اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 21 Aug 2008 13:10:00

آئندہ صدر کون ہو گا

آئندہ صدر کون ہو گا
(غیر سیاسی باتیں........عبدالقادر حسن)
وہ تو چلا گیا مگر اپنے پیچھے ایک خلا چھوڑ گیا کہ اس کی جگہ صدر کون ہو گا۔ اب اسی سوال پر سیاست دان سرگرداں ہیں۔ اس موقع پر پنجابی کی ایک ضرب المثل جس کی زبان ذرا سخت ہے مگر ہے بہت دلچسپ : ترجمہ یوں ہے کہ گاﺅں ابھی بسا نہیں چور اچکے پہلے آگئے۔ پاکستان کی صدارت کا عہدہ خالی ہوا ۔ اس لئے اس منصب جلیلہ کے امیدوار سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اخباروں میں جن لوگوں کے نام چھپ رہے ہیں ان میں سندھ سے جناب شعبان میرانی، بلوچستان سے سردار عطاءاللہ مینگل، صوبہ سرحد سے جناب اسفند یار ولی اور مولانا فضل الرحمان اور پنجاب سے میاں نوازشریف۔ ان کے علاوہ بھی کچھ نام سامنے آ رہے ہیں یا لائے جا رہے ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔
اس طرح عہدہ صدارت کے لئے کئی جبینوں میں نیاز کے سجدے تڑپ رہے ہیں۔ جو جناب آصف علی زرداری کے آستانے پر نچھاور کئے جا رہے ہیں۔ یہ زرداری صاحب ہی ہوں گے جو صدارت کا حتمی فیصلہ کریں گے کیونکہ اکثریت ان کے پاس ہے اورصوبوں کی سیاست میں بھی ان کا گہرا عمل دخل ہے۔ یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ صدر کے انتخاب کے حلقے میں صوبائی اسمبلیاں بھی شامل ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ صدر کسی چھوٹے صوبے سے ہونا چاہئے۔ وزیراعظم پنجاب سے ہے اس لئے مناسب یہی ہو گا کہ صدرکسی دوسرے صوبے سے تعلق رکھتا ہو۔ عام آدمی اس کے لئے سرحداور بلوچستان کو ترجیح دے رہا ہے۔ خصوصاً بلوچستان کو اس صوبے کی اہمیت اور محرومی دونوں دوسرے صوبوں سے زیادہ ہیں۔ قومی سیاست پر دو لیڈر چھائے ہوئے ہیں۔ آصف صاحب اور میاں صاحب۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ زرداری صاحب نے اپنا وزیراعظم نامزد کر کے گویا اقتدار میں سے اپنا حصہ وصول کر لیا ہے۔ اس وقت وفاقی حکومت پیپلزپارٹی کے پاس ہے اور زرداری صاحب اس پارٹی کے شریک چیئرمین اور اصل چیئرمین کے باپ ہیں۔ اس طرح پارٹی عملاً زرداری صاحب کے پاس ہے۔ وہ وزیراعظم بھی ہیں اور بادشاہ گر بھی۔ اسی لئے میاں صاحب نے ایک بھارتی ٹی وی سے انٹرویو میں کہا ہے کہ صدارت کا فیصلہ زرداری صاحب کے ساتھ مشورے سے کیا جائے گا یہ انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ کیا وہ صدارت کے امیدوار ہیں۔ صدارت کے امیدواروں میں دلچسپ امیدوار مولانا فضل الرحمان ہیں۔ مولانا ایک متنازعہ شخصیت ہیں۔ وہ وزارت عظمیٰ کے بھی امیدوار تھے جس کا زرداری صاحب نے نیم مسکراہٹ کے ساتھ مذاق بھی اڑایا تھا اب وہ اس سے بھی آگے بڑھ رہے ہیں تو سیاسی حلقے اس پر مسکرا کر رہ جاتے ہیں۔ سردار عطاءاللہ مینگل اس عہدے کو قبول کرنے میں کچھ تامل ہیں لیکن پاکستانیوں کے لئے ان کی صدارت خوشی کا سبب بنے گی۔ مجھے یاد ہے کہ مدت ہوئی ایک دفعہ سردار صاحب نے کہا تھا کہ اگر پاکستان اور کہیں نہ رہا تو ہم بلوچستان کا نام پاکستان رکھ دیں گے۔ صوبہ سرحد سے اسفندیار ولی صاحب بھی ایک قابل احترام نام ہیں۔ امریکہ بھی ان سے خوش ہے وہ امریکہ جا کر پشتون قوم کا مقدمہ پیش کر چکے ہیں اور اس پر انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا تھا لیکن مینگل اور اسفندیار فی الحال کچھ متامل ہیں۔
پیپلزپارٹی کے حلقوں میں یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ عہدہ صدارت جناب آصف زرداری کے سپرد کر دیا جائے ان کا سیاسی مرتبہ و مقام بھی اس عہدہ کے مطابق ہے اور وہ ایک چھوٹے صوبے سے تعلق بھی رکھتے ہیں۔ زرداری صاحب سے جب بھی کہا گیا کہ وہ اس عہدے کے لئے امیدوار کیوں نہیں بنتے تو وہ ٹال گئے۔ گزشتہ دنوں لاہور کے گورنر ہاﺅس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے میں نے جب ان سے کہا کہ وہ صدر کیوں نہیں بن جاتے تو میں جو اتفاق سے ان کے قریب بیٹھا تھا میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں آپ کو بناﺅں گا یہ بات جو مذاق میں کہی گئی ان کی طرف سے اس سوال کوٹالنے کے لئے تھی۔ اگر ملک کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو مسائل کے طوفان میں گھرے ہوئے اس ملک کو کسی ایک سیاسی پارٹی کی یکسو حکومت درکار ہے جو کسی رکاوٹ اور مداخلت کے بغیر ملک کی خدمت کا فرض انجام دے سکے۔ ہمارا سیاسی کلچر اور کچا سیاسی تجربہ ابھی کسی مخلوط حکومت سے ملک کے مسائل حل نہیں کر سکتا۔ ان دنوں مخلوط حکومت ہے بھی اور نہیں بھی۔ کابینہ کے گزشتہ اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے چار وزراءنے شریک ہونا چاہا جو اعلان کر چکے تھے کہ وہ کابینہ میں واپس جا رہے ہیں تو زرداری صاحب نے بجا طور پر کہا کہ آئیں تو تمام وزراءآئیں ورنہ نہ آئیں۔ معزول ججوں کی بحالی پر یہ وزراءاڑے ہوئے ہیں اور مستعفی ہو چکے ہیں۔ عرض یہ ہے کہ مخلوط حکومت ہمارا حل نہیں ہے۔ اگر وزیراعظم اور صدر ایک جماعت سے ہو توپھر پوری ذمہ داری اس جماعت کی ہو گی اور کوئی عذر قابل قبول نہ ہو گا۔ یوں تو ایک دلچسپ صورت یہ ہے کہ ملک کے اندر ایک صاحب ایسے موجود ہیں جو آئینی طور پر اب بھی ملک کے صدر ہیں اور وہ ہیں محترم رفیق تارڑ جن کو صدارت سے نکال دیا گیا تھا۔ انہوں نے استعفیٰ نہیں دیا تھا۔ آئینی طور پر اس وقت رفیق تارڑ صاحب ایوان صدر جا کر اپنا منصب سنبھال سکتے ہیں اور یہ بالکل آئینی اور قانونی ہو گا، صدر رفیق تارڑ خود بخود بحال ہو جائیں گے۔








  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: air purifier