(عباس اطہر)
لوگوں کو حیرت ہے کہ اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی وہ نہیں جا رہا۔ کہتا ہے ڈٹا رہوں گا۔ پچھلے 9 مارچ کے بعد عوام نے جو فیصلہ سڑکوں پر سنایا تھا، 18 فروری کو وہی فیصلہ بیلٹ بکس پر بھی لکھ دیا۔ لیکن اس نے دونوں فیصلے مسترد کر دئیے اور خود جانے کے بجائے منتخب حکومت کو بھجوانے کی تیاریاں شروع کر دیں اور اتنے اعتماد کے ساتھ کہ بڑی آسانی سے حکومت کو، جسے آئے ہوئے بمشکل چار مہینے ہوئے تھے، دو مہینے کا الٹی میٹم بھی دے دیا۔ پھر اتنے ہی اطمینان سے چارج شیٹ بنانے میں مصروف ہو گیا۔ ایوان صدر سازشوں کا گڑھ بن گیا۔ اسے اس کے دوست سمجھاتے رہے کہ وقت آپ کے خلاف ہے۔ آپ کا اپنا ادارہ بھی آپ کے خلاف ہو چکا ہے۔ چاروں صوبوں میں آپ کے خلاف نفرت اپنے عروج پر ہے۔ میڈیا میں آپ کیلئے کوئی نرم گوشہ نہیں، عدالتی حلقے آپ کو عدل کا دشمن سمجھتے ہیں۔ سول سوسائٹی آپ کا نام لینا پسند نہیں کرتی۔ غریب تو آپ کا بیری ہے ہی کہ آپ نے ان کے منہ سے نوالا چھینا، امیر بھی آپ کو پسند نہیں کرتے کہ وہ جس ملک کی وجہ سے امیر ہیں، آپ کی بدولت اس کا وجود خطرے میں ہے۔
مشوروں کا ایک طویل سلسلہ تھا لیکن وہ نہ مانا اور پھر اس نے اپنے حواریوں سے یہ تبصرے کروانا شروع کر دئیے کہ حکومت کمزور ہو چکی ہے، کسی بھی لمحے اس کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ فضا ایسی بنا دی گئی کہ لوگ کسی بھی لمحے ”خبر“ سننے کیلئے خود کو تیار کرنے لگے۔
پھر اچانک زرداری نواز شریف کی وہ ملاقات ہو گئی جو دو روز تک جاری رہی اور اس کے اختتام پر وہ اعلان آیا جس نے فضا ہی بدل ڈالی۔ کمزور دکھائی دینے والی حکومت ایک دم ”گاڈزیلا“ کا روپ دھار گئی اور ایوان صدر میں بیٹھا ”گاڈزیلا“ ایک مریل چھپکلی میں تبدیل ہو گیا۔
کہاں وہ طنطنہ کہ حکومت دو ماہ میں خود کو ٹھیک کر لے، اسکی کارکردگی کو باریک بینی سے دیکھ رہا ہوں اور کہاں یہ منمناتی ہوئی صدا کہ ”میں نے کیا گیا ہے، میرا مواخذہ کیوں کیا جا رہا ہے، میں نے کون سا آئین توڑا ہے، کون سی کرپشن کی ہے“۔ کہاں وہ دعوے کہ عوام کی اکثریت میرے ساتھ ہے اور کہاں یہ اظہار تشویش کہ ”قاف لیگی ارکان لوٹے کیوں ہو رہے ہیں، وفا داریاں بدل کر مواخذے کی حمایت کیوں کر رہے ہیں“۔
محاصرہ مکمل ہے اور فضا دھواں دار ہے۔ پہلے پنجاب اسمبلی نے 321 دونوں کی اکثریت سے مواخذے کے حق میں قرار داد منظورکی اور وہاں 83 قاف لیگی ارکان میں سے صرف 25 نے مشرف کی حمایت کی۔ باقیوں میں سے آدھے سے زیادہ نے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا۔ باقی غیر حاضر رہے اور گھر بیٹھ کر حکمران جماعتوں سے رابطے کرکے ساتھ دینے کا اقرار کرتے رہے۔ پنجاب اسمبلی کے بعد سرحد میں بھی مواخذے کے حق میں قرار داد منظور ہوئی اور یہاں بھی صدر کے بیشتر حامی ان کا ساتھ چھوڑ گئے۔ 124 کے ایوان میں 107 ارکان نے مواخذے کی حمایت کی۔ صرف 4 نے مخالفت کی باقی گیارہ غیر حاضر رہے۔ انہیں بھی مخالف ہی سمجھا جائے۔ آج سندھ اسمبلی میں بھی قرار داد منظور ہو گی اگرچہ وہاں شاید اتنی ہمہ گیر اکثریت نہ ملے کیونکہ تادم تحریر متحدہ قومی موومنٹ کا ذہن واضح نہیں ہو سکا کہ وہ مواخذے کی حمایت کرے گی یا مخالفت۔ سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے 93 اور متحدہ کے 51 ارکان ہیں جبکہ صدر کی حامی فنکشنل لیگ کے 8، قاف لیگ کے 7 اور این پی پی کے 3 ارکان ہیں۔
اسمبلیوں میں مواخذے کے حق میں جس طرح ووٹ پڑ رہے ہیں اس کو دیکھتے ہوئے آسانی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ قومی اسمبلی میں کیا ہو گا۔ حکمران اتحاد کا دعویٰ ہے کہ اسے متحدہ قومی موومنٹ کے بغیر بھی 350 ووٹ حاصل ہیں۔ اگر اس تعداد میں مبالغہ ہوا بھی تو چار پانچ ووٹوں کا ہی ہو گا۔ یہ طے ہے کہ حکمران اتحاد مطلوبہ تعداد سے زیادہ حمایت حاصل کر چکا ہے اور صدر کو بھی حقیقت کا علم اچھی طرح ہو چکا ہے لیکن ان کا مسئلہ ہے کہ اب بھی کوئی معجزہ ہو گا جو انہیں بچا لے گا۔ جو بات وہ نظر انداز کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ماضی میں ان کی حکومت بحرانوں سے صرف اس لئے بچ جاتی رہی کہ امریکہ کیلئے ان کی ضرورت ختم نہیں ہوئی تھی۔ اب سی آئی اے کے ایک سابق عہدیدار نے یہ بیان دے کر معاملہ کلیئر کر دیا ہے کہ مشرف امریکہ کیلئے فضول شے ہو چکے۔
مشرف کسی استحقاق، طاقت، مقبولیت یا اپنی قابلیت کی وجہ سے حکومت پر قابض نہیں تھے۔ بلکہ اسکی واحد وجہ ”امریکی ضرورت“ تھی۔ پاکستانیوں کی خوش قسمتی کا وقت آٹھ برس بعد کی دعاﺅں اور بددعاﺅں کے بعد آیا ہے۔ امریکی ضرورت ختم ہو چکی۔ اب کوئی معجزہ نہیں ہو گا۔ ہر غیر ملکی طاقت کے سامنے سرنڈر کرنے کے شوقین کو آخری سرنڈر پاکستانی قوم کے سامنے کرنا ہے۔ آج یا کل کر لے یا مواخذہ مکمل ہونے کے بعد۔ بچاﺅ کی کوئی صورت نہیں رہ گئی!!!