|
ملک سلیم اکبر ایک بار پھر آصف زرداری اور نوازشریف کے درمیان ”فیصلہ کن“ قرار دی جانے والی ملاقات کسی بھی نتیجے پر پہنچے بغیر ناکام و نامراد ہو کر ختم ہوئی اور ہم جیسے 16 کروڑ عوام جو پاکستان میں جمہوریت کو پھلتے پھولتے دیکھنے اور عدلیہ کی مکمل خودمختاری اور ججوں کی بحالی کی امیدیں لگائے بیٹھے تھے یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ آصف زرداری اور نوازشریف قوم کو بیوقوف بنانے کے مکروہ کھیل میں مصروف ہیں۔ آصف زرداری کو این آر او کی صورت میں جنرل مشرف سے بے شمار مالی اور ذاتی فائدے حاصل ہوئے ہیں لہٰذا آصف زرداری مشرف کے مواخذے یا عدلیہ کی بحالی میں بالکل بھی سنجیدہ نہیں ہیں۔ آصف زرداری خود ہی مشرف کے احسانوں تلے دبے ہوئے ہیں لہٰذا آصف زرداری تو مشرف کے لگائے ہوئے اٹارنی جنرل ملک قیوم اور سیکرٹری داخلہ کو بھی ہٹانے کی جرا¿ت نہیں کر سکتے۔ رہی بات نوازشریف کی تو اب پاکستان کے عوام نوازشریف کے بارے میں بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ صوبہ پنجاب میں اپنی قائم حکومت کو بچانے کیلئے نوازشریف بھی ڈھیل اور لچک کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ نوازشریف کی اول و آخر مجبوری پی پی پی کا ساتھ بن گیا ہے۔ اگر وہ پی پی پی سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہیں تو صوبہ پنجاب میں گورنر سلیمان تاثیر مسلم لیگ ن کی حکومت اور شہبازشریف کو نکال باہر کریں گے۔ پنجاب حکومت کے منہ لگے مزے چھوڑنے کیلئے مسلم لیگ ن بالکل بھی تیار نہیں ہے ویسے بھی نوازشریف کے حکومت کی کابینہ میں شامل تمام وزیر اپنے عہدوں سے علیحدگی کے باوجود اپنی تمام مراعاتیں حاصل تو کر رہے ہیں اور اپنی اپنی وزارتیں حاصل کرنے کیلئے بھی دوبارہ پرامید ہیں یہی وجہ ہے کہ آج 6 گھنٹوں تک جاری رہنے والی آصف زرداری اور نوازشریف کی ملاقات ”روٹی شوٹی“ کھا کر ختم ہوگئی۔ آصف زرداری اور نوازشریف کی آج ہونے والی یہ ملاقات کس قدر غیراہم تھی اس کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے تمام اختیارات کے مالک اور ملک کے حقیقی معنوں میں وزیراعظم محترم رحمان ملک اس ملاقات میں شامل نہیں تھے۔ رحمان ملک کو جنرل مشرف ”مفید“ اور کام کا آدمی قرار دے چکے ہیں۔ رحمان ملک وزیراعظم ہاﺅس‘ زرداری ہاﺅس اور مشرف کے درمیان نہ صرف رابطے اور پل کا کام دیتے ہیں بلکہ وہ اس قدر زیادہ اختیارات رکھتے ہیں کہ آصف زرداری بھی اپنی مجبوریوں کے باعث رحمان ملک کے فیصلوں کیخلاف کوئی بات کرنے کی جرات نہیں رکھتے۔ محترم رحمان ملک مکمل اعتماد کے ساتھ آصف زرداری کو خاطر میں لائے بغیر ضمنی انتخابات کے التوا سمیت دیگر بہت سے فیصلے کرنے کی طاقت و قوت اس لیے بھی رکھتے ہیں کہ پاکستان میں حکومت کو بننے اور بگڑنے والی پس پردہ عالمی طاقتوں کی بھی مکمل آشیرواد اور سرپرستی رحمان ملک کو حاصل ہے اس وقت نوازشریف کے ساتھ الحاق کے ساتھ پی پی پی کی مخلوط حکومت میں رحمان ملک کو حقیقی معنوں میں وزیراعظم گیلانی اور آصف زرداری سے بھی زیادہ اختیارات کا حامل شخص سمجھا اور مانا جاتا ہے۔ اتنے اہم ترین شخص کا آصف زرداری اور نوازشریف کی اس 6 گھنٹوں کی ملاقات میں شامل نہ ہونا اس بات کا بالکل واضح ثبوت ہے کہ آصف زرداری کی حکومت نہ تو ججوں کی بحالی پر سنجیدہ ہیں اور نہ ہی فی الحال مشرف کا مواخذہ ہی چاہتی ہے لہٰذا پاکستان کے عوام کو چند روز مزید طفل تسلیاں دینے کیلئے اب مخلوط حکومت میں شامل مولانا ڈیزل یعنی مولانا فضل الرحمن اور محترم اسفندیارولی کی مزید رائے لینے کیلئے موخر کردیا گیا ہے۔ آپ ہمیں 718-692-0707 پر دوپہر بارہ سے شام سات بجے تک فون کرکے پاک یو ایس ٹریول ایٹ جی میل ڈاٹ کام پر ای میل کرکے بتائیں کہ جب بھوربن میں اعلان مری کیا گیا تھا تو یہ آصف زرداری اور نوازشریف کی دونوں بڑی جماعتوں ہی نے کیا تھا اس وقت یہی فیصلہ کیا گیا تھا کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں جو فیصلے کریں گی حکومتی اتحاد میں شامل دیگر جماعتیں اس کی مکمل حمایت و تائید کریں گی۔ آصف زرداری نے پہلے نام نہاد آئنی پیکیج لا کر کچھ عرصے تک قوم کے مطالبے کو ٹالا اور اب دیگر جماعتوں سے مشاورت کا ڈھونگ رچا کر بات کو ٹالا جا رہا ہے۔ نوازشریف بھی اس ”قومی جرم“ میں برابر کے شریک ہیں کہ وہ دو ٹوک فیصلے کی قوت نہ رکھنے والی شخصیت بن کر سامنے آ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ آصف زرداری نے اپنے نمائندہ خصوصی خورشید شاہ کے ذریعے چیف جسٹس افتخار چودھری کو پیغام بھجوایا ہے کہ حکومت آپ کو صرف اور صرف اس شرط پر دوبارہ بحال کرنے پر تیار ہوسکتی ہے کہ (1) آپ حکومتی فیصلوں میں کسی قسم کا پنگا نہ ڈالیں اور (2) عوامی مسائل پر ازخود نوٹس لینے کی عادت کو ختم نہیں تو کم از کم حد تک کم کریں۔ صاف اور سیدھے سادھے الفاظ میں پی پی پی کی حکومت ججوں کی بحالی کے مسئلے کو زیادہ سے زیادہ دیر تک لٹکا کر وکلاءتحریک کا عوام میں اثر کم کرنا چاہتی ہے اور اپنی قائم کردہ شرائط پر چیف جسٹس کے ہاتھ کاٹ کر انہیں لولا لنگڑا چیف جسٹس بنانے کی پیش کش کر رہی ہے۔ نوازشریف چونکہ آصف زرداری کو یہ سب کچھ کرنے کی اجازت دے رہے ہیں تو نوازشریف کی مجرمانہ خاموشی کو بھی اب قوم نوازشریف کی نیم رضامندی بلکہ فل ٹائم رضامندی ہی سمجھ کر نوازشریف کو بھی برابر کا قصوروار سمجھ رہی ہے.... کاش.... اے کاش کہ پاکستانی قوم کا مینڈیٹ اور ووٹ حاصل کرنے والے ہمارے حکمران قوم کے مطالبے پر توجہ دیں کہ زبان خلق کو نقارہ خدا ہی سمجھنا حکومت کا فرض بھی ہے عوام پر ان کا قرض بھی ہے۔ پاکستان زندہ باد پاکستان پائندہ باد
|
|