اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 14 Aug 2008 11:57:00

14 اگست یوم آزادی یا عہد تجدید کا دن؟ ہم آج کہاں کھڑے ہیں!

14 اگست یوم آزادی یا عہد تجدید کا دن؟ ہم آج کہاں کھڑے ہیں!
(ظہیر الدین بٹ)
14 اگست 1947ءکو ایک آزاد مملکت بنام ”پاکستان“ دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ برصغیر میں مسلمانان ہند نے دو قومی نظریہ کو مدنظر رکھتے ہوئے آزادی کیلئے جستجو شروع کی۔ دنیا جانتی ہے کہ انگریزوں نے ہندوستان میں بطور مہمان تاجر کے قدم رکھا تو آہستہ آہستہ ملک میں قدم جمانے لگے اور بالآخر ملک ہندوستان میں حکومت پر قابض ہوگئے۔ تاریخ گواہ ہے کہ حضرت علامہ محمد اقبالؒ نے ایک خواب دیکھا جس کو حقیقت میں ڈھالنے کیلئے حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ نے انتھک محنت اور کوشش کرکے پورا کر دکھایا۔
آزادی یقیناً اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہے اور ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ ہماری آزادی کا اوّلین تقاضہ تھا کہ نظریہ پاکستان اور جس مقصد کیلئے ملک حاصل کیا گیا تھا، اسے یعنی اسلامی نظام کو اس میں نافذ کریں لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ ہماری سمت ہی دوسری طرف مڑ گئی ہے۔ آزادی کو مادر پدر آزادی سمجھ لیا گیا ہے۔ قومی وسائل کی بندربانٹ اور مفادپرستی کی دوڑ شروع ہوگئی ہے۔ ظاہر ہے اس کا نتیجہ پاکستان میں مسائل کی بھرمار شروع ہوگئی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی، دہشت گردی معمول کی بات بن چکی ہے جس سے عوام کا جینا دوبھر ہوچکا ہے، ملک دولخت کردیا گیا، آج سوچنے کا یہ مقام ہے کہ کیا واقعی ہم آزاد ہوچکے ہیں؟ لگتا تو یہ ہے کہ ہم نے ملک تو بنالیا، نام کی آزادی لے لی، لیکن کیا ہم معاشی طور پر یا پھر سیاسی طور پر آزاد ہوچکے ہیں؟؟؟ یہ وہ سوال ہیں جو آج کل ہر شخص کی زبان پر ہے۔ پہلے ہم جاگیرداروں کے غلام تھے اور اب سرمایہ داروں، صنعتکاروں کی چھتری تلے سانس لے رہے ہیں۔ معاشی آزادی کا یہ حال ہے کہ بجلی سے محروم، آٹا تیل ناپید، روزمرہ زندگی کی اشیاءکی قیمتیں آسمانوں کو چھوتی ہوئی، یہ کیسی معاشی آزادی ہے؟ صحت، تعلیم کا وہ حال ہے کہ خدا کی پناہ! دنیا میں ماحولیاتی آلودگی پر دن رات سوچ بچار ہورہا ہے اور ہم ہیں کہ گھر کا گند اور کچرا اٹھا کر گھر کے سامنے پھینک دیتے ہیں۔
آزادی کا جشن منانے پر کوئی کیونکر اعتراض کریگا لیکن میری نظر میں جشن کے ساتھ ساتھ اسے عہد تجدید کا دن بھی ہونا چاہئے کہ جس مقصد کیلئے ہم نے یہ ملک حاصل کیا ہے، کیا ہم اس پر پورا اترے ہیں کہ نہیں؟ ہمیں اس عہد کو یاد کرنا ہوگا کہ جس مقصد کیلئے ہم نے ملک کو آزاد کروایا تھا اور اس کیلئے عملی طور پر قدم اٹھانا ہوگا۔ ایک ایسا ملک جس میں ہر قسم کی آزادی ہو (مادر پدر آزاد نہیں) بلکہ ایسی جو مسلمانوں، دین اسلام اور عوام کی بھلائی کیلئے ہو اور جس میں اللہ تعالیٰ کے بتائے رستے پر چل کر مسلمانوں کے سر فخر سے بلند کرسکیں۔ بڑے بڑے سرمایہ کار، جاگیردار، سیاستدان، وڈیرے اپنی اپنی خواہشات کو پورا کرنے پر لگے ہوئے ہیں، انہیں عوام کی ذرا برابر بھی فکر نہیں ہے۔ پاکستان میں کچھ شعبوں میں ترقی ہوئی ہے لیکن اکثریت تنزلی کا ہی شکار ہوئے ہیں۔ عملی تجربہ کے بعد تو یوں لگتا ہے کہ یہ ریاست صرف چند خاندانوں کیلئے معرض وجود میں آئی تھی جو چہرے بدل بدل کر لوٹ کھسوٹ کرتے رہے ہیں۔ ان کیلئے نہ کوئی قانون ہے نہ کوئی ان کیلئے سزا۔ اب تو عوام کے دل میں یہ خیال بیٹھ چکا ہے کہ کرپشن اور لوٹ مار تو حکمرانوں کا ہی حق ہے۔ ان کی مرضی پر ہی منحصر ہے کہ وہ جسے چاہیں نوازیں اور جسے چاہیں محروم کردیں۔ عدلیہ آزاد ہے؟ اس کا بھرم تو سب پر عیاں ہوچکا ہے۔ فیکٹریوں، ایجنسیوں، کارخانوں، میڈیا ،اخبارات، ٹی وی، ریڈیو کے پرمٹ تو چند مخصوص لوگوں میں بانٹے جاتے ہیں۔ پلاٹوں کی بندربانٹ کا ذکر کرنا تو بالکل فضول ہے۔ بینکوں سے کروڑوں اور اربوں کے قرضے حاصل کرنا اور پھر انہیں واپس نہ کرنا بلکہ معاف کروالینا ان کے حقوق میں شامل ہے۔ ملک میں بدامنی، دہشت گردی خوب زوروں پر ہے جس کا الزام مدارس پر لگایا جا رہا ہے کہ وہاں پر دینی تعلیم نہیں بلکہ دہشت گردی کی تعلیم دی جا رہی ہے۔
سیاسی، معاشی، عدالتی، مذہبی الغرض ہر میدان میں مسلسل 61 سال جھٹکے کھانے کے بعد پاکستانی مسلمان یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ انہوں نے آج تک ”کیا کھویا اور کیا پایا ہے؟“ آج یوں محسوس ہونے لگا ہے کہ قانون شکنی ہمارے کلچر کا حصہ بن چکی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے قانون کے نہیں بلکہ وقت کے حکمرانوں اور وڈیروں کے غلام ہوچکے ہیں۔ دولتمند، امیر اور اقتدار میں رہتے ہوئے خون خرابہ کرتے ہیں تو پھر بھی بے گناہ ثابت ہوجاتے ہیں اور بے گناہ سالہاسال جیلوں میں گلتے سڑتے رہتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حقیقی معنیوں میں ملک کی سلامتی، امن اور عوام کی بھلائی اور ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے عملی اقدامات اٹھانے کا، ہر پاکستانی کو اپنے عہد کی تجدید کرنا چاہئے اور کمر کس لینی چاہئے۔
٭٭٭








  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: air purifier