|
عالم تمام........ ظہیر الدین بٹ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کے سربراہان میاں محمد نوازشریف اور آصف علی زرداری کے درمیان فیصلہ کن مذاکرات نے ایک بار پھر قوم کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ کہنے کو تو یہ مذاکرات فیصلہ کن مذاکرات ہیں لیکن موصول ہونے والی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ ٹی وی پر دکھائے جانے والے دونوں لیڈران کی ہنسی کو عوام کس چیز کا نام دے؟؟؟ کیا یہ جھوٹی، دل کو تسلی دینے والی، نقلی اور عوام کو بے وقوف بنانے والی ہنسی نہیں ہے؟ جس نے قوم کو کئی ماہ سے بے سکونی، ذہنی دباﺅ اور پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ آمنے سامنے جب آتے ہیں تو یوں مل بیٹھتے ہیں جیسے کوئی پریشانی ہی نہیں ہے۔ لیکن باہر آتے ہی منہ سے انگارے اگلنے لگتے ہیں اور ایک دوسرے پر شکوک و شبہات کا اظہار شروع ہو جاتا ہے۔ ہر کوئی اپنے اصولوں اوراس کے کئے وعدے پورے کرنے بارے زور دیتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کا شروع دن سے یہ مطالبہ ہے کہ ججز کو بحال کر دیا جائے اور صدر پرویز مشرف کا مواخذہ کیا جائے لیکن اس مذاکرات میں ایک بار پھر پاکستان مسلم لیگ (ن) کا مو¿قف تبدیل ہوتا نظر آرہا ہے۔ سنا ہے کہ اب یہ طے ہوا ہے کہ اس چیز کو عزت و آبرو بچانے کا ذریعہ اور موقع فراہم کرتے ہوئے صدر مشرف کویہ موقع دیا جائے کہ وہ اسمبلیوں سے دوبارہ اعتماد کا ووٹ حاصل کریں۔ بات ایک ہی ہے کہ مواخذہ ہویا اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا ہو، اصل میں تو یہ صدر مشرف کے فیصلے پر ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ کیا وہ اس کے لئے راضی ہوں گے یا نہیں۔ یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ یایہ بھی ممکن ہے کہ صدر مشرف عزت سے فارغ ہونا چاہتے ہوں۔ بجائے بے عزت ہو کر! ان باتوں سے یوں لگتا ہے کہ اندر خانے پاکستان پیپلزپارٹی نے صدر مشرف سے کوئی ڈیل کر لی ہے۔ اور اب اس پر عمل دیگر اتحادی پارٹیوں کے ساتھ مل کر کیا جانا مقصود ہو۔ دونوں سربراہان کے مذاکرات کئی گھنٹے جاری رہنے کے بعد اور پھر ون ٹو ون ملاقات بھی ختم ہو چکی ہے لیکن حسب سابق نتیجہ ”صفر“ رہا ہے۔ اب دیگر دونوں اتحادی پارٹیوں کو بھی مذاکرات میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے اور جب تک یہ لائنیں آپ کی نظروں سے گزریں گی یہ ملاقات ہو چکی ہو گی اور اس کا نتیجہ بھی سامنے آچکا ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ صدر مشرف کے سلسلے میں دیگر دونوں پارٹیوں کواعتماد میں لینا ہو۔ اگر ایسا ہے تو ایک بار پھر پاکستان پیپلزپارٹی نے میدان مار لیا ہے اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نمبر ون ایشو ((ججز بحالی) کوپس پشت ڈال کر بے ضرر صدر مشرف کے ایشو کو نمبر ون کر دیا ہے اور اس پر پاکستان مسلم لیگ (ن) ایک بار پھر متفق ہوتی لگتی ہے۔اللہ کرے کہ یہ میٹنگ کامیاب و کامران ہو جائے اور عوام کے مسائل کے حل کی طرف پورے زور و شور سے توجہ دی جائے اور لوگوں کو جس پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے اس سے باہر نکالا جا سکے۔ اب تو قوم مایوس سی ہونے لگی ہے۔ کیونکہ دونوں پارٹیوں کے مذاکرات ”گفتن، نشستن اور برخاستن“ سے آگے نہ بڑھ سکے سوائے اس کے کہ ڈیڈلائن اور ٹائم فریم مانگ کر مسائل کواندھیری کوٹھڑی کی طرف دھکیل دیا گیا۔ اب بھی قوم کو کوئی خاص امید تونہیں لیکن پھر بھی مایوسی کے باوجود کسی اچھے نتیجے کی منتظر ہے۔ اب یہ دونوں پارٹیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی ایسے نتیجے پر پہنچ جائیں کہ ملک کے مسائل کو حل کرنے کی طرف پیش رفت ہو سکے۔ وزارتیں خالی پڑی ہیں۔ ملک میں حکومت کیسے چل سکے گی کہ جہاں پر فیصلہ کرنے والے موجود نہ ہوں گے۔ یوں ملک اور قوم کا وقت اور پیسہ دونوں ضائع ہو رہے ہیں۔ ادھر آج کل ہماری خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا معاملہ بہت سرگرم ہے۔ اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے یا پھر اس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے اسے وزارت داخلہ کے تحت کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ دراصل اس ایجنسی پر فوج کا کنٹرول ہے جو شاید جمہوری طاقتیں تبدیل کر کے جمہوری حکومت کے تابع کرنا چاہتی ہیں۔ کسی بھی ایسے اقدامات اٹھانے سے پہلے ہرپہلو پر ہزاربار سوچنا اور غور کرنا ہو گا۔ مثبت اور منفی نتائج پر غور کرنا ہو گا کیونکہ ملک کی سلامتی کا دارومدار ان جیسی خفیہ ایجنسیوں پر ہی ہوتا ہے۔ انہیں درست انداز سے ملک کی بہتری کےلئے ہی استعمال کیا جائے۔ سیاست دانوں، مخالفین کے خلاف ان کا استعمال کسی طور بھی قابل تحسین نہیں ہے۔ اس لئے فیصلہ کرنے سے پہلے پوری قوم کواعتماد میں لینا نہایت ضروری ہے۔
|
|