وجاہت علی عباسی
کہتے ہیں کہ پیار اندھا ہوتا ہے اسی لئے اکثر پیار کر لینے کے بعد جب عاشق کی آنکھیں کھلتی ہیں تو نظر آتا ہے کہ یہ اُس نے اپنے ساتھ کیا کیا لیکن آنکھیں کھلنے سے پہلے تو بھئی اسے اپنی پوری دنیا جیسے کوئی ہندی فلم لگ رہی ہوتی ہے جس کے اندر عاشق بے بیساکھی پکڑے کوئی سڑک پار کرا دے کہتا نہیں بلکہ شاہ رخ خان کی طرح دل ہی دل میں اچھی اچھی جگہوں پر چھلانگیں مارتا گانا گاتا پھر رہا ہوتا ہے۔ اوپر سے ستم کہ عشق پر زور نہیں یعنی عمر، شکل، موقع محل ان سب کو عاشق ایک طرف رکھ کر عشق میں گرفتار ہو جاتا ہے۔
امریکہ کے صدر بُش نے اب پوری دنیا میں تباہی مچا دی اور کئی قوموں کو اپنا دشمن بنا لیا سب کا ماننا ہے کہ جارج بش شاید ہر انسان سے نفرت کرتے ہیں لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ انکی زندگی میں بھی کوئی ہے جس نے انہیں دردِ ڈسکو کرنے پر مجبور کر دیا؟ جی ہاں امریکن صدر جن کے اللہ کو پیارے ہو جانے کی دعائیں جگہ جگہ صبح شام مانگی جاتی ہیں خود کسی کو پیارے ہو گئے یعنی انکا ”نہ جانے کہاں دل کھو گیا“.... ہو گیا.... سب کا ماننا ہے کہ جارج بش نے کبھی کوئی کام سوچ سمجھ کے نہیں کیا تو پھر وہ پیار سوچ سمجھ کر کیسے کرتے۔
یہی وجہ ہے کہ جب بل کلنٹن اپنے زمانے میں عشق کرتے پکڑے گئے تھے تو سوال تھا کہ یہ کیا کیا؟ لیکن آج جارج بش کے لئے سب کے دل میں یہ سوال ہے کہ یہ کِس سے کیا؟
جارج بش کو کونڈولیزا رائس سے پیار ہو گیا ہے۔ آج امریکہ کے کئی بڑے اخباروں اور ویب سائٹ پر یہ خبر گرم ہے کہ جارج بش اور انکی بیوی کے بیچ تقریباً تعلقات ختم ہو گئے ہیں اور اس بات کا اعلان بش صاحب کی صدارت نومبر میں ختم ہو جانے کے بعد کیا جائے گا۔ خبروں کے مطابق اس جھگڑے کی وجہ یہ ہے کہ پتی پتنی کے بیچ اب ”وہ“ بھی ہیں اور جب بش پوری دنیا کی ایسی کی تیسی کر کے درجنوں سکیورٹی کی گاڑیوں کے بیچ بیٹھ کر جب گھر پہنچتے ہیں تو وہاں انکی شامت آ جاتی ہے یعنی انکی زندگی سی این این سے بدل کر ژی ٹی وی کا ڈرامہ ہو جاتی ہے یعنی روز ٹورا کی تو تو اور بش کی خبروں کے مطابق ٹورا نے ایک بار جھگڑا بہت زیادہ بڑھ جانے کی وجہ سے بیچ رات وائٹ ہاﺅس سے نکل کر ہوٹل میں گزاری تھی۔
طلاق کے بعد ٹورا کو بیس ملین ڈالر ملنے والے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی لمبی بیوی بچوں والی شادی توڑ کر جارج بش کو کیا ملے گا؟ تو اسکا جواب ہے کونڈولیزا رائس۔ وہ شخص جن کے لئے بش اپنا سب کچھ داﺅ پہ لگا رہے ہیں وہ کوئی اور نہیں بلکہ امریکہ کی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس ہیں جیسے بش کو ہر مسلمان دہشت گرد لگتا ہے اسی طرح کونڈولیزا رائس راک سٹار لگتی ہیں۔ ایک پریس کانفرنس میں مس رائس کی تعریف کرتے ہوئے جارج بش نے کہا تھا کہ انہیں نہیں لگتا کہ ریپبلکن پارٹی میں مس رائس سے زیادہ کوئی ہاٹ سٹار ہے۔ جی بش صاحب آپ نے صحیح کہا وہ اتنی ہی سٹار ہیں جتنا ہر مسلمان دہشت گرد۔
مگر آگ دونوں طرف برابر ہے یعنی مس رائس کا بھی حال اب بے حال ہے انکے خیالوں میں بھی ہر وقت بش چھائے رہتے ہیں یہاں تک کہ ایک جگہ خطاب کرتے وقت انکے منہ سے نکل گیا کہ میں کل اپنے شوہر سے بات کر رہی تھی.... اور پھر ایک دم گھبرا کر جملہ صحیح کر کے بولتی ہیں کہ کل میں صدر بش سے بات کر رہی تھی یعنی مس رائس کے پیار کا عالم یہ ہے کہ دل ہی دل میںوہ جارج بش کو اپنا شوہر مان چکی ہیں۔ بش اور رائس کی ”1942 لو سٹوری“ شروع ہو چکی ہے یعنی پوری دنیا میں تباہی مچی ہے اور انہیں پیار کی سوجھ رہی ہے۔
امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اکثر گورے سمجھتے ہیں کہ صدر بش سارا دن اپنے سٹاف کے ساتھ کام کر رہے ہوتے ہیں تاکہ قوم کا کچھ بھلا ہو لیکن یہ کیا وہ تو اپنا سارا وقت وائٹ ہاﺅس میں ایسے گزارتے ہیں جیسے وہ کوئی کالج کے لڑکے ہیں جسے نیا نیا پیار ہوا ہو۔ ”تم بہت یاد آ رہی ہو“ ”کس رنگ کے کپڑے پہنے ہیں تم نے“ ”مجھے کتنا سوچا تم نے“ جی ہاں یہ ہیں وہ ضروری باتیں جنہیں بش صاحب آجکل اپنے سٹاف کے ساتھ کر رہے ہیں بش اور مس رائس دنیا میں کہیں بھی ہوں مگر دن میں کم سے کم ایک بار بات ضرور کرتے ہیں۔
پیار اندھا ہوتا ہے لیکن انکا پیار بہرہ بھی ہے جو سن نہیں سکتا کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ صدر بش کے کندھوں پر اتنی بڑی ذمہ داری ہے اسکے باوجود جب وہ خود لڑکھڑائیں گے تو ملک کیسے سیدھا چل پائے گا۔ امریکہ میں پچھلے مہینے ریکارڈ توڑ مہنگائی بڑھی صدر بش کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ”تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے“۔
اب صدر بش کی دنیا تو شاید کونڈولیزا رائس کی آنکھوں سے چل جائے لیکن ہماری یعنی باقی امریکہ میں رہنے والوں کی چلنا مشکل ہے۔ بش صاحب کے پیار کے پاگل پن میں بس ہمیں ایک اطمینان ضرور ہے کہ شکر خدا کا کونڈولیزا رائس کے خاندان کا تعلق امریکہ سے ہے اگر پاکستان کے آس پاس سے ہوتا تو بش صاحب پر پیار کا بھوت اتر جانے کے بعد یقیناً یہ طالبان کا قصور ہوتا جس کے لئے امریکہ کا پاکستان پر حملہ کرنا ضروری ہو جاتا۔