|
ملک سلیم اکبر اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔ شاید یہی قانون قدرت ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو دولت دیکر دیکھتا ہے کہ کیا وہ واقعی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ دولت کو اللہ کے غریب بندوں پر بھی خرچ کرتا ہے یا اپنے باپ کا مال سمجھ کر اس دولت پر ”سانپ“ بن کر بیٹھ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دیکھنا چاہتے ہیں کہ جس شخص کو وہ عزت دے رہے ہیں وہ شخص عزت کو سنبھالنے کی قدرت بھی رکھتا ہے کہ نہیں؟ کچھ ایسا ہی حال جنرل مشرف کا بھی رہا۔ اللہ تعالیٰ نے مشرف کو بے شمار عزت دی لیکن شاید عزت مشرف کو راس نہیں آئی۔ 18 فروری کے الیکشن کے بعد مشرف نے نوشتہ دیوار پڑھنے کے باوجود عزت سے استعفیٰ نہیں دیا اور بالآخر چاروں اسمبلیوں سے عدم اعتماد کی قراردادیں منظور ہونے کے بعد ذلیل و خوار ہو کر استعفیٰ دیا لیکن اصل میں MILLION DOLLAR کا سوال تو یہ ہے کہ زرداری اور نوازشریف کی مخلوط حکومت نے مشرف کے خلاف جو الزامات لگائے ہیں ان میں سے اکثر الزامات تو ایسے ہیں جن کی سزا کم از کم ”پھانسی“ کا پھندا ہے اب حکومت عوام کو جواب دے کر مشرف کے استعفیٰ سے ان سنگین ترین الزامات کی شدت کس طرح ختم ہو سکتی ہے؟ قوم مشرف کا استعفیٰ نہیں بلکہ محاسبہ کرکے حساب لینا چاہتی ہے تو پھر مشرف کو گارڈ آف آنر کس کے کہنے پر اور کیوں کردیا گیا۔ اس سے پہلے جانے والے حکمرانوں ایوب خان‘ یحییٰ خان‘ فاروق لغاری اور رفیق تارڑ کو تو جاتے وقت گارڈ آف آنر کی ”عزت“ سے نہیں نوازا گیا تھا پھر ذلیل و خوار ہو کر جانے والے مشرف کو گارڈ آف آنر دینے کا مقصد 16کروڑ عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنا تھا یا مشرف کے آنے پر بھی مٹھائی بانٹنے اور مشرف کے جانے پر بھی مٹھائی بانٹنے والے 16 کروڑ عوام کو یہ بتانا مقصود تھا کہ NRO کے تحت واپس آنے والے حکمرانوں نے جانے والے مشرف کے ساتھ بھی ایک نیا NRO سائن کرکے مشرف کو ”محفوظ“ دے دیا ہے۔ شکست خوردہ مشرف کا خود کو سیاسی طاقتوں کے رحم و کرم پر چھوڑنا ہی یہ ظاہر کر رہا ہے کہ لازمی طور پر حکمرانوں اور مشرف کے درمیان ”مک مکا“ ہو کر ”ڈیل“ ہو چکی ہے اور اب حکمران قوم کی توجہ اصل نکتے سے ہٹانے کیلئے آئندہ صدر کا عدالتی احتساب کرکے مشرف کو سزا دینے کے مسئلے سے عوام کی توجہ ہٹائی رہے گی۔ زرداری اپنی بہن فریال تالپور کو ”صدر پاکستان“ بنانے کے چکر میں ہیں جبکہ پی پی پی اور نوازشریف کے درمیان ہونے والے ”زبانی کلامی“ معاہدے کے تحت تو یہ طے ہوا لگا کہ وزیراعظم پی پی پی کا ہوگا اور نوازشریف کو صدر بنایا جائے گا لیکن شاید اس وقت انہیں اس بات کا ذرا سا بھی یقین نہیں لگا کہ مشرف اپنی زندگی ہی میں کبھی عہدہ صدارت سے الگ بھی ہو سکتے ہیں۔ اب مشرف کی رخصتی سے پی پی پی اور نوازلیگ کا مشترکہ دشمن غیرمتوقع طور پر درمیان سے نکل گیا ہے اب زرداری اور بلاول آئندہ صدر پی پی پی کا لانا چاہتے ہیں جبکہ نوازشریف ان اعلانات کو بالکل بھی خاطر میں لائے نظراندا کر رہے ہیں۔ 718-692-0707 پر فون کرکے ہمیں یو ایس ٹریول ایٹ g میل ڈاٹ کام پر ای میل کرکے ہمیں بتائیں کیا آپ کو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ایک کھیل ختم ہونے کے بعد دوسرا کھیل شروع ہو گیا ہے؟ ذاتی طور پر تو ہمیں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان میں مخلوط نہیں بلکہ مخبوط الحواس حکومت کی حکمرانی ہے جو نہ تو ججوں کی بحالی ہی کا اعلان کرنے میں سنجیدہ ہے اور نہ ہی پاکستان کو ایک ایسا صدر پاکستان دینا چاہتی ہے جو چاروں صوبوں میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو اور جسے ہم واقعی وفاق پاکستان کی علامت سمجھ سکیں۔ کاش جمہوریت جمہوریت کے زبانی نعرے لگانے والے عوام کو صحیح معنوں میں جمہوریت کا تحفہ بھی دے سکیں۔ اب پھر ”جمعہ“ کو عوام کو تحفہ دینے کا اعلان کیا گیا ہے جانے وہ کون سا ”جمعہ“ ہوگا جب عوام کو جمہوریت کا ”چوما“ ملے گا۔ مناسب اور ضروری سمجھتا ہوں کہ 17 اگست کو لٹل پاکستان بروکلین میں اتوار کو ہونے والے کامیاب ترین بروکلین میلے میں شامل ان ہزاروں پاکستانیوں کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کروں کہ جنہوں نے 19ویں بروکلین میلے کو تاریخ ساز کامیابی سے ہمکنار کرکے پاکستان کی آزادی کا جشن منایا۔ ہم بروکلین میلے کے چیئرمین کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک محب الوطن پاکستانی کی حیثیت سے اپنی پوری ٹیم کی طرف سے ان ہزاروں پاکستانیوں کا احسان مند ہوں جنہوں نے بروکلین میلے میں شرکت کرکے اپنا فرض بھی ادا کیا اور اپنی مٹی کا قرض بھی ادا کیا۔ دیارغیر میں رہتے ہوئے ہمیں پاکستان کے حوالے سے ہونے والی تمام تقریبات کو کامیاب بنانا چاہیے۔ اس میں ہم سب کی عزت ہے۔ پاکستان زندہ باد پاکستان پائندہ باد
|
|