اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Mon, 11 Aug 2008 03:57:00

جاپان تو ہوگا

جاپان تو ہوگا
اور پھر بیاں اپنا ۔۔۔ قمر علی عباسی
ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف ریڈیو پاکستان ہیڈکوارٹر کے ڈپٹی کنٹرولر ٹریننگ راشد علی تھے۔ کہنے لگے آپ نے ڈی جی صاحب کے ہوٹل کے بل کیوں بھجوائے ہیں؟
ہم نے جواب دیا ۔ ”یہ بل انہیں ادا کرنے ہیں۔
کیونکہ اس مد میں انہیں سرکاری رقم ملتی ہے“
راشد علی کہنے لگے۔ ڈی جی صاحب کے بل آپ ادا کردیں۔
”کیسے ؟ ہمیں اس مد میں بجٹ نہیں ملتا نہ ہم اس کے مجاز ہیں‘ یہ تو انہیں دینے چاہئیں“
”آپ کہیں سے ادائیگی کردیں“ راشد علی پھر بولے۔ آپ کے پاس ٹرانسپورٹ پول میں سولہ گاڑیاں ہیں کسی ایک کی مرمت دکھا کر وہ رقم ہوٹل کے بل میں ڈال دیں۔
ہم نے حیران ہو کر کہا۔ ”یہ بے ایمانی ہے ہم نے ایسا کبھی نہیں کیا۔“
راشد علی نے کہا ”سرکاری رقم ایک جگہ سے دوسری جگہ دیدی جائے تو کیا حرج ہے۔؟ یہ آپ تو نہیں لے رہے۔ میں بل واپس بھیج رہا ہوں۔ آپ ادا کردیں۔ یہ کہہ کر انہوں نے فون بند کردیا۔
ہم ریڈیو پاکستان کراچی کے اسٹیشن ڈائریکٹر تھے اور ہیڈکوارٹر سے آنے والے ان افسران کی دیکھ بھال سرکاری ذمہ داری میں شامل تھی۔ ہم نے اسی وقت ڈائریکٹر فنانس اعجاز صاحب کو فون کرکے ساری صورتحال بتائی اور درخواست کی جیسے ہی بل واپس ملیں گے ہم آپ کو بھیج دیں گے تاکہ ادائیگی ڈی جی کے سفری الاﺅنس سے کردی جائے۔
بارہ سال پہلے اعجاز سرور ہمارے ڈائریکٹر جنرل تھے۔ انتہائی نفیس خوش لباس خوش شکل لیکن کچھ ایسی عادتیں تھیں جن سے مہمان نوازی میں مشکل ہوتی۔ وہ جب کراچی آتے ان کی فرمائش ہوتی وہ ہوٹل انٹرکانٹی نینٹل (اب پی سی) میں قیام فرمائیں گے۔ سرکاری طور سے وہ اس کے مجاز نہیں تھے۔ کیونکہ قیام کے مد میں یہ رقم کم تھی جبکہ ہوٹل کا کرایہ زیادہ تھا۔ ہم اپنے ذاتی مراسم استعمال کرکے انٹرکانٹی نینٹل میں سرکاری نرخ پر کمرہ دلوا دیتے ان کی فرمائش ہوتی وہ ہوٹل کی ساتویں منزل پر ٹھہریں گے اور کمرہ سوئیٹ ہو اور یہ سڑک کے رخ پر ہو تاکہ کھڑکیاں باہر کی طرف کھلیں۔ دفتر کا ایک چپڑاسی صبح سے رات تک ان کے کمرے کے سامنے بیٹھا رہے نجانے کب کیا ضرورت پڑ جائے۔ ہم کراچی جم خانہ کے ممبر تھے وہ اصرار کرتے کراچی کے اہم اور ان کے پسندیدہ لوگوں کو جم خانے میں دعوت دی جائے۔ وہاں ہر ممبر کی ادائیگی ماہ بہ ماہ کرنی ہوتی تھی۔ وہ عجیب فرمائش کرتے سمندر کی سیر کریں گے۔ کلفٹن کے ساحل پر بھری دوپہر میں چہل قدمی کریں گے۔ اپنی پسند کی پیسٹریاں کھانے کیلئے ہر بڑے ہوٹل کو اعزاز بخشیں گے جب جانے لگتے اصرار ہوتا جہاز کی اکانومی کلاس کوفرسٹ کلاس میں بدلوا دیں۔ نشست سیدھے ہاتھ کی رو میں‘ کھڑکی کے ساتھ ہو ہم ہر بار سہمے رہتے۔ کبھی پائلٹ اور ائرہوسٹس کے نام بھی نہ دے دیں کہ ان کا پرواز میں ہونا لازمی ہے۔ ہم نے ریڈیو پاکستان کی ملازمت کے دوران بہت سے ڈائریکٹر جنرل دیکھے تھے لیکن یہ اپنی خواہش اور عادت میں سب سے جدا تھے۔
ریڈیو پاکستان کے ہیڈکوارٹر سے بل ابھی واپس نہیں آئے لیکن ایک دن راشد علی کا فون آیا۔ ڈی جی صاحب نے آپکا نام جاپان کی ٹریننگ کیلئے تجویز کیا ہے۔
سفرنامہ لکھنا ہمارا شوق ہے دنیا کے بہت سے ممالک گئے ہیں جاپان جانے کا موقع سرکاری طور پر مل جائے تو اچھا ہے۔ ایک دن ڈی جی صاحب کا بھی فون آیا فرمانے لگے میں نے آپ کا نام وزارت اطلاعات کو بھیج دیا ہے یہ چھ ہفتے کی ٹریننگ ہے اس میں جاپان کے تمام بڑے شہر دکھائے جائیں گے۔
ٹریننگ کے علاوہ آپ سفرنامہ لکھ کر عام قاری کو بھی فیض پہنچا سکتے ہیں۔
ہم نے شکریہ ادا کیا اور جاپان جانے کے بارے میں سوچنے لگے۔ سفرنامے کا نام بھی تجویز کرلیا۔ ”جاپان تو ہوگا“
ایک دن ہیڈکوارٹر سے ڈی جی صاحب کے ہوٹل کے بل واپس آ گئے ہم نے وہ ڈائریکٹر فنانس کو ادائیگی کیلئے بھیج دیئے۔ چند روز بعد راشد صاحب کا فون آیا۔ ”ڈی جی صاحب آپ سے خفا ہیں ہوٹل کے بل واپس کیوں بھیجے ؟
ٹریننگ کے سلسلے میں طریق کار یہ ہے کہ ہر کورس کیلئے کم از کم دو نام بھیجے جاتے ہیں ایک پرنسپل امیدوار ہوتا ہے دوسرا نام اسٹینڈ بائی ہوتا ہے اور روایت یہ ہے کہ پہلا نام ہی منظور کیا جاتا ہے۔ ہمارے ساتھ دوسرا نام ریڈیو پاکستان کوئٹہ کے اسٹیشن ڈائریکٹر کا تھا۔ اصولاً پہلا نام ہونے کی وجہ سے ہمیں ہی جانا تھا۔ ہم سے تیاری کرنے کیلئے کہہ دیا گیا پھر ایک دن اچانک فون آیا۔ دوسری طرف راشد علی صاحب تھے۔ فرمایا۔ آپ کا نام منظور ہو گیا ہے‘ مبارک ہو۔
پھر دو دن بعد فون آیا۔ آپ کا نام نامنظور ہو گیا ہے اور ریڈیو پاکستان کوئٹہ کا اسٹیشن ڈائریکٹر اس ٹریننگ پر جائیگا۔کا ڈی جی صاحب کہتے ہیں کہ اگر آپ کہیں تو انہیں نہ بھیجیں۔ ہماری خوش قسمتی کہ ڈی جی صاحب نے خود ہم سے بات کی اور فرمایا۔ ہم چاہتے تھے آپ کو جاپان بھیجیں مگر دوسرا نام منظور ہو گیا ہے۔ لیکن ہم اسے نہیں بھیجیں گے۔ ہم نے ان سے درخواست کی جاپان جانا سرکاری طور سے ہمارے نصیب میں نہیں ہے آپ کوئٹہ کے اسٹیشن ڈائریکٹر کو ضرور بھیجیں۔
چند دن بعد ریڈیو پاکستان کے ہیڈکوارٹرز میں اسٹیشن ڈائریکٹرز کی میٹنگ تھی جس میں اسلام آباد‘ پشاور‘ کراچی اور کوئٹہ کے ڈائریکٹرز شامل تھے۔ ان مقامات پر کنٹرولرز تعینات ہوتے ہیں۔ صبح میٹنگ شروع ہوئی ہمارے برابر ریڈیو پاکستان کوئٹہ کے اسٹیشن ڈائریکٹر بیٹھے تھے۔ اس قسم کی میٹنگ میں چائے اور دوپہر کا کھانا وہیں دیا جاتا ہے۔ لنچ ختم ہوا تو ہمارے برابر بیٹھے کوئٹہ کے اسٹیشن ڈائریکٹر نے ہمیں مخاطب کرکے کہا۔ ”بھائی میں ابھی آتا ہوں“ اور اٹھ کر چلے گئے۔ یہاں تک کہ شام پانچ بجے میٹنگ ختم ہو گئی۔
ان دنوں عنایت بلوچ ڈائریکٹر پروگرامز تھے ہم نے ان سے پوچھا کوئٹہ کے اسٹیشن ڈائریکٹر کہاں گئے۔
انہوں نے کہا۔ آپ کو نہیں معلوم؟ وہ جاپان چلے گئے۔
 ہم حیران رہ گئے۔ وہ بولے ابھی وہ اسلام آباد ائرپورٹ گئے ہیں وہاں سے کراچی جائیں گے اور کل دوپہر ٹوکیو کی فلائٹ ہے۔
ہماری گفتگو کے دوران وہاں ایک اور صاحب بھی موجود تھے۔ انہوں نے جو بات بتائی اسے دروغ برگردن راوی کہہ کر سناتے ہیں۔
”ریڈیو پاکستان کوئٹہ کے اسٹیشن ڈائریکٹر کا جاپان جانا اس لئے ہوا کہ انہوں نے بلوچستان زکوٰة فنڈ سے کسی طرح ڈی جی صاحب کو کئی لاکھ روپے دلوائے تھے۔“
ہمیں اس کا ملال تو ہوا اور آزودگی بھی کہ انہوں نے واپس آ کر جاپان کے بارے میں ایک لائن بھی نہ لکھی۔ صرف اپنی دوکان پر جاپان کا کپڑا بیچا۔ اس سے پہلے سائیڈ بزنس کے طور پر وہ کوریا کا کپڑا فروخت کرتے تھے۔
آج جب ہر طرف انصاف کی آواز بلند ہو رہی ہے ہمیں صرف اتنا کہنا ہے کہ کسی اور قمر علی عباسی کے ساتھ اتنی سی بھی ناانصافی نہ ہو۔

5 / 5 (1 Votes)







  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: air purifier