نہیں کرتی
کہتا ہوں کہ بے حکم خدا کچھ نہیں کرتی
ایک بار عدالت عالیہ میں کچھ پادریوں نے اکبر الٰہ آبادی کو تبلیغ فرمانے کی کوشش کی۔ دیکھئے کیا دوٹوک جواب دیا ہے!
جو ہم کو برا کہتے ہیں معذور ہیں اکبر
حق یہ ہے کہ ہم بھی انہیں اچھا نہیں کہتے
ہم حضرت عیسٰیؑ کا ادب کرتے ہیں بے حد
لیکن انہیں اللہ کا بیٹا نہیں کہتے
جب جناب اکبر الٰہ آبادی کی شمع زندگی گل ہونے کو تھی ان ہی ایام میں خلافت عثمانیہ کا چراغ بھی ٹمٹما کر بجھنے والا تھا۔ علامہ اقبال نے غم کے سمندر میں ڈوب کر ملت کو تسلی دی
اگر عمثانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
اکبر نے اپنے جذبات کا اظہار یوں فرمایا
بہت خود رائے تھے سلطان صاحب
رہا کرتی تھی ان سے تنگ لڑکی
ہوئے رخصت وہاں سے اولڈ فیشن
ترقی اب کرے گی ینگ لڑکی
صاحبو! غالباً یہ جناب اکبر الٰہ آبادی کے آخری اشعار ہیں۔ علامہ اقبالؒ نے نہایت ادب سے یہ کہہ کر مہر ثبت کی
یہ لسان العصر کا پیغام ہے
”ان وعداللہ حق“ یاد رکھ
اور ہم آج کی تحریر اکبر ہی کے ایک شعر پر ختم کرتے ہیں جو ان پر عین صادق ہے
کہے جو چاہے کوئی میں تو یہ کہتا ہوں اے اکبر
خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں