اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

 
Thu, 21 Aug 2008 13:08:00

ایک تھا بادشاہ

ایک تھا بادشاہ
(پھر بیاں اپنا........ قمر علی عباسی)
بچپن میں ہمیں بادشاہ بننے کا شوق تھا۔ کیا ٹھاٹھ باٹ، زرق برق لباس، سنہری تاج اور ہیرے موتی سے جڑا ہوا تخت۔ جس طرف نگاہ اٹھائی سب جھک گئے جو لفظ زبان سے نکالا وہ حکم بن کر قانون کہلایا۔ ذرا بڑے ہوئے، اسکول میں تاریخ پڑھنا پڑی تو معلوم ہوا تخت کو تختہ بننے میں کچھ دیر نہیں لگتی۔ وہ بادشاہ جو پوری رعایا کا ان داتا ہوتا ہے وہ اپنے کسی وزیر مشیر، بھائی یا بیٹوں کے ہاتھ سے مارا جاتا ہے۔ اس لئے ہم نے بادشاہ بننے کا ارادہ ترک کر دیا۔ پھر خیال آیا پاکستان کے صدر بن جائیں، اس میں بڑی طاقت اور قوت ہوتی ہے لیکن جلد پتہ چلا کہ جب بھی کوئی صدر، اقتدار سے محروم ہوتا ہے تو اس کے پاس عزت نام کی کوئی چیز نہیں رہتی۔ بہت سوچا، غور کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ رعایا بننا زیادہ عقلمندی ہے۔ اس میں نہ اقتدار ملتا ہے نہ چھنتا ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں جتنے سربراہان گزرے ہیں وہ دراصل گزر گئے کیونکہ اقتدار سے جانے کے بعد ان پر جتنے پتھر برسائے گئے اتنے تو شیطان پر نہیں مارے جاتے۔ یوں محسوس ہوتا ہے لوگ تیار رہتے ہیں، انتظار کرتے رہتے ہیں کہ کب سربراہ کرسی سے اتریں اور وہ اس پر حملہ کر دیں۔ جمہوریت کا لطف یہی ہے کہ پہلے سر پر بٹھاﺅ پھر زمین پر ڈال کر اپنے پیروں سے کچل دو۔
ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ عقلمندی، دانشمندی، ہوشیاری، سوجھ بوجھ میں ہم سے زیادہ کوئی نہیں کیونکہ ہم نے وہ بننا گوارا کیا جس کے پاس ہمیشہ طاقت رہتی ہے اور اگر ایسا نہیں بھی ہے تو عام تصور یہی ہے کہ عوام طاقت کا سرچشمہ ہیں وہ تخت گرا سکتے ہیں تاج اچھال سکتے ہیں حالانکہ کبھی کبھی ان بے چاروں کے پاس ایک سکہ بھی نہیں ہوتا جسے اچھال کر وہ فیصلہ کر سکیں کہ روٹی کا ٹکڑا وہ اپنے بڑے بچے کو دیں یا چھوٹے کو پھر بھی وہ طاقتور سمجھے جاتے ہیں۔
انسان خواب دیکھتا ہے خوش رہتا ہے اگر ایسا نہ ہو تو زندگی بے رنگ اور بے کیف ہو جائے، جمہوریت عوام کیلئے ایک سہانا خواب ہے جسے سب دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ ترقی پسند ملکوں میں باغ نہیں ہوتے لوگوں کو سبز باغ دکھائے جاتے ہیں۔ وعدے ہوتے ہیں پورے نہیں کئے جاتے پھر بھی جمہوریت قائم رہتی ہے۔
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا، 18 فروری کے انتخابات کے بعد جن جماعتوں نے زیادہ ووٹ لئے وہ یکجا ہو گئیں اور صدر کے مواخذے کی باتیں شروع ہو گئیں اور پھر آہستہ آہستہ ہوائیں طوفان کی صورت اختیار کر گئیں۔ ایسا محسوس ہوتا تھا ہر برائی ہر خرابی ہر ناکامی کی جڑ پرویز مشرف ہیں۔ وہ سارے لوگ جو زندگی کے کسی معاملے میں کوئی رائے نہیں دے سکتے تھے وہ پتھر بن کے فیصلے کرنے لگے۔ محسن بھوپالی نے کہا تھا
تلقین اعتماد وہ فرما رہے ہیں آج
راہ طلب میں خود جو کبھی معتبر نہ تھے
جب طوفان آتا ہے تو بڑے بڑے قد آور درخت بھی جڑ سے اکھڑ جاتے ہیں تیز ہوائیں یہ فیصلہ نہیں کرتیں کہ گرنے والا شجر ثمر بار تھا یا خزاں رسیدہ۔
صدر مشرف کے خلاف ایک طوفان اٹھا اور انہیں استعفٰی دینا پڑا۔ عام خیال ہے اس کا سہرا جناب آصف زرداری کے سر ہے اور اب تمام معاملات چٹکی بجاتے درست ہو جائیں گے۔
دہلی میں بادشاہی مسجد کے سنگ بنیاد رکھنے کا وقت تھا سب لوگ موجود تھے اچانک ایک درویش نے صدا لگائی۔ اس مسجد کا سنگ بنیاد وہ رکھے گا جس نے کبھی فجر کی نماز قضا نہ پڑھی ہو۔
لوگوں پر گہرا سناٹا طاری ہو گیا تب چند لمحوں بعد ایک شخص ننگے پاﺅں مجمع سے روتا ہوا نکلا اور درویش سے شکایت کرنے لگا آپ نے میرا راز فاش کر دیا اور سنگ بنیاد کے پتھر کو ہاتھ میں لیا یہ شہنشاہ شاہ جہاں تھا۔
پاکستان میں جو حالات کل ہوں گے اس میں فیصلہ کرنے کے لئے بادشاہی مسجد کے واقعہ کو سامنے رکھنا ضروری ہے وہی پہلا پتھر رکھے گا جس کا دامن ایسا ہو....ع
”نچوڑ دے تو فرشتے وضو کریں“
٭٭٭

4 / 5 (1 Votes)









 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier