اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 21 Aug 2008 13:09:00

لائٹ کیمرہ ایکشن

لائٹ کیمرہ ایکشن

وجاہت علی عباسی

کراچی کے علاقے صدر میں ایک مارکیٹ ہے جو رینبو سینٹر کے نام سے مشہور ہے اس مارکیٹ کی خاصیت یہ ہے کہ وہاں دنیا کی سب سے زیادہ فلموں کی بغیر لائسنس کے کاپیاں یعنی ڈی وی ڈی بنا کر فروخت کی جاتی ہیں۔ انڈیا میں بننے والی ہندی فلموں کی چھ ملین سے زیادہ پائریڈڈ کاپیاں بنا کر 2007ءمیں رینبو سینٹر کی چھوٹی سی چار منزلہ بلڈنگ نے ساری دنیا کی پائریسی کا ریکارڈ توڑ دیا۔ سب جانتے ہیں کہ ہم نے 1947ءمیں انڈیا کو چھوڑ دیا لیکن کسی بھی دن اگر آپ اس بلڈنگ کے اندر جا کر دیکھیں تو یقین آ جائے گا کہ ہم نے انڈیا کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔
ہندوستان میں فلمیں بہت لمبے عرصے میں بنتی ہیں یہاں تک کہ فلم پاکیزہ سولہ سال کے عرصے میں بنی۔ عام حالات میں ایک فلم کی شوٹنگ تین مہینے اور اسے نکھارنے‘ سنوارنے میں چھ سے نو مہینے لگتے ہیں پھر پیسہ پانی کی طرح بہاتے ہیں کبھی پچاس کروڑ تو کبھی سو کروڑ ایک فلم کو بنانے میں خرچ کیے جاتے ہیں۔ اوپر سے سینکڑوں لوگوں کی جی توڑ محنت۔ اتنا سب ہندوستان والے اس لیے کرتے ہیں تاکہ وہ فلم ریلیز ہوتے ہی ہمارے رینبو سینٹر میں بیٹھے بھائی لوگ تین گھنٹے میں اس فلم کی لاکھوں کاپیاں بنا کر پوری دنیا میں پھیلا دیں۔
رینبو سینٹر میں داخل ہوتے ہی لگتا ہے کہ پوری انڈین فلم انڈسٹری آپ کے سامنے آ کر کھڑی ہوگئی ہے چھوٹی چھوٹی دکانیں جن میں ہزاروں ڈی وی ڈی رکھی ہیں۔ ساتھ میں ہر دکان میں تین سے چار ٹی وی اسکرین جن پہ مختلف فلمیں چل رہی ہوتی ہیں۔
چاروں طرف بڑے بڑے اداکاروں کے پوسٹرز۔ کہیں امتیابھ کھڑے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ”جہاں سے ہم کھڑے ہو جائیں لائن وہیں سے شروع ہوتی ہے“ تو کہیں کسی پوسٹر پہ شاہ رخ خان کو کچھ کچھ ہو رہا ہوتا ہے یا پھر سامنے دیوار پہ لگی مادھوری ہم سے کہہ رہی ہوتی ہے۔ آجا پیا آئی بہار۔ چاروں طرف نظریں گھمانے سے کسی دکان میں لگے اسکرین پر کتھک ڈانس ہوتا ہوا نظر آ رہا ہوتا ہے تو کہیں سے مندر کی گھنٹی کی آواز آ رہی ہوتی ہے تو کہیں سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا ہو رہا ہوتا ہے یہ سب دیکھ کر دل کرتا ہے کہ انڈیا میں رہنے والوں کو ہم دعوت دیں کہ اگر اصلی انڈیا دیکھنا ہے تو کسی دن رینبو سینٹر کا چکر لگاﺅ۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کراچی میں انڈین فلموں کی اتنی بڑی مارکیٹ کیوں ہے؟ تو اس کا آسان سا جواب ہے کہ مارکیٹ ہمیشہ ڈیمانڈ کی وجہ سے بنتی ہے جبکہ پچھلے کئی سالوں سے ہندوستانی فلمیں پاکستان میں غیرقانونی تھیں اس کے باوجود اس مارکیٹ نے دم نہیں توڑا وجہ سرف سے دھلی بالکل صاف ہے یعنی پاکستان میں رہنے والوں کو فلمیں دیکھنے کا بہت شوق ہے۔ جب بھی پاکستان انڈیا کے حالات خراب ہوتے شامت بیچاری اس مارکیٹ کی آ جاتی یعنی کشمیر میں جب کبھی ہندوستانی فوجی گولہ باری کرتے اگلے دن پولیس کراچی میں آکے رینبو سینٹر میں پاکستانی دکانداروں کی دکانوں میں چھاپے مار کر ہندوستان سے بدلہ لیتی۔
رینبو سینٹر والوں نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں وہ راتوں رات ساری ہندوستانی فلمیں غائب کر دیتے پوسٹر نکال لیتے اور ایک رات میں ہی وہاں کے ہندوستانی نقشے کو بدل کر پاکستانی کر دیتے یعنی چاروں طرف دیکھنے سے صرف آپ کو اب پاکستانی ڈراموں کی اور بچوں کے کارٹونوں کی ڈی وی ڈی نظر آتی ہیں۔ پھر تھوڑی دیر میں سب کشل منگل ہو جاتا یعنی سب ٹھیک ٹھاک جس کے بعد پھر سے امیتابھ اور شاہ رخ خان پوری مارکیٹ میں جگہ جگہ ناچتے گاتے نظر آنے لگتے۔
رینبو سینٹر نے صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ ڈی وی ڈی کی کاپیاں بنا بنا کر پوری دنیا میں پھیلا دیں۔ ہر سال کروڑوں ڈی وی ڈی پوری دنیا میں یہاں سے برآمد کی جاتی ہیں ایسی جگہیں جہاں شاید کبھی کوئی ہندوستانی گیا بھی نہ ہو۔ رینبو سینٹر نے وہاں تک ہندوستانی فلموں کو پہنچا دیا آج سب اکشے کمار کو کھلاڑی اور شاہ رخ خان کو بازی گر مانتے ہیں کیونکہ لوگوں کے مطابق ان دونوں نے بالی وڈ کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا ہے لیکن یہ کام رینبو سینٹر والے اصل میں ان راتوں میں جاگ کر کر رہے ہوتے ہیں جب یہ ہیرو لمبی تان کر سو رہے ہوتے ہیں یعنی گھر گھر ان کے ٹیلنٹ کو پہنچانے کا سہرا ہمارے کراچی میں بیٹھے ڈی وی ڈی کی کاپیاں بنا کر بیچنے والے ان بھائیوں کے سر جاتا ہے۔
رینبو سینٹر کی طاقت کو دیکھ کر ہندوستان نے سوچا لڑنے سے بہتر ہے دوستی کرلی جائے پچھلے کچھ مہینوں سے ہندوستان کی فلمیں قانونی طریقے سے پاکستان میں ریلیز ہوتی ہیں تھیٹر میں لگتی ہیں اور پھر ڈی وی ڈی پر کاپی رائٹ کے ساتھ ریلیز کی جاتی ہیں۔ اتنی بڑی فلموں کی مارکیٹ جسے دیکھ کر ہندوستان اپنی دشمنی بھلا کر ہمارے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے اس مارکیٹ میں پاکستان میں رہنے والے فلم بنانے والوں نے کیا کیا؟ تو جواب ہے ”کچھ نہیں“ ان کے حساب سے لوگ پاکستانی فلمیں نہیں دیکھتے اب لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ جب تک فلمیں بنیں گی نہیں وہ دیکھیں گے کیسے آج پاکستان میں اگر غلطی سے کوئی فلم بن جاتی ہے تو اسے کئی سال تک رٹا جاتا ہے کہ ہم نے بھی فلم بنائی ہماری پاکستانی فلم میکرز سے گزارش ہے کہ خدا کے لیے اور فلمیں بنائیں اور اس انڈسٹری سے ہندوستان کے بجائے پاکستان کو فائدہ پہنچائیں۔

 

 









  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: air purifier