|
گریبان ۔۔۔۔ منو بھائی روایت بنتی جا رہی ہے ہے یا شاید بن چکی ہے کہ ”سارک“ ملکوں کے حکومتی اور ریاستی سربراہوں کے اجلاس کے ساتھ ہی ان ملکوں کے ”میڈیا“ کی فعال تنظیم ساﺅتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن (SAFMA) کے اجلاس بھی منعقد ہوتے ہیں جن میں بہت زیادہ خوفناک تقاضوں کی زد میں آئے ہوئے اس علاقے کے لوگوں کے ان اہم مسائل اور مشکلات کو زیر بحث لایا جاتا ہے جو باہمی مدد، توجہ اور برداشت سے حل کئے جا سکتے ہیں یا ان کی شدت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ ان مسائل کو زیر بحث لانا اور ان کی جانب حکومتی اور ریاستی سربراہوں کی توجہ مبذول کرانے کے سلسلے میں سیفما نے بہت مو¿ثر کردار ادا کیا ہے۔ اس حقیقت کو اب علاقے کے حکومتی عناصر بھی تسلیم کرتے ہیں۔ میڈیا کی اس تنظیم نے بعض ایسے علاقوں میں بھی اپنا بھرپور مو¿ثرکردار ادا کیا ہے جن علاقوں میں سارک کے ”قرارداد مقاصد“ کی مجبوریوں کی وجہ سے حکومتی اور ریاستی سربراہ بھی دخل انداز نہیں ہو سکتے تھے۔ خاص طور پر تقریباً دو ارب آبادی کے ان آٹھ ملکوں ہندوستان‘ پاکستان‘ بنگلہ دیش‘ سری لنکا‘ نیپال‘ بھوٹان‘ مالدیپ اور افغانستان میں جہاں دنیا کے غربت کی لکیر سے نیچے غرق ہو جانے والے بدنصیبوں میں سے آدھے سے زیادہ بدقسمت بھی سانس لینے پر مجبور ہیں۔ امن و امان کی فضا قائم کرنے کی کوششوں سے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اگر چہ اس سمت میں ابھی بہت زیادہ سفر کرنا پڑے گا مگر سیفما نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مفاہمت کی فضا قائم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور اب پاکستان اور افغانستان‘ بنگلہ دیش اور ہندوستان کے درمیان بھی سیاسی اختلافات کو باہمی مذاکرات کے ذریعے دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سارک ممالک بشمول افغانستان کے سربراہوں کے کولمبو اجلاس سے متوازی سیفما کے جلسے میں شرکت کیلئے پاکستانی وفد اور مرکزی سیکرٹری جنرل امتیاز عالم کے ہمراہ مجھے بھی سری لنکا کے خوبصورت، سرسبز اور اندرونی خانہ جنگی کی زد میں آئے ہوئے ملک کے دارالحکومت کولمبو جانے کی سعادت حاصل ہوئی۔ سیفما کے تین روزہ اجلاس میں شرکت کیلئے لاہور سے کولمبو جانے اور واپس آنے میں بھی تین دن لگے۔ ایک ایسے دور میں جو سفر کی سہولتوں اور تیز رفتار تعلقات کے عروج کا دور کہلاتا ہے ۔ لاہور اور کولمبو کے درمیان سفر میں قطر‘ دوہا‘ کراچی کے پڑاﺅ بھی حائل تھے۔ ہمیں لاہور سے براستہ قطر کولمبو جانا اور وہاں سے واپس براستہ قطر اور کراچی لاہور واپس آنا پڑا۔ واپسی کا سفر گھنٹوں پر پھیلا ہوا تھا۔ لاہور سے کولمبو جانے کا سفر 57280کلومیٹر کا تھا اور کولمبو سے لاہور واپس آنے کا سفر 90 ہزار کلومیٹر سے بھی زیادہ فاصلہ طے کرنے کا تھا مگر اچھے اور خوشگوار ہمراہیوں کی دلچسپ باتوں میں یہ سفر کٹ گیا اور اس دوران کچھ نئے دوست بنانے کا موقع بھی ملا۔ شاعر نے بالکل صحیح فرمایا ہے کہ سفر ہے شرط مسافر نواز بہترے ہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہے زندگی کے ہر سفر کا اگر کوئی زاد سفر ہوتا ہے تو سفر کا کوئی تحفہ بھی ہوتا ہے۔ سری لنکا سے سوچ کا یہ تحفہ لیکر آیا ہوں کہ ہم اور ہمارے ذرائع ابلاغ دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جانے والے لوگوں کی خبر نمایاں طور پر چھاپتے اور ہر کسی تک پہنچاتے ہیں مگر بھوک کے ہاتھوں مارے جانے والے لوگوں کا کہیں کوئی ذکر نہیں ہوتا۔ سوچ کے اس تحفے کے اندر حقیقت کے قریب پہنچا ہوا یہ شک اور شبہ بھی موجود ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی، بنیاد پرستی اور شدت پسندی کا یہ واویلا غربت اورناداری کے ذریعے پھیلانے والی بھوک کے ہاتھوں مارے جانے والوں کی آہ و بکا، چیخ و پکار اور احتجاج کا گلا گھوٹنے کیلئے مچایا جا رہا ہے۔ بنیاد پرستی سے دہشت گردی تک کے تمام کے تمام رجحانات ان سفری طاقتوں نے پھیلائے اور استعمال کئے ہیں جو دنیا بھر کے وسائل پر غاصبانہ قبضے کے ذریعے پوری دنیا میں غربت اور ناداری پھیلانے میں مصروف ہیں اور اس خوف میں مبتلا ہیں کہ غربت اور ناداری سے نجات پانے کی خواہش میں غریبوں اور ناداروں کی خاموش اکثریت اپنی خاموشی توڑ کر صدائے احتجاج بلند کر سکتی چنانچہ یہ مغربی طاقتوں کے بہترین مفاد میں ہے کہ دنیا بھر کے لوگوں کی توجہ مذہبی بنیاد پرستی اور دہشت گردی پر مرکوز رکھی جائے۔ یہی وہ حربہ ہے جس کے ذریعے پاپولر پولنگ میں ناکام رہ جانے والے جارج ڈبلیو بش نے اپنی دوسری صدارتی میعاد حاصل کی اور یہی وہ حربہ ہے جو مغربی طاقتیں اور استعماری قوتیں دنیا بھر کے معدنی اور مالی‘ اقتصادی اور معاشی وسائل پر اپنا قبضہ جاری رکھنے کیلئے استعمال کررہی ہیں۔ بلاشبہ ہر روز دنیا میں بھوک اور قابل علاج بیماریوں میں مبتلا ہو کر مرنے والوں کی تعداد دہشت گردی کی کارروائیوں کی زد میں آ کر مرنے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔ مگر واویلا محض اور محض دہشت گردی کی وارداتوں کا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی سے زیادہ خطرناک مالیاتی انتہا پسندی اور اقتصادی دہشت گردی ہے۔ مگر ذرائع ابلاغ کی تمام تر توجہ مذہبی انتہا پسندی بلکہ اسلامی انتہا پسندی اور دہشت گردی پر مرکوز ہے۔ شاعر مشرق نے کہا تھا مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات
|
|