|
(ملک سلیم اکبر) پاکستان کے سنجیدہ ترین حلقے سرگوشیوں میں ہی سہی لیکن اہم ترین ذکر ہی کر رہے ہیں کہ ہمارے وطن عزیز کے کسی بھی قسم کے اختیارات ہی نہ رکھنے والے وزیراعظم اپنی حکومت کے انتہائی کسمپرسی میں گزرنے والے 125 دن مکمل کرکے پاکستان کے 16 کروڑ عوام کو غربت‘ افلاس اور بھوک کا شکار چھوڑ کر انتہائی شان و شوکت کے ساتھ ایک ایسے امریکی صدر سے ملاقات اور فوٹو کھنچوانے کا شوق پورا کرنے میں مصروف ہیں جن کی حکومت کے آخری 125 دن باقی ہیں گویا امریکی صدر بش ان آخری 125 دنوں میں کوئی اہم فیصلہ یا اہم پالیسی بنانے کی پوزیشن میں نہیں اور وزیراعظم گیلانی کی پوزیشن کے بارے میں جب ہمارے اخبار نویسوں سے پوچھا جائے تو وہ طنزاً یا مذاقاً مسکرا دیتے ہیں گویا ان کی پوزیشن یہ ہے کہ پوزیشن ہی کچھ نہیں ہے لیکن اس کے باوجود کیونکہ ہمارے وزیراعظم رکھ رکھاﺅ کے قائل ہیں لہٰذا وہائٹ ہاﺅس میں اور کچھ نہ سہی ”فوٹو سیشن“ ہی سبھی کے لیے ایک لمبے چوڑے وفد کے ہمراہ برادر ملک قطر کی جانب سے پاکستان کو تحفے میں دیءجانے والے A310-300 طیارے میں گھومنے والے کرسی پر وزارت عظمیٰ کے مزے لیتے ہوئے امریکہ میں صدر بش کے علاوہ کونڈا لیزا رائس CIA کے سربراہ اوباما سمیت اہم ترین امریکی رہنماﺅں کے ساتھ ملاقاتیں ”پھرکا“ رہے ہیں۔ پاکستان کی وزارت خارجہ وزیراعظم گیلانی کے دورہ امریکہ کے خاتمے پر ہمیشہ کی طرح ماضی کا وہی گھسا پٹا بیان داغے گی کہ وزیراعظم گیلانی کے دورہ امریکہ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں سنہرے دور کا اضافہ ہوا ہے اور وزیراعظم کے دورہ امریکہ کے بعد پاکستان میں غریب عوام کیلئے دودھ کی نہریں اور شہد کی ندیاں بہنی شروع ہو جائیں گی۔ لیکن یہ حقیقت کسی کو نہیں بتائی جاتی کہ اگر امریکہ پاکستان کی امداد نہ کرے تو ہمارے ملک کے خزانے کا یہ عالم ہے کہ امریکی امداد کے بغیر ہماری حکومت ایک ماہ بھی نہیں چل سکی۔ اس ”پتلی حالت“ کے باوجود دروغ برگردن راوی وزیراعظم کے دورہ امریکہ کیلئے واشنگٹن کے WILLART ہوٹل میں 50 افراد کیلئے کمرے بک کروائے گئے ہیں جبکہ MAY FLOWER ہوٹل میں ایک سو سے زیادہ افراد کے قیام و طعام کا بندوبست کیا گیا جبکہ 30 سے زیادہ لمبی چوڑی لیموزین بھی بک کروائی گئی ہیں اس خبر یا افواہ کی تصدیق اگلے چند دنوں تک ہو ہی جائے گی لیکن ہمارے وزیراعظم امریکی رہنماﺅں سے اپنی ملاقاتوں میں پاکستان کی قومی ایئرلائن PIA کی شیڈول کے مطابق نیویارک سے پاکستان بغیر کسی اسٹاپ کیے نان سٹاپ پاکستان جانے والی مجوزہ پروازوں کا نہ تو شیڈول ہی تبدیل کروا کر جلدی کروانے میں کامیاب ہوئے ہیں نہ ہی پاکستان سے امریکہ آنے والے محنت کش پاکستانیوں کی امریکی ایئرپورٹوں پر کسی بھی قسم کی ”آسانیاں“ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ تارکین وطن پاکستانی امریکہ میں حق حلال کی روزی انتہائی محنت کے ساتھ کمانے اور امریکی معیشت کو مضبوط کرنے میں اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کر رہے ہیں۔ محنت کش پاکستانی دہشت پسند اور تخریب کار نہیں لہٰذا انہیں امریکہ واپسی پر ایئرپورٹ پر جس طرح گھنٹوں عورتوں اور بچوں کے ساتھ ”خوار“ کیا جاتا ہے ہمارے وزیراعظم امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی سے ہم پاکستانیوں کیلئے کسی بھی قسم کی رعایتیں یا سہولتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ البتہ اپنی نوکری اسی تنخواہ پر پکی کروانے میں ضرور کامیاب رہے ہوں گے آپ ہمیں 718-692-0707 پر دوپہر بارہ سے شام سات بجے تک فون کرکے بتائیں کہ کیا ہمارے سربراہوں کی یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ امریکہ میں رہنے والے پاکستانیوں کیلئے سہولتیں اور آسانیاں فراہم کرنے کی یقین دھانیاں حاصل کریں؟....اور وہاں....وہ جو ہم وزیراعظم کے ”بے اختیار“ ہونے کی بات کر رہے تھے اس کا ثبوت وزیراعظم کے دورہ امریکہ کے بالکل آغاز ہی سے شروع ہوگیا تھا۔ وزیراعظم کے ساتھ امریکہ تشریف لانے والے وفد میں سے پانچ قابل عزت و احترام صحافیوں کوسکیورٹی کلیرنس نہ ملنے کی وجہ سے امریکی ویزا دینے سے انکار کردیا گیا۔ بعد میں وزیراعظم کی ”ترلہ منت“ کے بعد ان صحافیوں کو ویزا دے دیا گیا اور وہ VVIP طیارے کو گوروں نے سکیورٹی کلیرنس دینے سے انکار کردیا۔ وزیراعظم اپنے وفد کے ہمراہ گھنٹوں ایئرپورٹ پر انتظار کرتے اور غصہ کھاتے ہوئے گوروں کو سمجھاتے رہے کہ بھئی میں وزیراعظم ہوں میرے جہاز کو جانے دوبش میرا انتظار کر رہا ہے لیکن گوروں نے ایک نہ سنی ہمارے فارن آفس سے ”حماقت“ یہ ہوئی کہ انہوں نے ”ڈی ون“ فارم ہی پر نہیں کیا تھا لہٰذا ہیترو ایئرپورٹ نے اس نام نہاد VVIP پرواز کو ”کھڈے لائن“ لگا دیا اور صبح ساڑھے دس بجے پرواز کرنے کا ”ٹائم سلاٹ“ کسی اور جہاز کو دے دیا یوں یہ فلائٹ شام ساڑھے سات بجے پرواز کر سکی جس ملک کا وزیراعظم ایئرپورٹ پر خوار ہوتا پھرے اس ملک کے ہم جیسے عوام ایئرپورٹوں پر جتنا بھی ذلیل و خوار ہو وہ کم ہے۔ خدا ہمیں بہتر اور عزت دار حکمران عطا فرمائے تاکہ دیار غیر میں ہماری عزت و احترام میں بھی اضافہ ہو سکے۔ پاکستان زندہ باد پاکستان پائندہ باد
|
|