ڈاکٹر شبیر احمد
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
وطن عزیز سے بہت سے بہن بھائی فرماتے ہیں الیکشن ہوگئے، جمہوریت آگئی مگر عوام کی قسمت نہ جاگی۔
٭جواب:۔ آپ کے ارشادات کا جواب علامہ اقبالؒ پہلے ہی دے چکے ہیں۔ اوپر درج کردہ شعر کو ایک بار پھر ملاحظہ فرمائیے۔
سوال:۔ نیوجرسی سے ایک صاحب ذوق بھائی پوچھتے ہیں، فارسی کے ایک بڑے شاعر بیوہ خواتین کی توہین کیوں کرگئے
زن ”بیوہ“ مکن اگرچہ حور است
راہ راست برو اگرچہ دور است
(یعنی بیوہ عورت سے ہرگز شادی نہ کرو خواہ وہ حور کی طرح حسین ہو۔ سیدھی راہ پر چلو اگرچہ منزل دور ہو)
٭جواب:۔ محترم عمر حیات صاحب! پہلے مصرعہ میں لفظ ”ب“ سے بیوہ نہیں پ سے ”پیوہ“ ہے۔ معنی یہ ہوئے کے بے کردار عورت سے شادی نہ کرو اگرچہ وہ حور کی طرح حسین ہی کیوں نہ ہو۔ نقطے کیا کیا گل کھلاتے ہیں اس کی ایک مشہور مثال ملاحظہ فرمالیجئے
ہم دعا لکھتے رہے اور وہ دغا پڑھتے رہے
ایک نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم کردیا
سوال:۔ محترمہ نسیمہ خاتون کراچی سے پوچھتی ہیں کیا امریکہ میں واقعی پانچ لاکھ بلیاں اور کتے ہر سال ہلاک کردئیے جاتے ہیں؟
٭جواب:۔ امریکہ میں اس وقت تقریباً 6کروڑ بلیاں اور 5 کروڑ کتے موجود ہیں۔ گلیوں میں بھٹکنے والے یہ جانور کم ہی ملتے ہیں۔ زیادہ تر گھروں میں پالے جاتے ہیں یا دارالحیوانات (Animal Shelters) میں رکھے جاتے ہیں۔ بہت سے سماجی ادارے ان کا خیال رکھتے ہیں۔ البتہ جب کوئی جانور بہت بوڑھا ہوجائے یا کسی لاعلاج مرض کا شکار ہوجائے تو اسے ہمیشہ کیلئے سلا دیا جاتا ہے۔ سالانہ طور پر یہ تعداد پانچ لاکھ نہیں اس سے دو گنا یعنی دس لاکھ کو پہنچ جاتی ہے۔ ایک دلچسپ بات بھی سن لیجئے کہ ایسے ہی سلوک کے باوجود آسٹریلیا میں کنگرو کی تعداد انسانوں سے دگنی ہے۔
سوال:۔ ایک نوجوان شمس الحق پوچھتے ہیں کیا کبھی ایسا ہوسکے گا کہ انسان مشینی پَر لگا کر پرندوں کی طرح اڑنے لگے؟
٭جواب:۔ یہ دنیا عالم ایجاد ہے۔ سائنس کیلئے وہ سب کچھ ممکن ہے جو کل تک ناممکن تھا۔ کچھ مثالیں پیش کرنے سے پہلے اکبر الٰہ آبادی کا دلچسپ شعر درج کرتا ہوں
کہا انگریز نے ہم اڑ رہے ہیں
کہا میں نے خدا تم کو اڑائے
.... اب کچھ دلچسپ مثالیں سنئے ”جملہ حقوق محفوظ Patent۔ امریکی ادارے کے سربراہ نے کہا تھا جتنی ایجادات ہونی تھیں وہ ہوچکیں لہٰذا اب (یعنی 1896ءمیں) ہمارا ادارہ بند کردینا چاہئے۔
.... 1906ءمیں امریکی فیڈرل بینک کے چیئرمین نے کہا کہ ٹرکوں اور کاروں کی دیوانگی بہت جلد ختم ہوجائے گی صرف گھوڑا گاڑی باقی بچے گی۔
.... فرانس کے کمانڈر انچیف مارشل فڈیٹ نے 1911ءمیں کہا ہوائی جہاز اچھے کھلونے ہیں لیکن یہ جنگ میں کبھی کام نہیں آسکیں گے۔ تین ہی برس بعد پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی تو جنگی طیاروں نے دنیا میں تباہی مچا دی۔
.... خاموش فلموں کے دور میں (1927ئ) وارنر برادرز نے کہا، بھلا کون بے وقوف اداکاروں کو بولتے ہوئے دیکھنا سننا چاہے گا!
.... سوا سو برس پہلے ٹیلیفون کے موجد الیگزینڈر گراہم بیل اپنی ایجاد فروخت کرنے کیلئے ویسٹرن یونین کمپنی کے صدر سے ملے۔ جناب صدر بولے، بھئی ہماری کمپنی کو بلکہ کسی بھی کمپنی کو تمہارے کھلونے سے کیا سروکار؟
.... مشہور ماہنامے ”پاپولر مکینکس“ کے ایڈیٹر نے 1949ءمیں لکھا، شاید وہ زمانہ آجائے جب کمپیوٹر کا وزن صرف ڈیڑھ ٹن ہوا کریگا۔
.... نئی ٹیکنالوجی کے سب سے بڑے صنعتکار نے 1977ءمیں نہلے پر دہلا پھینکا، گھر میں کمپیوٹر رکھنے کا زمانہ کبھی نہیں آئیگا۔
.... انگریزی کے مشہور ناول نگار اور مورخ ”ایچ جی ویلز“ نے 1901ءمیں فرمایا، وہ لوگ احمق ہیں جو آبدوز بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ تصور ہی جاہلانہ ہے۔
.... اسی سال رائٹ برادران پہلا ہوائی جہاز بنانے میں مشغول تھے۔ فلسفے اور سائنس کے پنڈت بولے، انسان اگلی صدی تک اڑ نہیں سکے گا۔ ولبر اور اورول رائٹ سائیکلیں مرمت کیا کرتے تھے۔
.... مارکونی نے ریڈیو ایجاد کیا تو برٹش رائل سوسائٹی کے صدر لارڈ کیلون بولے، اس بے کار کھلونے کا کوئی مستقبل نہیں۔ (1897ئ)
.... الیکٹرونکس کے گرو جان ڈیسمنڈ نے 1946ءمیں فتویٰ داغا، ٹیلیویژن دنیا کی کسی مارکیٹ میں چھ ماہ سے زیادہ نہیں گزار سکے گا۔ بھلا لکڑی کے ڈبے کے آگے بیٹھنا کسے اچھا لگ سکتا ہے؟
.... برطانیہ کے چیف سرجن جیمز سمتھ نے 1963ءمیں ارشاد فرمایا تمباکو نوشی صحت کیلئے بہت اچھی چیز ہے۔
.... ایک ممتاز موجد ڈاکٹر ”لی فورسٹ“ نے 1967ءمیں کہا سائنس کتنی ہی ترقی کرجائے، انسان چاند پر کبھی نہیں پہنچ سکے گا۔ دو ہی برس گزرے تھے کہ نیل آرمسٹرانگ نے چاند پر قدم رکھ دیا۔ ڈاکٹر صاحب بولے وہی بات جو ہمارے یہاں آج بھی پرانی فکر والے لوگ کہہ دیتے ہیں، اجی! یہ تصویریں تو سائبیریا میں بنائی گئی ہیں۔
.... سیاستدانوں کی پیش گوئیاں بھی اکثر و بیشتر غلط ثابت ہوتی ہیں۔ برطانیہ کے وزیراعظم لائیڈ جارج نے 1934ءمیں اہل یورپ کو بہت اعتماد سے تسلی دی، یقین کیجئے جرمنی کبھی جنگ کے قابل نہیں ہوسکے گا۔ پھر صاحبو! چند ہی سال میں ہٹلر نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔
آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ ان موجدوں میں ایک بھی مسلمان کا نام نہیں۔ علامہ اقبالؒ نے کوئی 70، 80 برس پہلے فرمایا تھا
تین سو سال سے ہیں ہند کے مے خانے بند
اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی
یعنی تین صدیوں میں ہندوستان نے کوئی قابل ذکر ترقی نہیں کی لیکن امت مسلمہ پر نظر ڈالئے تو ہماری ترقی کے مے خانے اب چار صدیوں سے بند ہیں لہٰذا ہمارے یہاں کوئی ایجاد نہیں ہوتی۔ ہماری سب توانائی سیاسی اور مذہبی بحثوں میں صرف ہوجاتی ہے۔ یہ ایک دائرہ ہے کہ ایجاد کے بغیر ترقی نہیں ہوتی اور ترقی کے بغیر ایجاد نہیں ہوتی جبکہ صورتحال یہ ہے کہ
جو عالم ایجاد میں ہے صاحب ایجاد
ہر دور میں کرتا ہے طواف اس کا زمانہ
سوال:۔ صائمہ اظہر پوچھتی ہیں کیا کوئی جانور ایسا ہے جو کبھی نہیں سوتا؟
٭جواب:۔ چیونٹی تمام عمر ایک لمحے کیلئے نہیں سوتی۔
محترمہ نگہت ناز فرماتی ہیں ”سچے موتیوں کو کبھی سرکہ میں نہ ڈالئے، وہ پگھل جائیں گے“۔
٭.... تبصرہ! بجا فرمایا.... صاحبو! اپنی بزم میں شرکت فرمانے کا بہت شکریہ
اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میر
پھر ملیں گے اگر خدا لایا
(فی امان اللہ!)
٭٭٭