اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

 
Mon, 11 Aug 2008 03:56:00

مخلوط حکومت کے آخری دن

مخلوط حکومت کے آخری دن
(غیر سیاسی باتیں.... عبدالقادر حسن)
حیران کن، پریشان کن اور طویل عرصہ کی بلاوجہ غیرحاضری کے بعد ہمارے دو سرکردہ اور بااختیار لیڈر بالآخر وطن واپس لوٹ آئے ہیں۔ جناب آصف علی زرداری اور میاں محمد نوازشریف دونوں یکے بعد دیگرے ملک سے باہر چلے گئے تھے۔ بتایا گیا کہ دونوں حضرات اپنے اپنے مریضوں کی تیمارداری کیلئے ملک سے باہر گئے ہیں۔ لندن میں میاں صاحب کی بیگم صاحبہ کا آپریشن ہوا ہے لیکن وہ ابھی ہسپتال میں ہیں اس لئے میاں صاحب دوبارہ ان کی تیمارداری کیلئے لندن گئے ہیں۔ بیگم صاحبہ کے آپریشن کے وقت میاں صاحب لندن میں موجود تھے۔ جناب زرداری کے بارے میں اطلاع ملی کہ بیگم نصرت بھٹو جو طویل عرصہ سے سدھ بدھ کھو چکی ہیں اور کسی کو نہ پہچانتی ہیں نہ ان کو کچھ یاد آتا ہے، اس وقت ان کی بیماری شدت اختیار کرگئی ہے اس لئے زرداری صاحب دبئی میں ہیں۔ زرداری صاحب برسراقتدار جماعت کے شریک چیئرمین ہیں اور تمام اختیارات ان کے پاس ہیں۔ اس طرح ان کی غیرحاضری عوام کیلئے شدید پریشانی کا باعث بن گئی کیونکہ عوامی مسائل بڑی تیزی کے ساتھ بڑھتے گئے لیکن ملک کا سب سے بڑا ذمہ دار شخص غائب تھا۔ اسی طرح میاں صاحب وفاق میں اس مخلوط حکومت کے دوسرے بڑے حصہ دار تھے اور ان کے 9 عدد وزراءبھی حلف اٹھا چکے تھے لیکن وہ صدر کے مواخذے اور معزول ججوں کی بحالی میں حکومت کی کوتاہی کی وجہ سے وزارتوں سے مستعفی ہوگئے۔ گو ان کے استعفے منظور نہ کئے گئے لیکن قانونی اور آئینی طور پر یہ وزراءوفاقی کابینہ کے اراکین میں شامل تھے چونکہ استعفے منظور نہ ہونے کی وجہ سے وہ بدستور وزیر تھے اس لئے وہ وفاقی وزراءکی تنخواہیں اور دیگر بھاری مراعات وصول کرتے رہے اور کررہے ہیں لیکن عملاًوزارت کا کوئی کام نہیں کررہے۔ یہ قومی مفت خوری کا ایک نمونہ ہے۔
ان بڑے لیڈروں کی ملک سے طویل غیرحاضری نے ملک بھر میں ایک غیریقینی اور اضطراب کی فضا پیدا کردی۔ عوام نہ صرف اپنے معاشی مسائل سے لاچار ہوچکے تھے بلکہ غیرملکی جارحیت کا خطرہ بھی ان پر لٹک گیا۔ امریکہ بات بات پر شمالی علاقوں پر حملے کی دھمکی دے رہا تھا اور اس پر عملدرآمد کیلئے اس نے فوجی تیاریاں بھی مکمل کرلیں۔ اس وقت وہ جب بھی چاہتا ہے پاکستان کے اندر کسی جگہ فضائی حملہ کردیتا ہے اور چند پاکستانی زندگی سے محروم کردئیے جاتے ہیں۔ کسی دیوانگی کے عالم میں امریکہ، افغانستان میں گھس آیا اور اس نے یہ حرکت اقوام متحدہ کی منظوری کے ساتھ کی اور نیٹو کی افواج بھی پہلی بار یورپ سے باہرکسی جگہ دیکھی گئیں لیکن افغانستان جس طرح روس کیلئے مہنگا بلکہ جان لیوا بن گیا تھا اسی طرح اب امریکہ کے ہاتھ سے بھی نکلا جا رہا ہے۔ افغانوں نے اپنی تاریخ کے مطابق ایک اور غیرملکی طاقت کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا۔ اس سے قبل جب انگریز سپرپاور تھے تو انہوں نے افغانستان میں فوجی کارروائی کی تھی لیکن ایسی عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا کہ اب تک یہ شکست تاریخ کی ایک نادر مثال بنی ہوئی ہے جس میں برطانوی فوج کو تہہ تیغ کردیا گیا۔ صرف ایک ڈاکٹر کو زندہ چھوڑا گیا جس نے واپس جاکر برطانوی حکومت کو اس غیرمعمولی حادثے کی اطلاع دی۔ برطانیہ، ہندوستان پر تو قابض رہا لیکن اس نے افغانستان پر قبضے کو دل سے نکال دیا۔ اس کے بعد ایک اور سپرپاور سوویت یونین نے یہی حرکت کی۔ یہ کل کا واقعہ ہے جس میں سوویت یونین کو اتنی بڑی سزا ملی کہ روسی ایمپائر بھی ختم ہوگئی۔ افغانوں نے دوسری سپرپاور کو بھی شکست دیدی۔ اب تیسری سپرپاور جو دنیا کی واحد سپرپاور ہے، افغانستان میں اپنی تاریخ کی سب سے بڑی آزمائش سے گزر رہی ہے۔ بے پناہ طاقت کے باوجود فضاﺅں میں تو اس کے جہاز بلندیوں پر محو پرواز ہیں لیکن افغانستان کی سر زمین پر اس کے قدم نہیں جم رہے۔ افغانستان کی جنگ ہو یا امن، اس کیلئے پاکستان کا تعاون لازم ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقوں اور افغانستان میں پشتون قوم آباد ہے جن کا آپس میں ایک نسلی اور خاندانی تعلق چلا آرہا ہے جب افغانستان میں پشتونوں کو تنگ کیا جاتا ہے تو اس کا شدید ردعمل پاکستان سے اٹھتا ہے اور یہی وہ ردعمل ہے جس نے امریکیوں کو افغانستان میں پریشان کردیا ہے۔ ان کے پاس اس کا سوائے اسکے اور کوئی علاج نہیں کہ وہ حکومت پاکستان کو ان قبائلی پشتونوں کیخلاف کارروائی پر مجبور کرے چنانچہ پاکستان کی افواج بہت بڑی تعداد میں ان کارروائیوں میں ملوث ہیں لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ، افغانستان میں کس دلیل کے تحت گھس آیا ہے۔ جب تک امریکی مداخلت ختم نہیں ہوتی پاکستان اور امریکہ دونوں کی فوجیں یہاں کامیاب نہیں ہوسکتیں۔ گوریلا وار ہمیشہ کامیاب رہی ہے، ویتنام میں یہی کچھ ہوا اور امریکہ کو بھاگ جانا پڑا۔ اب افغانستان میں امریکہ کو گوریلا جنگ کا سامنا ہے۔ اس نے یہ جنگ پاکستان تک پھیلا دی ہے۔ افغانستان کے اندر امریکہ اور نیٹو افواج کامیاب نہیں ہورہیں اس لئے سارا زور پاکستان پر دیا جاتا ہے کہ وہ اس قدر سخت کارروائیاں کرے کہ افغانستان میں سرگرم لوگ غیرمتحرک ہوجائیں۔ صاف الفاظ میں امریکہ اب یہ کہہ رہا ہے کہ افغانستان کی جنگ جو شروع تو اس نے کی تھی، اس میں کامیابی کا بندوبست پاکستان کرے اور پاکستان اسے یہ جنگ جیت کردے۔
ملک کے اندر اور باہر ان حالات کے باوجود داد دیجئے ہمارے لیڈروں کی کہ وہ آنکھیں بچا کر ملک سے باہر چلے گئے جسے پاکستانی جانا نہیں بھاگ جانا کہتے ہیں۔ ملک کے اندر جب احتجاج شدید ہوگیا اور اپوزیشن پر پرزے نکالنے لگی تو یہ دونوں ایک ہی دن واپس لوٹ آئے۔ میاں صاحب شدید ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں اور ان کے مطابق وفاق میں مخلوط حکومت کی بقاءاور فنا کا فیصلہ اب ہو کر رہیگا اور اندازہ یہی ہے کہ یہ حکومت باقی نہیں رہیگی، اس کے بعد کیا ہوگاآئندہ ملاقاتوں میں عرض کروں گا۔
٭٭٭










 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier