اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

 
Thu, 21 Aug 2008 13:12:00

جشن آزادی کے بعد....دس کروڑ ایس ایم ایس

جشن آزادی کے بعد....دس کروڑ ایس ایم ایس

عباس اطہر
پاکستان ہی نہیں، یہ دنیا کی تاریخ میں ریکارڈ ہے ہر ایس ایم ایس کا پیغام ایک ہی تھا ”آزادی مبارک“۔ اور یہ پیغام بھی ایک ریکارڈ ہے۔ اس سے پہلے کسی ڈکٹیٹر سے نجات پر اتنی خوشی نہیں منائی گئی یہ بھی ایک ریکارڈ ہے۔ اور اس سے پہلے کسی ڈکٹیٹر نے اپنے ہم وطنوں پر اتنے ظلم بھی نہیں ڈھائے، یہ بھی ایک ریکارڈ ہے اور ڈکٹیٹر کے بعد بننے والی جمہوری حکومت کو جتنے مسائل ورثے میں ملے اور وہ جتنے سنگین ہیں، اسکی بھی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ بھی ایک ریکارڈ ہے اور عوام کو نئی حکومت سے جتنی توقعات ہیں، ان کا حجم بھی ایک ریکارڈ ہے۔
گویا ریکارڈوں کے ڈھیر لگ گئے ہیں۔
سب سے پہلے آزادی مبارک کے ریکارڈ نوعیت کے پیغام کو لیجئے۔ پوری قوم مشرف کے استعفے کو محض آمریت سے نجات کے معنی میں نہیں لے رہی، وہ سمجھ رہی ہے کہ 14 اگست 1947ءکو آزاد ہونے والا ملک 12 اکتوبر 1999ءکو پھر سے غلام ہو گیا اور وہ اس غلامی سے نجات کو آزادی قرار دے رہی ہے۔ ڈکٹیٹر اس ملک میں پہلے بھی آئے۔ ایوب خاں، یحیٰی خاں، ضیاءالحق، ان سب کے خلاف تحریک چلی اور ان سے نجات پر یوم نجات منایا گیا۔ بھٹو کی حکومت جمہوری تھی لیکن اس کے خلاف بھی اپوزیشن نے تحریک چلائی اور یوم نجات منایا۔ نواز شریف اور بینظیر کی چاروں حکومتوں کیخلاف تحریکیں چلیں، دھرنے دئیے گئے اور یوم نجات منایا گیا لیکن یوم آزادی کبھی نہیں منایا گیا۔ یہ ”سعادت“ صرف مشرف دور کے حصے میں آئی۔ اسکی وجوہات ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ باوجود اسکے کہ ہم ہر دور میں امریکہ کے دست نگر رہے ہیں، ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ہر فیصلے کا اختیار امریکہ کے ہاتھ میں آ جائے۔ مشرف نے امریکی احکامات کی تعمیل اس حد تک آگے جا کر کی کہ خود امریکہ بھی حیران رہ گیا۔ اس کے مطالبے پر پاکستانی شہریوں کی ایک ریکارڈ تعداد پکڑ پکڑ کر امریکہ کے حوالے کر دی گئی اور اس کے بدلے میں ڈالروں کے ڈھیر کمائے گئے۔ غلامی کی داستان بہت لمبی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہماری تمام دفاعی تنصیبات امریکہ کے سپرد کر دی گئیں اور آج بھی یہ حالت ہے کہ سالانہ 90 ہزار ٹینکر اتحادی فوجوں کیلئے تیل لے کر ہماری سرزمین سے افغانستان جاتے ہیں۔ یہ اس لاجسٹک سپورٹ کا محض ایک حصہ ہے جو نائن الیون کے بعد امریکہ کو دی گئی اور اس داستان کا سب سے درد ناک حصہ یہ ہے کہ امریکی ایجنسیوں کو پاکستان میں کھلی چھوٹ دے دی گئی کہ وہ جسے چاہیں پکڑ لیں، جسے چاہیں یہیں اذیت و تعذیب کا نشانہ بنائیں اور جسے چاہیں بگرام یا گوانتاناموبے بھیجیں۔ اسی درد ناک حصے کو آگے بڑھاتے ہوئے امریکہ اور نیٹو افواج کو اجازت دے دی گئی کہ وہ جب چاہیں، جہاں چاہیں بمباری کر دیں۔ خود مختاری برائے فروخت کا اگلا مرحلہ یہ تھا کہ امریکی سفارت خانہ عملاً پاکستان کا دارالحکومت بن گیا۔ ہماری اس غلامی کی ایک جلی سرخی ”عافیہ صدیقی“ ہے۔ چنانچہ یہ وہ پس منظر ہے جس میں مشرف سے نجات کو یوم آزادی قرار دیا گیا۔
مشرف کا جرائم نامہ بہت لمبا ہے اور سب کو یاد ہے۔ ایک سرسری نظر ڈالی جائے تو معلوم ہو گا کہ انہوں نے سب سے پہلے کرگل کی جنگ کا ڈرامہ کیا جس کا مقصد بظاہر کشمیر آزاد کرانا تھا لیکن درحقیقت ملک فتح کرنا تھا۔ اس سازشی جنگ میں ہزاروں پاکستانی فوجی شہید ہو گئے۔ دوسرے الفاظ میں ان کی جانیں دفاع وطن پر نہیں، مشرف کو تخت دلانے کیلئے برف زاروں میں نچھاور کر دی گئیں۔ پھر انہوں نے طیارہ ہائی جیک کیا اور اس کا الزام منتخب وزیراعظم پر لگا کر اس کا تختہ الٹ دیا۔ پھر ایک جعلی ریفرنڈم کرایا۔ کرپشن کو سرکاری پالیسی بنایا اور اسے اوپر سے لے کر نیچے فروغ دیا یہاں تک کہ پاکستان میں ہر طرف، ہر جگہ کرپشن کا راج قائم ہو گیا۔ سرکاری خزانے کی اتنی بے دردی سے لوٹ مار کی، قومی وسائل اس بے رحمی سے ضائع کئے اور سرکاری خرچے پر اتنے عیاشانہ غیر ملکی دورے کئے کہ دنیا میں شاید ہی کہیں اسکی مثال مل سکے۔ درد ناک مذاق یہ تھا کہ یہ ساری لوٹ مار قومی مفاد کے نام پر کی۔ ان کے دور میں سب سے زیادہ سیاسی قتل ہوئے، ایک سو دو سے زیادہ تو صحافی ہی مارے گئے۔ خودکش دھماکے ان کا سب سے بڑا تحفہ ہیں جن میں ہزارہا پاکستانی مارے گئے اور لاکھوں افراد کی زندگیاں تباہ ہو گئیں۔ قوم کے زخموں پر نمک چھڑکنے کیلئے ہر المیے کے موقع پر رقص فرمانا یا قوم کو مکے دکھانا مشرف کا خصوصی ٹریڈ مارک تھا۔
بہرحال، جرائم کا قصہ بہت طویل ہے۔ عدلیہ کو توڑنا، چیف جسٹس کو برطرف اور قید کرنا، قومی ہیرو ڈاکٹر قدیر کو رسوا کرنا بھی اس قصے میں شامل ہے چنانچہ ایسے غیر انسانی اور وطن دشمن ڈکٹیٹر کی رخصتی پر قوم جتنی بھی خوش ہو، کم ہے لیکن خوشی کا جوش و خروش جب کم ہو گا تو جو تصویر نظر آئے گی وہ اتنی زیادہ امید افزا نہیں ہے۔ حالات کی سنگینی مواخذے اور استعفے کے شور میں دب کر رہ گئی لیکن کم نہیں ہوئی اور سمجھداری سے کام نہ لیا گیا تو یہ سنگینی مزید بڑھ جائے گی۔
مہنگائی کا مسئلہ لوگوں کے اعصاب توڑ رہا ہے۔ ان میں اب مزید بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں۔ جرائم اور بے روزگاری کے عفریت الگ دندنا رہے ہیں۔ دہشت گردی کا جن مشرف نے بوتل سے نکالا تھا اور نئی حکومت کو ابھی اس جن کی طرف دیکھنے کا وقت ہی نہیں ملا۔ صنعتیں بند پڑی ہیں، زراعت سسکیاں لے رہی ہے اور ان سب کے متوازی عدلیہ کی بحالی کا وہ پرخار مسئلہ ہے جو مشرف نے شاید پیدا ہی اس لئے کیا تھا کہ نئی حکومت کانٹوں بھرے اس درخت کے ساتھ ٹکریں مار مار کر لہولہان ہو جائے۔ اس مسئلے پر اتحادی حکومت ٹوٹنے کا خطرہ موجود ہے۔ ایسا ہوا تو عدم استحکام اور درپردہ سازشوں کا وہ چکر چلے گا جو خدانخواستہ ہماری تباہی کی کہانی پر مہر لگا سکتا ہے۔
خدا ایسا وقت نہ لائے اور حکمران اتحاد کو جشن کی فضا سے نکال کر حالات کی سنگینی پر توجہ دینے کی ہمت دے۔


 


5 / 5 (1 Votes)









 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier