|
گریبان .... منو بھائی مشرف، شوکت اور شجاعت کی حکومت نے شاید زیادہ سے زیادہ سیاسی کنفیوژن اور انتشار پھیلانے کی غرض سے نشریاتی اداروں کے جو جال بچھائے تھے ان کے ذریعے حالات حاضرہ اور تجزیاتی پروگراموں کے بعض ہرفن مولا، اور عقل کل میزبانوں کے علاوہ نام نہاد سیاسی، اقتصادی، معاشرتی اور عسکری امور کے ماہرین کے طور پر بہت سے ”سقراطوں“ کو بھی قوم پر مسلط کر دیا جو اپنے خوابوں اور اپنی خواہشوں کو خبر بنانے کے علاوہ اپنے اپنے موضوعات پر ”حرف آخر“ صادر فرماتے ہیں۔ ان بقراطوں میں سے بیشتر عام انتخابات کے بعد صدر پرویز مشرف کے اقتدار کی الٹی گنتی گن رہے تھے اور پھر ان میں سے اکثر سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس سمیت ساٹھ ججوں کی بحالی کے لئے سیدھی گنتی میں مصروف پائے گئے تھے۔ ان دنوں ان میں سے اکثر پاکستان پیپلزپارٹی کی سربراہی میں پاکستان کی مخلوط مرکزی حکومت کے ٹوٹ پھوٹ جانے اور اقتدار سے باہر ہونے کی پیش گوئیاں کر رہے ہیں۔ پاکستان کی مخلوط حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں پر بیرونی اور خاص طور پر امریکہ کی سربراہی میں مغربی طاقتوں کا دباﺅ ہے کہ وہ سال 2007 ءمیں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اپنی دو ہزار زندگیاں قربان کر دینے کے باوجود افغانستان میں القاعدہ اور طالبان کو داخل ہونے سے روکنے میں ناکام ہے اور وہ طالبان سے بندوق کی زبان میں بات کرنے کی بجائے سیاسی لہجے میں بات کرنا چاہتی ہے۔ پاکستان مخلوط حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں اور اندرونی طاقتوں کا دباﺅ ہے کہ وہ پرویز مشرف کے معطل اور معزول کئے گئے سپریم کورٹ کے ججوں کو بحال کرنے میں غیر معمولی تاخیر کر رہی ہے۔ بجلی، آٹے اور تیل کی قلت اور مہنگائی دور کرنے کے لئے کوئی موثر قدم نہیں اٹھا رہی۔ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے بھی کوئی موثر کوشش نہیں کی جا رہی۔ اندرونی دباﺅ کے سب سے بڑے وسیلے ٹی وی چینلز ہیں جو موبائل فون پر لوگوں کی حالت زار کے نمونے پیش کرنے کے باہمی مقابلے میں مصروف ہیں اور قومی حالات کی نہایت درد ناک اور مایوس کن تصویر پیش کرنے میں سب پر بازی لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ لوگ بھوکے مر رہے ہیں۔ خودکشی پر مجبور ہو رہے ہیں۔ اشیائے ضرورت اتنی زیادہ مہنگی ہو چکی ہیں کہ عام لوگ ان کو خریدنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ غربت، ناداری، محتاجی اور مجبوری میں حد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے اور حکومت عوام کے مصائب اور مشکلات پر توجہ ہی نہیں دے رہی۔ ہمارے نشریاتی نیٹ ورکس پر ”حرف آخر“ صادر فرمانے والے ”عقل کل“ ماہرین میں سے بہت کم یہ جانتے ہیں اور پھر بیان کرنے اور اپنے سننے اور دیکھنے والوں کو یہ بتانے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ مشرف، شوکت اور شجاعت کی حکومت نے قومی معیشت کو قابو میں لانے اور رکھنے کےلئے جو معجزے کر دکھائے ہیں ان کی بنیاد یہ ہے کہ ان کی حکومت نے بجلی، خوراک اور تیل جیسی ضرورتوں اور عارضی طورپر مصنوعی ارزانی فراہم کرنے کےلئے ”سب سڈی“ ادا کرنے کا طریقہ اختیار کر رکھا تھا اور حکومت کے خزانے پر ان ”سب سڈیز“ کی مالیت کا بوجھ چار سو ارب روپے سے بھی تجاوز کر چکا تھا اور یہ ان ”سب سڈیز“ کی وجہ سے قیمتوں میں لائی گئی مصنوعی کمی کا کرشمہ تھا کہ جس کی وجہ سے آٹا پاکستان کے قریب کے مہنگے اور قلت والے علاقوں اور ملکوں میں بھاری مقدار میں سمگل ہو رہا تھا۔ ورلڈ بینک اور عالمی مالیاتی اداروں کا پاکستان کے حکمرانوں پر دباﺅ تھا کہ قومی معیشت اور سرکاری خزانے کو چار کھرب روپے سالانہ کی اس ”سب سڈی“ کی ادائیگی کے بوجھ سے نجات دلائی جائے۔ کون نہیں جانتا ہو گا کہ ورلڈ بینک اور عالمی مالیاتی اداروں کا پاکستان کے فوجی حکمرانوں پر بھی دباﺅ ہوتا ہے مگر سول اور سیاسی حکمرانوں پر فوجی حکمرانوں سے زیادہ بلکہ بہت زیادہ دباﺅ اور پریشر ہوتا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی سربراہی میں مسلم لیگ ن، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت کی مخلوط حکومت نے مذکورہ بالا بہت ہی زیادہ پریشر کے تحت اپنے موجودہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری خزانے پر سے آدھے سب سڈی کے بوجھ کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا چنانچہ یہ دو کھرب روپے کی ”سب سڈی“ ختم کرنے کا نتیجہ ہے جو مہنگائی اور گرانی کے شعلوں کو ہوا دے رہا ہے مگر دو ارب روپے مالیت کی سب سڈی جو ابھی جاری ہے اپنے اثرات مرتب کرتی رہے گی جو بہت ہی خطرناک اثرات ہیں۔ ”عقل کل“ ماہرین یہ تو فرماتے ہیں کہ حکومت سب سڈی کو ختم کرے مگر ساتھ یہ بھی فرماتے ہیں کہ حکمران اپنے بے جا اور ضرورت سے زیادہ اخراجات کو کم کریں۔ اس سلسلے میں حکمرانوں کے غیر ملکی دوروں اور اعلیٰ ہوٹلوں میں قیام اور چارٹرڈ طیاروں کے ذریعے سفر اختیار کرنے کی فضول خرچیوں کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔ بلا شبہ یہ غیر ضروری فضول خرچیاں ہیں لیکن اگر ان کا ترجمہ مالیاتی ہندوسوں میں کیا جائے تو اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف بھی نہیں ہوں گے۔ ”سب سڈیز“ کے ذریعے مارکیٹ میں مصنوعی قیمتوں کو ناجائز سہارا دینے کے نتائج ان دنوں زمبابوے کے بازاروں میں دکھائی دیتے ہیں جہاں لوگ ہزاروں زمبابوے ڈالروں کے عوض دیا سلائی کی ایک ڈبیہ بھی نہیں خرید سکتے۔ شہر کے ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک جانے کے لئے سو ارب ڈالروں کے ٹکٹ کی ضرورت ہو گی۔ بے شک غیر ضروری اخراجات، فضول خرچیوں اور عیاشیوں سے گریز اور پرہیز کی ضرورت ہے مگر اصل غیر ضروری اخراجات تو ”سب سڈیز“ کی صورت میں اور اصل فضول خرچی اور عیاشی تو سرکاری مالیاتی اداروں اور بینکوں کے قرضوں کی معافی اور ٹیکسوں کی چوری کی شکل میں ہوتی ہے۔ اصل ضرورت زمینی حقائق اور معروضی حالات کو سمجھنے ، تسلیم کرنے اور لوگوں کو بتانے کی ہے۔ سامنے دکھائی دینے والے حقائق اور حالات کے پیچھے بھی کچھ حقائق اور حالات ہوتے ہیں۔ ان تک پہنچے بغیر سچ تلاش کرنے والے صداقت تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔ حفیظ جالندھری مرحوم نے فرمایا تھا یہ خوب کیا ہے، یہ زشت کیا ہے جہاں کی اصلی سرشت کیا ہے بڑا مزہ ہو تمام چہرے اگر کوئی بے نقاب کر دے
|
|