اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

 
Thu, 14 Aug 2008 11:58:00

JUSTICE FOR ALL

JUSTICE FOR ALL یا انصاف (میڈ ان امریکہ)
وکیل انصاری
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امریکہ جو کچھ بھی کرتا ہے بڑے پیمانے پر کرتا ہے اب صرف انصاف کی فراہمی لے لیجئے۔ امریکہ نے فیصلہ کیا تھا کہ 9/11 میں ملوث دہشت گردوں پر مقدمہ جنگی ٹریبونل میں چلایا جائیگا۔ مگر امریکہ کو جنگی ٹریبونل قائم کرنے میں اور مقدمہ پیش کرنے میں مختلف قانونی مراحل سے گزرنا پڑا اور اب صدر بش کی صدارت کے آخری مرحلوں میں چھ فوجی ججوں پر مشتمل ٹریبونل کا قیام عمل میں آیا اور اسکا پہلا شکار اسامہ بن لادن کے سابق ڈرائیور ہوئے! اسامہ بن لادن کے ڈرائیور جوکہ تقریباً چھ سال سے کیوبا کے علاقے گوانتاناموبے میں قید تنہائی کاٹ رہے تھے انکو فوجی ٹریبونل نے تقریباً چھ سال کی سزا سنائی اور تقریباً اتنی ہی سزا وہ جیل میں کاٹ چکے تھے لہٰذا انکی رہائی میں صرف چھ ماہ رہ گئے ہیں! یعنی انکو 5½ کا کریڈٹ دیا جا چکا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فوجی ٹریبونل اور یہ خفیہ مقدمات امریکہ کے لئے بدنمائی کا باعث ہیں! آخر ان مقدمات کو فوجی عدالتوں میں چلانے کی کیا ضرورت ہے اور ان کو خفیہ رکھنے کی کیا ضرورت ہے! اگر یہ افراد جنگی مجرم ہیں تو ان پر عالمی عدالت مقدمات چلائے جائیں! اور اگر یہ جنگی قیدی ہیں تو پھر جنیوا کنونشن کی قراردادوں کے تحت ان سے سلوک کیا جائے! اور اگر یہ افراد جوکہ امریکہ کی حدود سے یوں باہر رکھے جا رہے ہیں تو پھر امریکی قانون کیوں لاگو کیا جا رہا ہے!
درحقیقت اتنے سوالات تھے کہ اس جنگی ٹریبونل کو قائم ہونے میں چھ سال لگ گئے اور اس ٹریبونل کو صرف سات آٹھ افراد جوکہ ”بڑے دہشت گرد“ پکڑے گئے ہیں ان پر مقدمہ چلانے کے لئے قائم کیا گیا ہے! ان چھ سات افراد پر امریکہ کی عدالت میں یوں مقدمہ نہیں چل سکتا ہے کہ امریکی عدالت میں ان کو مجرم ثابت کرنا تقریباً ناممکن ہو گا۔ لہٰذا جنگی ٹریبونل کا قیام اور امریکی حدود سے ان ملزموں کو باہر رکھنا ان تمام کاوشوں کا نتیجہ ہے جوکہ 9/11 کے بعد دہشت گرد گرفتار ہوئے کہ ان کو انصاف کیسے فراہم کیا جائے! اس میں کوئی شبہ نہیں کہ افغانستان پاکستان اور مختلف جگہوں سے سینکڑوں افراد دہشت گردی کے نام پر گرفتار ہوئے اور انکو کسی قسم کی فرد جرم عائد کئے بغیر جیلوں میں رکھا گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ درجنوں کو رہا کر دیا گیا؟ اور اب آہستہ آہستہ گوانتاموبے خالی ہو رہا ہے اور اسکو خالی ہی کرنا عین انسانیت ہے۔ ابوغریب یعنی عراق کی بدنام ترین جیل کا دنیا کو معلوم ہے مگر گوانتاناموبے میں کیا کچھ ہوا اور کس طرح ہوا وہ حقائق سامنے آ چکے ہیں۔ مگر گوانتاناموبے پر ابھی بہت کچھ لکھا جانے والا ہے۔ بہت داستانیں ہیں اور اسکا وقت آئیگا جب مزید حقائق سامنے آئیں گے۔
مگر یہ وقت امریکہ کے لئے بہت کڑا وقت ہے، اسکی ساکھ داﺅ پر لگی ہے۔ دنیا نے نہ انصاف اور ہٹ دھرمی دیکھ لی ہے MIGHT IS RIGHT کا فارمولا بھی شرم سے کانپ رہا ہے!
انسانی حقوق کی باتیں کرنے والے اور جمہوریت کا نام لینے والے ایسے ایسے انسانیت سوز مظالم کا حصہ ہیں کہ دنیا حیرت زدہ ہے! دہشت گردی کو ڈھال بنا کر کسی مخصوص طبقہ کو ہدف بنانا اور مختلف طریقوں سے قانون سازی کر کے اسکا غلط استعمال کرنا کبھی بھی امریکہ کا طریقہ کار نہیں رہا اور اب اپنے بھی اور غیر بھی جانتے ہیں کہ امریکی عوام کو اب مزید بیوقوف بنائے رکھنا بہت مشکل ہے۔
جنگی ٹریبونل فوجیوں پر مشتمل ہے اور اس قسم کے مقدمات اگر فوجی عدالت میں چلنا ہیں تو پھر ان ”دہشت گردوں“ کو ”جنگی قیدی“ کا نام دیا جائے اور ان پر جنیوا کنونشن لاگو کیا جائے اور اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو امریکہ بھی بش انتظامیہ جنگل کا قانون استعمال کر کے دہشت گردوں کا جو فیصلہ کریگا تو اسکا ردعمل یعنی ان جنگی جرائم ٹریبونل کے فیصلوں کا ردعمل بہت NEGATIVE بھی ہو سکتا ہے۔
لہٰذا انصاف فراہم کرتے وقت یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ امریکہ اپنی تمام قانونی روایات پوری کرے اور دنیا پر ثابت کرے کہ دہشت گرد صرف اس وقت قابو نہیں آئیں گے جب انصاف اور صرف انصاف ہی امریکہ کا نصب العین ہو گا۔ JUSTICE FOR ALL کا نعرہ ہم نے امریکہ آ کر ہی سیکھا ہے!

5 / 5 (1 Votes)









 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier