|
قمر علی عباسی مائی لارڈ میں سچ کہوں گا سچ کے سوا کچھ نہیں کہوں گا گیارہ سال پہلے میاں نوازشریف پاکستان کے وزیراعظم تھے یہ ہمارے پسندیدہ رہنما ہیں، باصلاحیت قابل نڈر اور پاکستان سے ٹوٹ کر محبت کرنے والے، ایک دن انہوں نے اعلان کیا ”قرض اتارو ملک سنوارو“ اس کا مطلب تھا پاکستان نے جو غیر ملکی قرضے لئے ہیں ان سے نجات حاصل کر لی جائے تاکہ ملک ترقی کر سکے یہ بات اس سے پہلے کسی راہنما نے نہیں کی تھی ہم نے سوچا اگر ایک بار ہمت کر کے قرض اُتار دئیے جائیں تو ہر چیز سنور سکتی ہے اُن دنوں ہم ریڈیو پاکستان کراچی کے سٹیشن ڈائریکٹر تھے حکومت کی طرف سے ایک دن کی تنخواہ کاٹی گئی لیکن یہ تو کچھ نہیں تھا ہم نے ریڈیو پاکستان کراچی کے تمام شعبوں کے سربراہوں کو بلایا اور اُن سے کہا اپنے متعلقہ سٹاف کو آمادہ کرو کہ وہ زیادہ سے زیادہ پیسے اُدھار چکاﺅ پرائم منسٹر فنڈ میں جمع کرائیں۔ اُس کے بعد ہم نے فرداً فرداً سب لوگوں کو آمادہ کیا وہ حسبِ مقدور رقم اس مد میں جمع کرائیں ہم نے یہاں تک کہا اگر کوئی پانچ روپے بھی دے سکتا ہے تو وہ بھی بہت ہے کہ قطرہ قطرہ دریا ہوتا ہے اور پھر سمندر بن جاتا ہے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ہمارے دفتر کے ہر کارکن نے کچھ نہ کچھ رقم ضرور جمع کرائی۔ ہم گلشن اقبال کراچی کے حسن اپارٹمنٹس میں رہتے تھے وہاں ایک یونین تھی جس کے ہم صدر تھے قرض اُتارو سکیم میں کچھ نہ کچھ جمع کرانے کی وہاں بھی مہم شروع کی۔ اُن دنوں احساس ہوا کہ علامہ اقبال کتنا درست کہہ گئے کہ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی حسن اپارٹمنٹس کے چوکیدار، خاکروب بھی ہمارے پاس آئے وہ کچھ رقم لائے تھے اور اس سکیم کے لئے دینا چاہتے تھے ہم نے اُنہیں اپارٹمنٹس کے باہر کونے پر واقع بینک میں بھجوا دیا تاکہ وہ وہاں یہ پیسے جمع کرا دیں۔ ایک شام ہمارے پاس ایک عمررسیدہ خاتون تشریف لائیں وہ ایک تھیلے میں کچھ رقم لائی تھیں بولیں حج کیلئے پیسے جمع کر رہی ہوں ابھی یہ بہت کم ہے بیمار رہتی ہوں زندگی کا کیا بھروسہ جانے کب یہ رقم اتنی ہو کہ حج کر سکوں میں نے سوچا ہے کہ یہ ملک کا قرض اُتارنے میں دے دوں اللہ خوش ہو گا کہ یہ ملک اُسی کے نام پر بنا ہے ہم نے اُن خاتون کو دوسرے دن آنے کیلئے کہا تاکہ بنک میں جمع کروا سکیں۔ دو دن بعد ایک بزرگ آئے اُن کے پاس خاصی بڑی رقم تھی کہنے لگے میاں بیٹی کی شادی کر رہا ہوں جہیز بنا رہا ہوں قرض اُتارو سکیم کا سنا اور آپ نے ترغیب دلائی تو میں نے اپنی بیٹی کے سسرال والوں سے درخواست کی کہ جہیز میں دی جانے والی اشیاءآدھی کر دی جائیں وہ مان گئے، اب یہ رقم پرائم منسٹر فنڈ میں جمع کرا دیں، ہم اُٹھ کر دوسرے کمرے میں گئے کیونکہ اُن کے سامنے آنسو بہانا نہیں چاہتے تھے، پاکستان کے لوگ کیسے ہیں جو اپنے ملک پر سب کچھ قربان کرنے پر تیار ہیں دنیا کی کوئی طاقت ان کے حوصلے پسپا نہیں کر سکتی کیونکہ یہ سب اپنے اللہ پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ ہمیں اِس بات پر فخر ہے کہ قرض اُتارو ملک سنوارو سکیم کیلئے ایک پاکستانی کی حیثیت سے جہاں تک ہو سکا کام کیا۔ ملازمت کی تکمیل پر ہمیں مستقل امریکہ رہائش پذیر ہونا تھا اس لئے احباب کے مشورے اور اہل خانہ کے اصرار پر کراچی کے آواری ٹاورز میں واقع غیر ملکی بنک کی شاخ میں ڈالر اکاﺅنٹ کھولا اپنی برسوں کی جمع پونجی اس میں جمع کرا دی، دس سال پہلے جب ہماری ملازمت کا آخری سال شروع ہوا تو عمر بھر کی خدمت کا صلہ ملنے لگا، ایک زمانے میں ریڈیو پاکستان سرکاری محکمہ تھا تنخواہ میں سے ایک مخصوص رقم ”جی پی فنڈ“ میں جمع ہوتی تھی جب یہ محکمہ کارپوریشن میں تبدیل کر دیا گیا تو جی پی فنڈ کارپوریشن نے اپنے پاس جمع کرنا شروع کر دیا جب ملازمت کے آخری چھ باقی تھے تو سرکاری جی پی فنڈ سے کئی لاکھ روپے ملے، کارپوریشن کے فنڈ سے بھی کثیر رقم حاصل ہوئی، سرکار کا طریقہ¿ کار یہ ہے کہ ملازمت کے آخری چھ ماہ کی چھٹی تنخواہ کے ساتھ ملتی ہے اور اگر وہ چھٹی نہ لی جائے تو چھ مہینے تک دوگنی تنخواہ ملتی ہے یہ بھی ایک بڑی رقم ہوتی ہے، حکومت ہر سرکاری ملازم کی آدھی پنشن خرید کر لاکھوں روپے دیتی ہے یہ اتنی رقم ہوتی ہے کہ فارغ ہونے والا ملازم اپنے رکے ہوئے سب کام کر سکتا ہے بعض صورتوں میں مکان کی تعمیر بچوں کی شادیاں حج کی سعادت اور کچھ رقم آنے والے زمانے کیلئے جمع کر سکتا ہے، ہم ریڈیو پاکستان میں کنٹرولر تھے اس لئے ریٹائرمنٹ سے چند ماہ قبل تمام واجبات مل گئے اور ہم نے اس کے ڈالر خرید کر اپنے اکاﺅنٹ میں جمع کر دئیے یہ اتنی رقم بن گئی کہ امریکہ میں اپنے اہلخانہ کے ساتھ چار سال تک اطمینان سکون سے ایک خوشحال زندگی بسر کر سکتے تھے یہ ایک با عرصہ ہوتا ہے منصوبہ تھا ہم کچھ کریں گے بچے کچھ کریں گے اور یوں زندگی کا پہیہ چلتا رہے گا۔ اپنے ریٹائرمنٹ سے ایک ہفتے پہلے ہم ریڈیو پاکستان کے ہیڈ آفس اسلام آباد پہنچے تاکہ اپنے افسران بالا سے الوداعی ملاقات کر لیں اس محکمے میں 32 سال گزارے تھے ایک ایسا رشتہ قائم ہو گیا تھا جو اب ٹوٹ رہا تھا ہم آخری دن افسردہ اداس ائرپورٹ کی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں شور مچ گیا۔ اخبارات کے خیمے بک رہے تھے آوازیں لگ رہی تھیں پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کر دیا یہ اب جوہری توانائی والا ملک بن گیا یہ ایک ایسی خوشی تھی جس نے ہماری آزردگی کو مسرت میں بدل دیا ہمارے راہنما نوازشریف نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ دوسرے دن خبر آئی کہ وزیر خزانہ سرتاج عزیز نے پاکستان کے ڈالر اکاﺅنٹ کو منجمد کر دیا کوئی اپنے کھاتے سے ڈالر نہیں نکال سکتا اس وقت امریکی ڈالر کا نرخ 44 روپے تھا کئی دن تک عجیب خبریں آتی رہیں ایک ہفتے بعد اعلان ہوا ڈالر اکاﺅنٹ والے اپنے کھاتے سے ڈالر کے بجائے روپے لے سکتے ہیں اور ہر ڈالر کے بجائے پاکستانی 44 روپے ملیں گے۔ اس وقت پاکستان کی مارکیٹ میں ڈالر نہیں تھا دروغ بر گردنِ راوی سنا ہے ڈالر اکاﺅنٹ منجمد ہونے کی خبر ”بڑے لوگوں“ کو پہلے ہی ہو گئی تھی اور اُن لوگوں نے ڈالر پہلے ہی بینکوں سے نکال لئے تھے۔ ہمیں امریکہ آنا تھا بازار میں ڈالر کسی قیمت نہیں ملتا تھا ہمارے جاننے والے حنیف کالیہ زرمبادلہ کا کام کرتے ہیں ہم نے اُن سے رابطہ کیا اور سفارش اور دوستی کے ناطے ڈالر ساٹھ روپے کا مل گیا جبکہ ہمارے اپنے ڈالر اکاﺅنٹ سے ہر ڈالر کے بدلے 44 روپے ملے اور یوں ہر ایک ہزار ڈالر پر ہمیں 16 ہزار روپوں کا نقصان ہوا، ہماری زندگی بھر کی محنت اور حلال کی روزی سے ایک بڑی رقم چلی گئی۔ میاں نوازشریف کی حکومت ختم ہو گئی نیا دور آیا نیا زمانہ شروع ہوا۔ نئے حاکم نئے اصول نئے ضابطے نئے قوانین لیکن قرض اُتارو ملک سنوارو کا کہیں ذکر نہیں ہوا، ہم کراچی جاتے ہیں اور نہ ریڈیو پاکستان جاتے ہیں اور نہ حسن اپارٹمنٹس کہ اگر کسی نے پوچھا کہ جو رقم ہم نے قرض اُتارنے کیلئے دی تھی کیا وہ اُترا؟ حسن اپارٹمنٹ میں اگر وہ خاتون سامنے آ گئیں اور معصوم بیٹی کا معزز باپ کہیں نظر آ گیا تو ہم کیا جواب دیں گے! اُس فنڈ کا کیا ہوا؟ کتنا قرض اُتارا گیا؟ کون سا کونا سنوارا گیا یہ ایک سوال ہے۔ ہماری حلال روزی سے لی جانے والی رقم کا کیا ہوا کہاں گئی؟ یہ دوسرا سال ہے.... ہمیں اِس کا جواب چاہئے۔ مائی لارڈ مجھے اِس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا ہے“
|
|