|
(وکیل انصاری) جناب پرویز مشرف کا صدارت سے استعفیٰ پاکستان کے مسائل میں خاص طور پر سیاسی مسائل میں اضافے کا باعث بنے گا اور جب تک یہ سیاسی اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھے گا اس وقت تک اقتصادی حالات ٹھیک ہونے کے امکانات نہیں ہیں۔ یہ باتیں سب اپنی جگہ مگر پاکستان دہشت گردی کی جنگ کس طرح لڑے گا؟ یہ سب سے بڑا سوال ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان سخت ترین کٹھن مراحل سے دوچار ہے اور یہ مرحلے جلدی ختم ہونے والے نہیں ہیں۔ امریکہ نے ہمیشہ ڈکٹیٹرز کو سپورٹ کیا ہے کیونکہ دس افراد سے ڈیل کرنے کے بجائے ایک فردِ واحد سے ڈیل کرنا آسان ہوتا ہے۔ گزشتہ آٹھ سال سے امریکہ نے پاکستان سے اور پاکستان نے امریکہ سے جو بھی فائدہ اٹھایا اب وہ ”فائدے“ ختم ہونے والے ہیں۔ پاکستان کی نومنتخب حکومت کو امریکہ کی امداد کی ضرورت ہے مگر امریکہ کو ”دہشت گردوں سے نجات“ کی ضرورت ہے اور دہشت گردی سے کیسے نمٹا جائے۔ پاکستان کی جمہوری حکومت اور امریکہ کے درمیان واضح تضاد ہے اور جب تک یہ تضاد موجود ہے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں سردمہری کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ پاکستان کی فوج اور حساس ادارے وہ کچھ نہیں کرنا چاہتے جو کہ امریکہ دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے ان کو تجاویز فراہم کررہا ہے۔ ادھر پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر امریکہ کا یہ الزام بھی ہے کہ یہ ایجنسی دہشت گردوں کو سپورٹ کررہی ہے یا دہشت گرد تنظیموں سے آئی ایس آئی کے دیرینہ مراسم ہیں اور امریکن سی آئی اے جو کچھ خفیہ معلومات آئی ایس آئی کو فراہم کرتی ہے (دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے) وہ خفیہ معلومات آئی ایس آئی سے لیک ہو کر دہشت گردوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ ابھی حال ہی میں امریکہ نے پاکستان کی حکومت کو چند حقائق/ معلومات پیش کیں کہ کس طرح امریکہ نے آئی ایس آئی کے چند افسران اور دہشت گرد تنظیم کے مابین ٹیلیفونک رابطے ”Intercept“ کئے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کابل میں بھارتی سفارتخانہ پر بم دھماکے میں آئی ایس آئی کا ہاتھ ہے۔ امریکہ کی شدید خواہش ہے کہ آئی ایس آئی کو کسی طرح کنٹرول کیا جائے۔ نئی عوامی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ آئی ایس آئی وزارت داخلہ کے ماتحت کام کریگی جس پر آئی ایس آئی کے افسران ناراض ہوگئے اور بتایا گیا ہے کہ آئی ایس آئی فوجی ادارہ ہے جو کہ جی ایچ کیو کے ماتحت ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ پاکستانی فوج کا ایک بڑا حصہ افغانستان کی جنگ اور دہشت گردی کی وارداتوں کا ذمہ دار امریکہ کو سمجھتا ہے۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ اگر امریکی افواج افغانستان سے نکل جائیں تو اس دہشت گردی میں خودبخود کمی آجائیگی مگر حقیقت پسند افسران کا خیال ہے کہ یہ جنگ صرف امریکہ کی جنگ نہیں ہے بلکہ اس میں پاکستان کو بھی خطرہ ہے۔ ان دہشت گردوں کی بڑی تعداد مذہبی انتہاپسند ہیں اور وہ افغانستان اور پاکستان میں اپنے نظریات کو نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ آٹھ سال سے پرویز مشرف حکومت نے امریکی مفادات اور پاکستانی مفادات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس جنگ کو لڑا اور بہت حد تک کامیابی بھی حاصل کی مگر گزشتہ سال سے طالبان اور القاعدہ ایک بار پھر امریکی افواج اور پاکستان کیلئے درد سر بن چکے ہیں۔ یہ مذہبی گروپ فاٹا کے علاقوں میں رہائش پذیر ہیں اور وہاں سے بیک وقت افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔ غیرملکی شرپسندوں کی ایک بڑی تعداد بھی افغانستان اور پاکستان کی سرحدوں کے درمیان اپنی حرکتوں میں مصروف ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بھارت اور افغان خفیہ ایجنسیاں بھی پاکستان کو غیرمستحکم کرنے میں مصروف ہیں۔ ان تمام آفتوں کے بعد بھی پاکستان کی جمہوری حکومت اپنے قدموں پر کھڑی ہونا چاہتی ہے اور اب جمہوریت کی بانسری بجانے والوں کو چاہئے کہ وہ اس حکومت کو معاشی و اقتصادی امداد دیں۔ سنیٹر جوزف بائیڈن کا یہ کہنا بھی غلط نہیں ہے کہ کچھ فوجی امداد کا حصہ بھی اقتصادی امداد میں دیا جائے اور ثابت کیا جائے کہ امریکی حکومت، پاکستانی حکومت اور جمہوری حکومت کی دوست ہے، صرف پرویز مشرف کی نہیں! ٭٭٭
|
|