|
(گریبان.... منو بھائی) اب تو آسمانوں سے اترنے والی کوئی ناگہانی آفت اور پاکستان کی بہت بڑی بدنصیبی ہی ہو سکتی ہے جو صدر پرویز مشرف کو مواخذے کی زد میں آنے سے بچا سکے کیونکہ معروضی حالات اور زمینی حقائق تمام کے تمام ان کے خلاف ہیں اور تحفظ فراہم کرنے والی فوجی وردی جسم تبدیل کر چکی ہے چنانچہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اپنے دوست فرزند پوٹھوہار کے قیمتی مشورے پر عمل کرتے ہوئے ملک اور قوم کو آخری مرتبہ خداحافظ کہہ کر مواخذے سے بچ جائیں مگر شاید وہ اپنی بقیہ زندگی بقائمی ہوش و حواس چک شہزاد میں اپنی زیر تعمیر رہائش گاہ میں نہیں گزار سکیں گے۔ بلاشبہ پاکستان کے دولخت ہو جانے اور مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش میں بدل جانے کے بعد جنرل محمد یحیٰی خان نے راولپنڈی صدر کی ہارلے سٹریٹ میں اپنی بقیہ زندگی گزارنے اور قدرتی موت پانے کا اعزاز حاصل کیا مگر ان کی بقیہ زندگی کی بیشتر سے زیادہ گھڑیاں ہوش و حواس سے ماورا تھیں۔ سیانے کہتے ہیں اور صحیح کہتے ہیں کہ اگر لوگوں کو اپنے انجام کی ایک ہلکی سی جھلک بھی دکھائی دے جائے تو وہ بہت سے ایسے قدم اٹھانے سے گریز اور پرہیز کریں جو انہوں نے اپنے انجام سے بے خبر اور لاپروا ہو کر اٹھا لئے تھے۔ وہ بھی سیانے ہی تھے جنہوں نے کہا تھا کہ حقائق کو مسخ کرنے کے لئے بھی حقائق سے آگاہی ضروری ہوتی ہے یعنی حقائق کو پوری طرح سمجھے بغیر حقائق کو مسخ بھی نہیں کیا جا سکتا اس کے ثبوت کے طور پر شریف الدین پیرزادہ اور ملک عبدالقیوم جیسے لوگوں کے نام پیش جاتے ہیں۔ مگر اپنے زمانے کے نابغہ روزگار دانشور لارڈ برٹرینڈرسل نے اپنے ایک دلچسپ ناول میں بتایا ہے کہ انتہائی زیادہ عقل، دانش مہارت اور چالاکی کی دولت سے مالامال لوگوں سے بھی کہیں نہ کہیں کوئی ایک غلطی سرزد ہو جاتی ہے اور کہیں کسی ایک آنچ کی کسر رہ جاتی ہے۔ کوئی ایک بات یاد نہیں رہتی جس سے سارے کا سارا کھیل بگڑ جاتا ہے۔ انتہائی منصوبہ بندی کے ساتھ بنایا گیا پروگرام ”دھڑام“ ہو جاتا ہے اور بالآخر قسمت میں بربادی لکھی جاتی ہے جو اپنے پیچھے پچھتاوے چھوڑ جاتی ہے۔ یہ محض اتفاق کی بات ہے کہ صدر پرویز مشرف کے خلاف مواخذے کی تحریک وطنِ عزیز کے وجود میں آنے کی باسٹھویں سالگرہ کے قریب شروع ہو گی اور 11 اگست کو صدر پرویز مشرف کی بھی سالگرہ تھی۔ اگر ان کے خلاف مواخذہ کی رائے شماری ہوئی تو وہ یقینی طور پر ملک کے پہلے صدر مملکت ہوں گے جو مواخذے کے ذریعے اقتدار سے ہٹائے جائیں گے لیکن اس کے بعد کسی شخص کو بھی آئین اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی جرا¿ت نہیں ہو گی چنانچہ یہ جمہوریت کے حق میں ایک بہت ہی اچھا قدم ہو گا۔ 18 فروری 2008ءکے بعد کے تقریباً پانچ مہینوں کے دوران ہمارے تجزیہ کاروں اور سیاسی مبصروں نے جس بے صبری اور بے قراری کا مظاہرہ کیا ہے وہ قومی زندگی کے اکسٹھ سالوں کے دوران دیکھنے میں نہیں آیا جن میں 33 سے زیادہ سال فوج کی براہ راست حکومت کے تھے ان پانچ مہینوں میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری کو سب سے زیادہ ہدف تنقید بنایا گیا۔ سب سے بڑا الزام یہ تھا کہ انہوں نے ایک حکم کے ذریعے سپریم کورٹ کے ایک حکم کے ذریعہ معزول ہو جانے والے ججوں کو بحال نہیں کیا یعنی جو کچھ صدر پرویز مشرف نے کیا وہ وزیراعظم اور حکمران پارٹی کے شریک صدر نہیں کر سکے مگر سیاسی شعور رکھنے والے جانتے تھے کہ آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی سیاستدان ہونے کی وجہ سے قومی سیاست کو کالے کوٹوں اور کالے کیمروں کے حوالے کرنے یا ”سول سوسائٹی“ اور ”سابق فوجی سوسائٹی“ کے حوالے کرنے کی بجائے اپنی سیاسی تحویل میں رکھیں گے اور صحیح وقت پر صحیح قدم اٹھائیں گے اور سیاسی کریڈٹ سیاستدانوں کے ہاتھوں میں ہی رکھیں گے اور میاں محمد نوازشریف کی ضرورت سے زیادہ بے چینی اور بے قراری کے باوجود آصف علی زرداری نے یہی کچھ کر دکھایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ”مرے کو مارے شاہ مدار“ کے طور پر نیویارک سے ایوارڈ یافتہ امریکی صحافی ران سسکند کی کتاب THE WAY OF THE WORLD بھی شائع ہو گئی ہے جس میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید، صدر جنرل پرویز مشرف، امریکی نائب صدر ڈک چینی اور امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کی ریکارڈ شدہ گفتگو جاری کی گئی ہے جو سنسنی خیز انکشافات سے بھرپور ہے اور اپنے عہد کے سب سے بڑے راز پر سے پردہ ہٹانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ خاص طور پر محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے عوامل اور اس میں ملوث کرداروں کو بے نقاب کر سکتی ہے۔ خفیہ امریکی اداروں کی جانب سے ریکارڈ کی گئی اس گفتگو میں صدر جنرل پرویز مشرف کا محترمہ بے نظیر بھٹو کو خبردار کرنے والا یہ فقرہ بھی موجود ہے کہ ”تمہاری سلامتی کا انحصار ہمارے ساتھ تعلقات پر ہے“۔ یہ ایک فقرہ یا جملہ وہ غلطی، کمزوری یا حماقت بن سکتا ہے جس کا لارڈ برٹرینڈرسل کے ناول میں ذکر کیا گیا ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کرنے کی سازش اور اس میں ملوث کرداروں کی نشاندہی کے سلسلے میں اندرون ملک اور بیرون ملک کی تحقیقات میں اس کتاب کے مندرجات اور شواہد کو نمایاں اور فیصلہ کن جگہ مل سکتی ہے۔ بعض اوقات ہم سامنے دیوار پر لکھے کو پڑھ تو سکتے مگر سمجھ نہیں سکتے۔
|
|