|
(وکیل انصاری) عین اس وقت جب امریکی صدر جارج بش پاکستان کے وزیراعظم محمد رضا گیلانی کو وہائٹ ہاﺅس میں خوش آمدید کہہ رہے تھے، ایک امریکی طیارہ پاکستان کے علاقہ جنوبی وزیرستان میں بمباری کر رہا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت پاکستان میں کوئی ”انچارج“ نہیں ہے۔ وزیراعظم گیلانی صرف نام کے وزیراعظم ہیں۔ اصل طاقت کسی اور کے پاس ہے۔ اس بات کا احساس امریکہ کو بھی ہے اور یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چھ ماہ سے امریکہ کے ملٹری انچارج پاکستان کو آگاہ کیے بغیر دہشت گردوں کے نشانوں پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔ مزید افغان کٹھ پتلی صدر حامد کرزئی کے ہرزہ رسائی دیکھئے کہ وہ بھی پاکستان کی سرحدوں پر حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں فاٹا کے علاقوں میں دہشت گردی سے پاکستان بھی اتنا ہی خطرہ محسوس کر رہا ہے جتنا کہ افغان حکومت یا افغانستان میں متعین اتحادی یعنی NATO کی افواج محسوس کر رہی ہیں۔ یہ گوریلا جنگ ہے اور یہ جنگ ایک ایسے دشمن سے لڑی جا رہی ہے جو کہ مذہب کے نام پر اس جنگ کو لڑ رہا ہے یعنی مرگیا تو شہید اور زندہ رہا تو غازی۔ افغانستان کے اپنے مسائل ہیں مگر پاکستان کے مسائل اس سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔ افغانستان ہمیشہ سے مختلف WAR LORD کی سرزمین رہا ہے اور اس میں مرکز کبھی بھی مضبوط نہیں رہا ہے۔ آج حالات جو ہیں وہ افغانستان میں 25 سال سے بہتر ہیں۔ مگر پاکستان کو بھی اسی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ FATA کے علاقوں میں بھی WAR LORDS نے افغانستان کی طرز اس خطے کو بانٹ کر رکھ دیا ہے۔ سوات اور ہنگو میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ افغانستان کے نظام کا حصہ ہیں اس لیے پاک افواج کو دہشت گردوں سے اس خطے کو صاف کرنے کیلئے ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے بیرونی دہشت گردوں کا صفایا۔ مگر اس طریقہ کار کو کیا کہیے کہ معاہدے کے بعد بھی یہ دہشت گرد صاف مکر جاتے ہیں۔ مقامی لوگوں پر ظلم کرتے ہیں جو ساتھ نہیں دیتے ان کو بیدخل کر دیتے ہیں یا مار دیتے ہیں۔ کاروبار چلانے کے لیے منشیات کی تجارت کرتے ہیں۔ یہ ہیں اصل دہشت گرد اور پھر مقامی لوگوں پر الزام ہے کہ وہ ان کو پناہ دیتے ہیں اور پھر امریکہ انہی کے گاﺅں پر بمباری کرکے فخریہ یہ کہتا ہے کہ چھ یا دس دہشت گرد ہلاک کر دیئے گئے۔ صدر پرویزمشرف کے دوراقتدار میں امریکہ نے پاکستانی علاقوں پر بمباری کرنے کی جسارت نہیں کی۔ مگر اب امریکہ یہ سب کچھ کیوں کر رہا ہے۔بقول صدر بش جنہوں نے وزیراعظم گیلانی کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ وہ ایک دوست ملک اور جمہوری ملک کے وزیراعظم کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔ کیا امریکہ جوکہ جمہوریت کا چیمپئن ہے وہ جمہوری ملک پر حملہ آور کیونکر ہو رہا ہے۔ کیا وہ واقعی جمہوریت کا دلدادہ ہے تو اس ملک کے لیے امداد میں بخل سے کام کیوں لے رہا ہے۔ F-16 کے لیے پرزے یا اس کے MAINTANANCE کیلئے کیونکر متعرض ہے۔ دہشت گردی کیخلاف لڑی جانیوالی جنگ کے لیے جدید ہیلی کاپٹر اور NIGHT VISION کے ہتھیار کیوں فراہم نہیں کر رہا ہے۔ایک دوست اور جمہوری ملک میں جمہوریت کو مزید فروغ دینے کے لیے وہ کیونکر تعلیم اور حفظان صحت کے پروجیکٹ پر صرف 23 ملین ڈالر دے سکتا ہے جبکہ ہتھیاروں کی خریداری پر ایک ملین ڈالر بھی دینے کو تیار ہے۔ یہ ہیں وہ سوالات جو کہ وزیراعظم گیلانی پوچھنا چاہتے تھے مگر امریکہ کو بھی معلوم ہے کہ وزیراعظم گیلانی صرف نام کے وزیراعظم ہیں اور یہ بات گیلانی صاحب کو بھی معلوم ہے کہ ان کو کس سے کیا بات کرنی ہے اور یہی شاید پاکستان میں جمہوریت کہلاتی ہے یا یوں سمجھئے کہ یہی میڈ ان پاکستان جمہوریت ہے۔
|
|