( اورپھر بیاں اپنا........ قمرعلی عباسی)
دن بھر کی مسافت کے بعد جب سورج مغرب کی طرف ڈھلتا ہے تو شام ہو جاتی ہے۔ ہر روز ایسا ہوتا ہے لیکن بعض ایسی شام ہوتی ہے جس پر دن ہمیشہ نازاں رہتا ہے۔ ایک ایسی ہی شام نیویارک میں اتری تھی جس کو اردو کے ممتاز صاحب طرز طنز و مزاح نگار مجتبٰی حسین کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔
اردو ٹائمز رائٹرز فورم کے چیئرمین خلیل الرحمان نے یہ نوید سنائی شام کا اہتمام ایک ہال میں کیا گیا ہے جہاں آسانی سے ڈھائی سو مہمان بیٹھ سکتے ہیں۔ ہمیں ایک ہلکا سا خدشہ پیدا ہوا کہ خالص ادبی نثری نشست میں اتنے لوگ کیسے آئیں گے اس ہال کی روایات ہیں یہاں کل ہندوپاک مشاعرے اور کانفرنسیں ہوتی ہیں۔ نیویارک میں ادبی تقریبات کسی کتاب کا افتتاح اور کسی ادیب کے ساتھ شام میں مشاعرے کی رسم بھی ہے۔ جس طرح کھانے کے ساتھ سویٹ ڈش کا ہونا لازمی ہے۔ اکثر لوگ ایک وقت میں دو چہروں سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں لیکن مجتبٰی حسین کے ساتھ شام میں مشاعرے نہیں تھا۔
مہمانوں کو شام سات بجے مدعوکیا گیا تھا ہم منتظمین میں سے تھے جب ہال پر پہنچے تو خلیل الرحمان اور ان کی بیگم انجم خلیل موجود تھے اور کوریڈور ہال خالی تھے، ساڑھے سات بجے تک یہی صورتحال تھی۔ اس دن نیویارک کے نزدیک ریاست کنکٹی کٹ میں گہوارہ ادب ، کل پاک و ہند مشاعرہ منعقد کیا گیا تھا۔ امریکہ کی تمام ریاستوں کے بعد یہ سال کا آخری مشاعرہ تھا جسے الوداعی کا نام دیا گیا تھا۔ اس لئے شاعروں کے ساتھ بڑی تعداد میں سننے والے بھی وہاں گئے تھے۔ شہر میں ان گنت تقریبات تھیں اس کی وجہ موسم بہار اور رمضان کی آمد آمد ہے امریکہ میں پروگرام کم از کم چھ ماہ پہلے ترتیب دیئے جاتے ہیں کیونکہ ہال کی بکنگ ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے لوگ بھی اسی مناسبت سے اپنے پروگرام ترتیب دیتے ہیں۔ درمیان میں کوئی تقریب اور ہو جائے تو مہمانوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ مجتبٰی حسین ہندوستان سے آئے ہیں اور چند ہفتے قیام کے بعد واپس چلے جائیں گے۔ اس لئے اردو ٹائمز رائٹرز فورم نے ان کیلئے شام کا اہتمام ایمرجنسی میں کیا تھا۔
ساڑھے سات بجے مجتبٰی حسین اپنے بڑے بھائی یوسف حسین اور دیگر اہل خانہ کے ساتھ تشریف لے آئے، روایت یہ ہوتی ہے کہ مہمان خصوصی تاخیر سے آتا ہے۔ یہاں صاحب شام وقت مقررہ پر پہنچ گئے۔ ان کے ہال میں بیٹھتے ہی لوگ آنے لگے خواتین و حضرات سے ہال بھرنے لگا شہر کے صاحب علم، دانشور، صحافی شاعر ایک ایک کر کے شام کا وقار بڑھانے لگے۔ ہمارا ایمان ہے جو دکاندار ایماندار ہوتا ہے شام سے پہلے اس کا سامان فرشتے انسان کا روپ دھار کر خرید لیتے ہیں تاکہ وہ رات کو بھوکا نہ سوئے۔ ہم نے جب کسی تقریب کا اہتمام کیا اور جس کو مدعو کیا وہ تقریب کی شان میں اضافہ کرنے کیلئے ضرور آیا۔
ہال بھر گیا پھر دائیں بائیں اضافی کرسیاں لگا دی گئیں اور مہمانوں کو عشائیے کی دعوت دی گئی۔
شام سرک کر رات کی چادر اوڑھنے لگی تو نیلوفر عباسی نے تقریب کا آغاز کیا۔ ذرا دیر میں اسٹیج کالم نگار، محقق، صاحب علم، دانشور اور شاعروں ادیبوں سے سج گیا۔ ان کے درمیان مجتبٰی حسین روشنی کی طرح جگمگانے لگے۔
ہال میں موجود ہر شخص ہمہ تن گوش ہو گیا، باتیں مجتبٰی حسین کی تھیں باتیں اردو کی تھیں باتیں مسکراہٹوں کلیوں کی تھیں باتیں قہقہوں کے شگوفوں کی تھیں رنگوں کی تھیں اجالوں کی تھیں۔
زندگی دھوپ چھاﺅں کا سفر ہے۔ اس میں تمازت زیادہ چھاﺅں کم ہے لیکن جہاں کوئی گھنا برگد کا درخت ہو تو اس کی شاخیں پتے دھوپ روک کر ٹھنڈا سایہ دیتا ہے۔ مجتبٰی حسین کی تحریریں پڑھنے والے کو سکون اور طمانیت بخشتی ہیں۔ ان کے الفاظوں میں جلترنگ، بارشوں کی دھنک اور بہار کی مہک ہے۔
ہال میں گہرا سناٹا تھا لوگ ہر لفظ کانوں کے ذریعے دل میں اتارنا چاہتے تھے۔ پھر بے ساختہ ان کے ہاتھ تالیاں بجاتے وقت گزرتا رہا ہال میں بیٹھے لوگ نہ صحافی تھے نہ ادیب نہ دانشور نہ شاعر وہ سب اردو تھے اور اپنی ماں کی زبان سن رہے تھے۔
مجتبٰی حسین جب اپنے خیالات کے اظہار کیلئے کھڑے ہوئے تو اردو نے پرجوش استقبال کیا وہ اپنی باتیں بتانے لگے۔ حیدر آباد دکن کے لوگوں کی عام زندگی کی خوش طبعی کی کہانیاں سنانے لگے، مجتبٰی حسین کو لفظ میراث میں ملے ہیں۔ ان کے بڑے بھائی محبوب حسین جگر صحافی اور نثر نگار تھے۔ ان کے دوسرے بڑے بھائی طنز و مزاح کے بے تاج بادشاہ تھے۔ جن کی تحریروں نے اردو ادب کو نئے سنگ میل دیئے ہیں۔ مجتبٰی حسین ادب کے اس سفر کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان کی تحریر میں شگفتگی اور تازگی لفظ لفظ محسوس ہوتی ہے۔ انہیں لفظوں کو منتخب کرنے کا فن آتا ہے وہ ہندوستان میں اکیلے اردو کیلئے جنگ کر رہے ہیں۔ اگر انسان حوصلہ مند ہو۔ بہادر ہو اپنے نصب العین میں سچا ہو تو اکیلا پہاڑ کی چوٹی سر کر سکتا ہے۔ اس شام ہر شخص نے اپنے دل کی گہرائیوں سے مجتبٰی حسین کو طویل صحت مند اور خوشحال زندگی کی دعا دی اور ان میں سے ایک ہم بھی ہیں۔