اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 21 Aug 2008 13:05:00

سیاسی اتحاد کا اصل امتحان تو اب شروع ہوگا!!!

سیاسی اتحاد کا اصل امتحان تو اب شروع ہوگا!!!
عالم تمام ظہیر الدین بٹ
آخر کار پاکستانی قوم جو کئی دنوں سے ذہنی کوفت میں گرفتار تھی صدر پاکستان پرویز مشرف کے استعفیٰ کے بعد باہر نکل آئی ہے۔ لیکن یہ سکون شاید چند روزہ ہی ہو۔ کیونکہ دونوں بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے ساتھ ساتھ اے این پی اور مولانا فضل الرحمن کی پارٹی پر اب بہت زیادہ ذمہ داری آگئی ہے کیونکہ آج تک ہرکام میں رکاوٹ اور خرابی کا ذمہ دارصدر پرویز مشرف کو ہی گردانا جاتا رہا ہے۔ حالانکہ اگر کسی بھی غلط کام کیلئے صدر پرویز مشرف ذمہ دار ہیں تو میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان مسلم لیگ(ق) کے چئیرمین چوہدری شجاعت حسین ذمہ دار نہیں ہیڈ یا ان کی حکومت اور ان کے وزراءپر ان کی ذمہ داری نہیں بنتی۔ کیونکہ صدر پرویز مشرف تو دراصل ان کے ہی صدر تھے اور ان کی پارٹی کی وجہ سے ہی بنے تھے۔ ویسے تو یہ ایک زیادتی ہوگی کہ ان کے دور میں اگر کسی اچھے کام کی تعریف نہ کی جائے یہ تو بغض والی بات ہوگی اور حقیقت سے نظریں چرانا ہوگا۔ غلطیاں تو ہر انسان سے ہوتی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ کوئی اچھا کام بھی کیا گیا ہو تو اس کو ماننا بھی دراصل انسان کا بڑا پن ہوتا ہے ۔ صدر مشرف کو وردی میں قبول کرنا اورکئی سالوں کیلئے آئینی طور پر اتفاق کرنا اور اس کے لئے مذہبی جماعتوں جن میں جماعت اسلامی وغیرہ اور ان کا اتحاد بھی شامل ہے اور جنہوں نے وردی میں رہنے کے لئے آئین کی ترمیم میں مدد کی کو بھی ان کی غلطیوں کا شریک کار کا جاسکتا ہے کیونکہ اگر اس دوران ایسا نہ ہوتا تو شاید بات یہاں تک نہ پہنچتی۔ میڈیا پر دیکھیں‘ اخبارات پڑھیں یا انٹرنیٹ دیکھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہر توپ کا منہ اب صدر مشرف کی طرف ہی ہے اور ان پر ہی گولے برسا رہا ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ اب تو رسی کا بل بھی نکل گیا ہے اور جب یہ بل قائم تھا اس وقت یہ توپیں کہاں تھیں ؟؟؟ مشرف اب تو سابق صدر ہوچکے ہیں لیکن بڑی جماعتوں کا اتحاد اب سخت مشکلات میں نظر آتا ہے کیونکہ وہ پہلے قدم اٹھاتے ہیںپھر فیصلوں کیلئے مذاکرات کرتے ہیں۔ یہی نہیں پہلے بھی عوام نے دیکھا ہے کہ لندن کا میثاق جمہوریت اور مری کا ڈیکلریشن کیسے برے طریقے سے بدنام ہوا اور طے شدہ مسائل پر آج تک عملدرآمد نہ ہوسکا۔ اب پھر وہ دو مسئلے ایسے آن کھڑے ہیں کہ ان کلئے اگر دونوں اتحادی پارٹیوں نے حاضر دماغی اور مخلصی سے کام نہ لیا تو پھر ایک دفعہ پوری قوم مایوسی کے اندھیروں میں گم ہوجائے گی۔ دراصل خرابی اس وقت شروع ہوتی ہے جب پارٹیوں کے ہر شخص کی طرف سے بیان بازی آنی شروع ہوجاتی ہے حالانکہ اتنی بڑی سیاسی جماعتوں کے پاس میڈیا ونگز کی سہولت موجود ہے لیکن ان کی طرف سے پریس یا میڈیا کیلئے بہت ہی کم انفارمیشن آتی ہے۔ ہر کوئی اپنی انپی ہانکتا نظر آتا ہے۔ کوئی کیا بیان دے رہا ہوتا ہے تو دوسرا کچھ............
حالانکہ بعض اوقات یہ بیانات پارٹی پالیسی کے بھی خلاف ہوتے ہیں۔ پھر جب اتحاد کی بات آجائے تو مجموعی اور اجتماعی مسائل اور ان کے حل کیلئے جو بھی مل کر فیصلہ ہو اس کا اعلان کیا جائے نہ کہ مسئلے کے حل سے پہلے ہی اعلانات شروع ہوجاتے ہیں۔ جیسے صدر مشرف کے بعد خالی سیٹ کیلئے ہرشخص اپنا اپنا نقطہ نظر اور فیصلہ سناتے نظر آتے ہیں کہ صدر فلاں پارٹی سے ہوگا اور فلاں شخص کو صدر بنایا جارہا ہے۔ ایسی باتوں سے پرہیز کرنا چاہیے تاکہ مسائل کو حل کرنے کیلئے مل جل کر فیصلے کئے جاسکیں اور اس کے بعد ہی اس کا اعلان کرنا مناسب بنتا ہے۔ اتحاد قائم اور اسے درست انداز میں چلانے کیلئے کچھ اصولوں کو اپنانا ہوگا۔
سب سے بڑا مسئلہ جو اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کا سبب بن سکتا ہے وہ ہنوز حل طلب ہے۔ ججزکی بحالی اور چوہدری افتخار محمد کو دوبارہ چیف جسٹس کے عہدے پر واپس لانا ہے ۔ پھر صدر کون ہوگا؟؟؟ اس کے لئے اتحادی جماعتوں کو کھلے دل سے اور ملک کے مفاد کو اولیت دیتے ہوئے اور مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرناہوگا اور ایسے شخص کو یہ ذمہ داری سونپنی ہوگی جوکہ ملک و قوم اور سیاسی جماعتوں کو متحد رکھنے اور ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے کام کرسکے۔ میاں محمد نواز شریف اور آصف زرداری کو ملک و قوم کی خاطر بہترین مفاد میں فیصلے کرنے ہوں گے اور آج ہمارا ملک پاکستان جس کا 61واں جشن آزادی منایا گیا ہے کو اب نئے عود اور جوش و جذبے کے ساتھ آگے لے کرجانا ہوگا۔ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے صرف سیاستدانوں‘لیڈروں اور پارٹی سربراہوں کی ہی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ ملک کا ہر فرد اس میں اپنا حصہ ڈالنے کیلئے تیار ہونا چاہیے۔ ہمیں اپنی سوچوں کو منفی سے مثبت سوچوں اور اپنے عملوں کو منفی سے مثبت عملوں کی طرف موڑنا ہوگا اور ہر وہ کام کرنا ہوگا جو ملک اور او قوم کے بہتر مفاد میں ہو۔
صدر مشرف کے بعد اب اتحادی جماعتوں کا دراصل امتحان اب شروع ہوا کہ وہ ملک و قوم کیلئے کیا رنگ لاتے ہیں ۔








  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: air purifier