وجاہت علی عباسی
”بے واچ“ وہ انگریزی کا ٹی وی سیریز ہے جو پاکستان میں بہت ہی ذوق و شوق سے دیکھا جاتا ہے۔ وجہ صاف ہے، پاکستان بحیرہ عرب کے ساحل سے جڑا ہوا ہے اور اس لئے جب کوئی ٹی وی شو سمندر کے بارے میں ہوگا تو وہ پاکستانی شوق سے کیوں نہیں دیکھیں گے؟ اگر آپ نے بے واچ نہیں دیکھا ہے تو ہم آپ کو جلدی سے یہ بتا دیں کہ اس ٹی وی شو میں ہوتا کیا ہے۔ یہ کہانی ہے Life Guards کی جو سمندر میں ڈوبتے ہوئے لوگوں کو بچاتے ہیں۔ ایک ٹیم جن کا کام سمندر میں آئے تفریح کرنے والے لوگوں کی حفاظت کرنا ہے۔ یہ لوگ سمندر کے کنارے پر تھوڑی تھوڑی دور بڑی سی ایک کرسی پر بیٹھے دوربین سے چاروں طرف دیکھتے رہتے ہیں۔ کوئی زیادہ گہرے پانی میں جا رہا ہو تو اسے روکنا اور اگر کسی کے ساتھ کوئی سانحہ ہوجائے تو اسکی فوراً مدد کرنا۔ چلئے امریکہ کے ساحل سے واپس آتے ہیں اور پاکستان کے ان لوگوں کو پکنک پر لے کر چلتے ہیں جو صبح شام بے واچ ایسے دیکھتے ہیں جیسے زبانی یاد کررہے ہوں۔
ہم وہ قوم ہیں جو طوفان کی خبر سن کر اسے دیکھنے کیلئے ساحل سمندر پہنچ جاتے ہیں۔ خبر ملتے ہی دوست پلان بنانے لگتے ہیں کہ چلو یار طوفان دیکھ کر آتے ہیں۔ اب سوچیں جب یہ جانباز شہری پکنک پر جائیں گے تو کیا کریں گے۔ کہتے ہیں کہ انسان زندگی میں جو سیکھتا ہے وقت آنے پر اسی تجربہ کو استعمال کرتا ہے۔ اب پکنک پر جانے والے ہمارے نوجوانوں نے بے واچ سے کیا سیکھا، یہ تو ہم آپ کو نہیں بتائیں گے لیکن سمندر پر جاکر کیا کرتے ہیں، یہ ضرور بتائیں گے۔
ہر سال پوری دنیا میں پانچ لاکھ لوگ سمندر میں ڈوب جاتے ہیں جس میں سے زیادہ تر لوگ پانی میں تفریح کیلئے اترتے ہیں۔ ایک بہت افسوس کی بات یہ ہے کہ ان پانچ لاکھ لوگوں میں بڑی تعداد پاکستانیوں کی ہے۔ ہر سال پاکستان کا ساحل اپنے ساتھ کئی زندگیوں کو ہمیشہ کیلئے سمندر میں کہیں لے جاکر گم کردیتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بھائی جب آپ بیل کے سامنے لال کپڑا لے کر اسے چھیڑنے پر تلے ہونگے تو پھر بیل مارے گا تو ضرور....!
پچھلے دنوں ٹی وی پر ایک پروگرام میں پاکستانی سمندر کے لائف گارڈز اپنی مصیبتوں کا پوٹلا کھولے بیٹھے تھے۔ ان کا مسئلہ ساحل سمندر پر آنے والے 90 فیصد لوگوں سے تھا جو زیادہ سے زیادہ گہرے پانی میں جانے کو تفریح کا نام دیتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ جتنے زیادہ سعودی عرب کے قریب تیراکی کریں گے ان کو اتنی ہی خوشی پہنچے گی ”واہ واہ پپو نے کیا کمال کیا“.... گھر والے ساحل پر کھڑے 15سالہ پپو کو دور تک تیراکی کرتا دیکھ کر ایک دوسرے سے کہہ رہے ہوتے ہیں۔ وہ پپو جو عام حالات میں اپنے غسل خانے میں بالٹی بھر پانی سے زیادہ نہیں دیکھتا، اور اسے تیراکی بالکل بھی بالکل نہیں آتی، آج اپنی ساری بہادری پانی میں دکھا کر ہی دم لے گا لیکن یہ کیا پپو ہیرو بن جائے اور راجو اور گڈو پیچھے رہ جائیں، یہ کیسے ہوسکتا ہے؟
ساحل پر دوڑ لگا کر مقابلہ کیا تو کیا فائدہ۔ اب پکنک پر آئے سارے رشتہ داروں کے بچوں میں 200 فٹ گہرے پانی کے اوپر تیراکی کے مقابلے سے ہی یہ ثابت ہوگا کہ کس کا بچہ ہیرو ہے؟ پاکستانی بیچ کے ”بھائی واچ“ یعنی مسکین لائف گارڈز جو کبھی کبھی مشکل سے ڈھونڈنے پر ملتے ہیں، کے مطابق نوجوان تو نوجوان بڑی عمر کے زیادہ سمجھدار لوگ بھی سمندر کے کنارے آکر ایسے بچے بن جاتے ہیں جو ہاتھ جلنے سے پہلے آگ سے کھیلنے سے نہیں ڈرتے”دو ہزار کی بس لی ہے اور دو ہزار کی بریانی کی دیگ، چار ہزار دیدو تو ہم پانی میں نہیں جائیں گے“ اس طرح کے جواب ملتے ہیں ہمارے بیچارے بھائی واچ کو جب پاکستانی ساحل پر کسی کو گہرے پانی میں جانے سے روکتے ہیں۔
زندگی جی کر اور پانی پی کر احساس ہوتا ہے کہ یہ دونوں چیزیں اللہ میاں کی نعمت ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انہیں ایک دوسرے کے حوالے کردیا جائے۔ اللہ میاں نے انسانوں کو اشرف المخلوقات بنایا، یعنی سب سے بہتر مخلوق جو زمین کا سینہ چیر کر تیل نکال لیتی ہے اور چاند پر جاکر جھنڈا گاڑ دیتی ہے اس لئے نہیں بنایا کہ وہ پرندے کی طرح اڑے یا مچھلی کی طرح تیرے، انسان گلائیڈنگ کرکے اڑنے کا شوق اور سوئمنگ پول بناکر تیرنے کا شوق کچھ حد تک پورا کرلیتا ہے لیکن اس اطمینان سے چھت سے کود جانا کہ ہاتھ ہلاﺅں گا تو اڑ ہی جاﺅں گا یا پھر سمندر میں اتر جانا کسی بھی سمجھداری کا ثبوت نہیں ہے۔
100 منزلہ بلڈنگ سے چھلانگ مارنے میں اور بہت ہی گہرے سمندر میں تیراکی کرنے میں یہ فرق ہے کہ بلڈنگ سے چھلانگ مارنے کا خطرہ آپ جانتے ہیں اور پھر چھلانگ مارنے کے بعد نیچے جاتے آپ کو اپنی احمقانہ حرکت کا انجام پل پل قریب آتے نظر آرہا ہوتا ہے لیکن گہرے پانی میں خطرہ، انجام سب ایک ساتھ ایک ہی پل میں ایک لہر کے ساتھ تیرنے والے کو نظر آجاتا ہے۔ زندگی میں Rewind کا بٹن نہیں ہوتا۔ اس ایک پل میں ڈوبنے والے کی ساری زندگی بہہ جاتی ہے جیسے سردیوں کی راتوں میں آگ جلا کر اس کے اردگرد بیٹھا جاتا ہے، اس میں گھسا نہیں جاتا، ویسے ہی ساحل سمندر جاکر وہاں کے منظر سے محظوظ ہوا جاتا ہے اس میں خود منظر نہیں بنا جاتا۔
٭٭٭