اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

 
Thu, 14 Aug 2008 12:02:00

فیصلہ کن حالات

فیصلہ کن حالات
(غیر سیاسی باتیں.... عبدالقادر حسن)
جس کام کی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نوبت ہی نہیں آنی چاہئے تھی یا جس کام کو ساڑھے آٹھ برس پہلے شروع ہوتے ہی تمام کر دینا چاہئے تھا وہ اب جا کر کسی کے نوٹس میں آیا ہے اور ایک فوجی حکمران سے باز پرس کرنے اور اس کے خلاف کسی آئینی کارروائی کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ان طویل برسوں میں اس فوجی حکمران نے کیا تھا جو نہیں کیا آئین کو توڑا جو کڑی سے کڑی سزا کے لئے کافی جرم تھا بے گناہ انسانوں جن میں قرآن پڑھتی ہوئی بچیاں بھی تھیں ان کو گولیوں سے بھون دیا پاکستانیوں کو پکڑ پکڑ کر امریکیوں کے ہاتھوں نقد ڈالروں کے عوض بیچ دیا اور جنرل حمید گل کی بات اگر سچ ہے اور وہ حلفاً کہتے ہیں کہ سچ ہے اور اگر جھوٹ ہو تو ان کی گردن مار دی جائے وہ یہ ہے کہ کسی بھی امریکی نے بشمول وزیر آرمٹیج صدر مشرف اور پاکستان کو کسی قسم کی کوئی دھمکی نہیں دی تھی بلکہ 9/11 کے بعد امریکی حکام نے عاجزانہ انداز میں درخواست کی تھی کہ ان کی افغانستان میں مدد کی جائے ان کو راستہ دیا جائے انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کیا جائے اور دوسری ضروری فوجی نوعیت کی مدد اگر ممکن ہو تو دی جائے۔ امریکیوں کے الفاظ اور لہجے میں کوئی دھمکی نہیں تھی۔ جنرل مشرف نے غلط بیانی سے کام لے کر اسے دھمکی بنا دیا۔ جب امریکی جنرل مشرف سے بات کر رہے تھے تو اس وقت پانچ افراد وہاں موجود تھے ان میں سے ایک جنرل محمود نے آرمٹیج سے کہا کہ آپ کی روایت اچھی نہیں ہے۔ آپ دوستوں کو چھوڑ دیتے ہیں اس پر امریکی وزیر نے کہا کہ جو ہو گیا سو ہو گیا اب نئی تاریخ آج سے شروع ہوتی ہے۔ جنرل مشرف نے اپنے فوجی کمانڈروں سے بھی غلط بیانی کی اور قوم سے بھی۔ اپنی کتاب میں بھی غلط لکھا۔ حمید گل کا کہنا ہے کہ میں یہ سب پوری تفتیش کرنے کے بعد کہہ رہا ہوں۔ جنرل مشرف اتنی بڑی غلط بیانی کر کے اور قوم کو ڈرا کر حکومت کرتے رہے۔ گزشتہ آٹھ برسوں کی حکومت میں ایسے واقعات لاتعداد ہیں جو کسی بھی حکمران کے مواخذے کے لئے کافی ہو سکتے ہیں۔
جہاں تک صدر جنرل مشرف اور پاکستان کے عوام کا تعلق ہے تو عوام نے گزشتہ الیکشن میں جنرل صاحب کی پالیسیوں کو قطعاً مسترد کر دیا تھا اور یہ کہا جاتا تھا کہ اب جنرل صاحب کے پاس اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے لیکن انہوں نے عوامی رائے کی پروا نہ کی اور اب یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے خلاف کسی بھی آئینی کارروائی کا دفاع کریں گے۔ اس سلسلے میں انہوں نے اپنا چین کا دورہ ملتوی کر کے پاکستان میں اپنے حامی سیاستدانوں سے ملاقاتیں شروع کر دیں۔ جناب شریف الدین پیرزادہ قانونی مشاورت کے لئے موجود تھے۔ مسلم لیگ ق کا مستقبل جنرل صاحب کے اقتدار کے ساتھ وابستہ ہے اسی طرح بعض دوسری جماعتیں بھی اپنے اقتدار کے لئے ان کی محتاج ہیں۔ الیکشن کے بعد طویل عرصہ گزرنے کے باوجود جب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے عوامی مطالبات کی طرف کوئی پیشرفت نہ کی بلکہ ان کے لیڈر ملک سے بھی غائب ہو گئے تو عوام کے اندر بے چینی بڑھ گئی جس سے دونوں لیڈر ایک ہی دن پاکستان آ گئے لیکن یہاں بھی انہوں نے عوامی مطالبات کی تکمیل کے لئے ٹال مٹول کا رویہ اختیار کر لیا بالآخر گزشتہ 7 اگست کو اسلام آباد میں ان دونوں لیڈران نے صدر کے مواخذے اور معزول ججوں کی بحالی کے لئے آمادگی کا اعلان کیا۔ صدر کے مواخذے کے لئے ارکان کی مطلوبہ تعداد پوری کی جا رہی ہے اور صدر کی لابی ان ارکان میں کمی کرنے کی کوشش میں ہے تاکہ مواخذہ ممکن نہ رہے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس بلا لیا گیا ہے لیکن ابھی تک مواخذے کی تحریک پیش کرنے کا اعلان نہیں ہوا کہ کب یہ مشکل ترین مرحلہ طے کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
صدر مشرف کا کہنا ہے کہ وہ اپنے خلاف اس آئینی تحریک کا آئینی تقاضوں کے مطابق مقابلہ کریں گے۔ یہ مقابلہ ایک تو ارکان کی تعداد پوری نہ ہونے کی صورت میں ہو سکتا ہے دوسرے اس اختیار کے تحت جو صدر کو حاصل ہے اور وہ اسمبلی توڑ سکتے ہیں۔ 58 ٹو بی کی دفعہ کے تحت صدر کا اختیار موجود ہے لیکن موجودہ حالات میں اس اختیار کا استعمال سخت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ سوال پیدا ہو گا کہ اس اختیار پر عمل کیسے کرایا جائے۔ ماضی میں جب کبھی کسی صدر نے یہ اختیار استعمال کیا تو حالات آج کے مقابلے میں یکسر مختلف تھے لیکن اب یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ صدر کے مخالف سیاستدان اس کی مخالفت میں کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔ ایک تحریک بھی چل سکتی ہے جس میں اسمبلی سے باہر کی جماعتیں جس میں اے پی ڈی ایم شامل ہے لازماً شریک ہوں گی اور وکلاءکی طویل تحریک بھی خاموش نہیں رہے گی وکلاءناراض ہیں کہ معزول ججوں کی بحالی کے بارے میں کسی م¶ثر اقدام کا ذکر نہیں کیا گیا۔ خدانخواستہ ان حالات میں کوئی تحریک چل نکلی تو عوام جو اپنے روز افزوں گوناگوں مسائل کی وجہ سے بے حد پریشان ہیں اس میں شامل ہو جائیں گے اور اس طرح صورتحال بالکل بدل جائے گی۔ اس صورت میں فوج کا ردعمل کیا ہو گا اس بارے میں فوری طور پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ حالات کے حد سے زیادہ بگڑنے پر وہ خاموش نہیں رہے گی۔ صدر صاحب جن کی وقعت بالکل ختم ہو چکی ہے اب کسی نہ کسی صورت میں جائیں گے تو ضرور لیکن جانے والا راستہ آبرو مندانہ ہو تو بہتر ہو گا ورنہ ان کی سخت توہین ہو گی۔










 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier