اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

 
Mon, 11 Aug 2008 04:00:00

بوسنیا کے مسلمانوں کی نسل کشی کا مجرم گرفتار!

بوسنیا کے مسلمانوں کی نسل کشی کا مجرم گرفتار!
(وکیل انصاری)
علم و آگہی ہی کبھی کبھی آپکی زندگی کا سکون چھین لیتی ہے اور خاص طور پر وہ سیاسی شعبدہ بازی جو بڑی طاقتوں نے بوسنیا کے معاملے میں دکھائی، آج بھی ہم سب کیلئے سوہانِ روح ہے۔
گزشتہ ہفتہ بوسنیا کے ہزاروں مسلمانوں کا قاتل راڈوین کرازگ (Rodohan Karadzic) کی گرفتاری اور عالمی عدالت کے سامنے انکی پیشی نے 15 سالہ زخموں کو ایک بار پھر تازہ کردیا ہے۔ بوسنیا کے مسلمانوں کا قتل، سبریکانہ میں مسلمانوں کی نسلی کشی (Genocide) بڑی طاقتوں خاص طور پر فرانس، امریکہ اور Nato Army کا سرب افواج کو قتل عام سے نہ روکنا، UNO کے فوج یدستوں کا سبریکانہ (Sabricnica) کو خالی کرنا اور دوسرے دن سرب افواج لیڈر ملاڈک (Mladic) کا یہ کہنا کہ ”اب سلطنت عثمانیہ سے بدلہ لینے کا وقت آگیا ہے“ اور پھر 11 جولائی 1995ءمیں یورپ میں مسلمانوں کی نسل کشی کی گھناﺅنی سازش کی ابتدا ہوئی۔ صرف ایک دن میں 8 ہزار مردوں اور بچوں کو چن چن کر ہلاک کیا گیا۔ اس سازش کے اصل مہرے کرازگ اور ملاڈک تو ہیں ہی مگر اور بہت سے خفیہ نام سامنے آنا ہیں۔
کرازگ راڈون نے گرفتاری کے پہلے دن بیان میں کہا کہ امریکہ کے سابق سفیر برائے جرمنی اور UNO رچرڈ ہالبروک ان کو قتل کی دھمکی دے چکے تھے جس کی وجہ سے وہ روپوش تھے۔
شاید اب بہت سے راز فاش ہونا ہیں۔ یورپ کو مسلمانوں سے پاک و صاف کرنے کی سازش صرف 20 سال پرانی ہے اور اسکے بہت سارے کردار آج بھی زندہ ہیں۔ امریکہ کی سابق وزیر خارجہ میڈیلین البرائٹ کو بھی بہت کچھ اگلنا ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ ہیگ کی عالمی عدالت حقائق کی چھان بین میں کس حد تک Involve ہوتی ہے؟ ان مختلف کرداروں میں سب سے دلچسپ کردار رچرڈ ہالبروک کا ہے جو بوسنیا امن معاہدے کے خالق ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ اصل جنگ ہی ہالبروک کے اشارے پر ہوئی تھی۔
بوسنیا کی کہانی کوئی خفیہ کہانی نہیں ہے۔ 90ءکے شروع میں سوویت یونین کے زوال کے بعد مشرقی یورپ میں یوگوسلاویہ بڑا ملک تھا۔ تین بڑے Ethnic گروپ تھے۔ کمیونسٹ (سرب) مسلمان اور Arthodox عیسائی۔
2 مئی 1992ءکو بوسنیا نے یوگوسلاویہ سے الگ ہونے کا اعلان کیا تاکہ مسلمانوں کی بڑی آبادی کو ایک الگ ریاست کی شکل دی جاسکے۔ یوگوسلاویہ کے صدر سلوبرن ملوساواک (Solbdan Milosavic) نے سربوں کو مسلمانوں سے بچانے کیلئے سریگو کے گھیراﺅ کا حکم دیدیا۔ اس دوران صرف سریگو میں 15 سے 20 ہزار مسلمان ہلاک ہوئے اور پھر خون کی ندیاں بہنے لگیں۔
پوری دنیا مغربی یورپ اور امریکہ کی بے حسی پر چیخ اٹھی مگر مغرب نے زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہ کیا۔ باقی کہانی ہم سب کو معلوم ہے۔
کرازگ کی گرفتاری کے بعد سرب فوج کے سربراہ ملاڈک کی تلاش جاری ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سربیا کی موجودہ حکومت نے اب یورپی یونین میں شمولیت حاصل کرنے کیلئے کرازگ کی گرفتاری پیش کی ہے اور ہوسکتا ہے ملاڈک کو بھی وہ 13 سال کی روپوشی کے بعد گرفتار کرلیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ جس طرح سلوبدان ملوساوک کی گرفتاری اور ان پر مسلمانوں کی نسل کشی کا مقدمہ چلایا گیا تو وہ بے چارہ جیل میں مر گیا، کیا کرازگ کی زبان کھولنے سے پہلے ان کو بھی مروانے کا اہتمام ہورہا ہے یا ملاڈک کو روپوشی میں ہی ختم کردیا جائیگا؟
بہت سارے سوالات ہیں اور بہت سارے گھناﺅنے کردار ہیں جو کہ دنیا کی سیاست میں اپنا نام روشن کرنے کیلئے بے چین ہیں۔ جیسا کہ پہلے بھی لکھا جاچکا ہے کہ ان سب کرداروں میں کرازگ کا کردار ثانوی ہے جبکہ سابق امریکی سفیر برائے اقوام متحدہ و جرمنی یعنی رچرڈ ہالبروک کا کردار بہت خفیہ رکھا گیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ کچھ چیزوں پر سے نقاب اٹھائی جائے تاکہ حقائق سامنے آئیں جو کہ یوگوسلاویہ کی تقسیم میں بوسنیا کے مسلمانوں پر ظلم اور نسل کشی سے متعلق ہیں۔
ادھر اگر عالمی عدالت انسانیت کیخلاف جرم کی پاداش میں کرازگ کو سزائے عمر قید دیتی ہے تو پھر ان کے بیانات کی روشنی میں ان کرداروں کو بھی عدالت میں پیش کرے تاکہ تاریخ کے صفحات میں بوسنیا سے متعلق تمام شکوک و شبہات دور ہوسکیں۔
٭٭٭

4 / 5 (1 Votes)









 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier