اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

 
Mon, 04 Aug 2008 04:19:00

وزیراعظم گیلانی امریکہ آشیرباد لینے ....یا....ہدایات لینے گئے ہیں؟؟؟

وزیراعظم گیلانی امریکہ آشیرباد لینے ....یا....ہدایات لینے گئے ہیں؟؟؟
(عالم تمام/ ظہیرالدین بٹ)
آج کل پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی امریکہ کے دورے پر ہیں ان کی امریکی صدر جارج ڈبلیو بش سے ملاقات ہو چکی ہے۔ فوٹو سیشن بھی بڑے اچھے طریقے سے مکمل ہو چکا ہے۔ مذاکرات کی ٹیبل پر گفتگو اور پھر پاک امریکہ سٹرٹیجک پارٹنرشپ پر مشترکہ اعلامیہ بھی جاری ہو چکا ہے۔ وزیراعظم گیلانی کی ملاقات امریکی سیکرٹری خارجہ کنڈولیزا رائٹس سے بھی ہو چکی ہے۔ وزیراعظم گیلانی کے دورے سے روانگی سے قبل کے بیانات پر نظر ڈالی جائے تو لگتا ہے کہ امریکہ کو خوش کرنے اور ملاقات سے پہلے اپنی سوچ کا (غلامانہ) کو ان تک پہنچانا تھا۔ دہشت گردوں کے خلاف بیان بازی سے ظاہر ہے خوشی صرف اور صرف امریکہ کو ہی ہو سکتی ہے جس کی سعی تمام بڑے زوروشور سے کی گئی ہے اور ویسے بھی وہ یہی چاہتا بھی ہے۔ وزیراعظم یوسف گیلانی نے امریکی صدر بش سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے گزشتہ ساٹھ برسوں سے دوستانہ تعلقات ہیں اور ہم ان تعلقات کو مزید بہتر بنائیں گے۔ ادھر امریکی صدر بش نے کہا ہے کہ پاکستان کی جمہوریت ایک ترقی کرتی ہوئی جمہوریت ہے اور ہم اس کی خودمختاری کا مکمل اعلان کرتے ہیں۔ بہت خوب کے ساٹھ سال بعد ہمیں امریکہ نے ہمارے ملک کی سیاسی اور خودمختار جمہوریت کو نئی نویلی اور ترقی کرتی ہوئی جمہوریت کا سرٹیفکیٹ دیا ہے۔ ہم ہیں کہ جھوٹے اور دل کو تسلی دینے اور جھوٹی عزت بنانے والے بیان داغ رہے ہیں۔ پوری قوم جانتی ہے کہ امریکہ پاکستان کا کس طرح کا دوست ہے اور مشکل وقت میں کہاں تک اور کیسے کام آتا رہا ہے۔ یہ کہاں کی دوستی ہے کہ 1965ءکی جنگ میں 1971ءکی جنگ میں ہمارے دوست نے خوب دھوکا دیا۔ چھٹا بحری بیڑہ کبھی بھی پاکستان نہ پہنچ سکا۔ ہمارا ملک دولخت کروا دیا گیا اس کا سبب بھی پیپلزپارٹی کی سابقہ حکومت کو گردانا جاتا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کی وجہ سے جتنا نقصان اٹھایا ہے اتنا نقصان تو 9/11 کے دن امریکہ کا بھی نہیں ہوا ہے۔ ہم نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں جس طرح فرنٹ لائن بن کر حصہ لیا ہے اس کی اچھی خاصی قیمت بھی چکائی ہے۔ آئے روز ہماری قوم نے قربانیاں دی ہیں کئی خاندان اس دہشت گردی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوگئے ہیں۔ کتنے افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ کئی گھرانے اجڑ گئے ہیں۔ بچے یتیم ہوگئے ہیں عورتیں بیوہ اور کئی ماوﺅں کے بیٹے اس جہان فانی سے رخصت ہو چکے ہیں۔ امریکہ نے جس جنگ میں ہمیں اور پاکستانی قوم کو دھکیل رکھا ہے اس کے بدلے میں ہمیں کچھ بھی نہیں دے سکا ہے۔ سوائے اور زیادہ کارروائیاں کرنے اور مزید اقدامات اٹھانے جیسے آرڈر ہی ملتے رہے ہیں۔ کبھی بھی ہماری مخلصانہ کوششوں کی قدر نہ کی گئی۔ دنیا جانتی ہے کہ عراق کی جنگ میں مصر جیسے ملک نے اربوں ڈالر کے قرضے جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی معاف کروا لیے تھے لیکن پاکستان کواربوں ڈالر کے اعلانات کرکے ہی خوش کردیا گیا ایک طرف ڈالر دینے کا اعلان تو دوسری طرف امریکی کمپنیوں سے خریداری اور اسلحے کی فروخت اور دیگر کئی طریقوں سے وہی ڈالر واپس لے لیے گئے۔ ملا بھی کچھ نہ اور احسان بھی سر پر چڑھ گیا۔ اب بھی امریکہ نے مدد اور تعاون کا اعلان کیا ہے۔ زراعت کا شعبہ ہو یا تعلیم‘ صحت کا مسئلہ ہو یا پھر توانائی کی کمی ان کے لیے چند ملین ڈالر کا اعلان اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے۔ ہمیں جتنی توانائی کی اشد ضرورت ہے اس کے لیے عملی اقدامات کی شدید ضرورت ہے۔ ہمیں ہنگامی بنیادوں پر اس کے لیے کام کرنا ہوگا۔ فاٹا اور افغان سرحد پر اتحادی فوجیں جو کر رہی ہیں وہ ڈھکی چھپی بات نہیں۔ انہوں نے کئی بار ہماری سرحدوں کے اندر حملے کرکے معصوم عوام کی جانوں کو ضائع کیا ہے لیکن ہم ہیں ہمت ہی نہیں کہ اس کا بش اور اس کی سرکار سے احتجاج کیا جاتا۔ اقتصادی تعلقات اور دیگر امور پر تو بہت باتیں ہوئیں لیکن فوجی امداد اور ہتھیاروں کی فراہمی کے لیے مذاکرات آئندہ چند ماہ بعد ہونگے جبکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مذاکرات پہلے کرکے کچھ فیصلے کرلیے جاتے اور اسی دورے میں ان کا اعلان کردیا جاتا لیکن دراصل صرف خوش کرنے کے بہانے یا پھر بیوقوف بنانے کی سعی ہے۔ ادھر جارج بش کے بعد صدارتی امیدوار اوباما بھی وزیراعظم سے ملنے والے ہیں ان کے بیانات تو پہلے ہی مسلمانوں اور خصوصاً پاکستان کیخلاف آنے لگے ہیں ان کے بیانات اژدھے کے منہ سے پھنکاریں نکلنے جیسے ہیں۔ ان کی بیان بازی سے ہمیں اپنے آئندہ کے لائحہ عمل پر سوچ بچار کرنی ہوگی۔ ہمیشہ دیکھنے میں آیا ہے کہ امریکہ میں حکومت اور شخصیات تو تبدیل ہو جاتی ہیں لیکن ان کی پالیسیوں کا تسلسل وہی رہتا ہے اور وہ اسی ڈگر پر چلتی رہتی ہیں۔
ہماری تو خواہش ہے کہ ہماری جمہوری حکومت جو ”بڑی اتحادی جماعتوں پر مشتمل ہے (لیکن ایک بڑی پارٹی ابھی کنارہ کش ہو چکی ہے) امریکی حکومت کے سامنے حقائق بیان کرے اور ایسا موقف اختیار کرے جو ہمارے ملک اور قومی سلامتی کیلئے ضروری اور مثبت ہو۔ خالی خولی اعلانات اور دوروں سے کچھ حاصل نہیں ہو سکے گا۔ دہشت گردی کے خلاف ملک کی سکیورٹی اور نقصانات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ امریکہ سے وزیراعظم آشیرباد لینے پہنچے ہیں یا کہ اندر خانے ہدایات لی ہیں اس کا ظہور چند دن بعد میں نظر آ جائے گا۔










 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier