اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

ڈاکٹر شبیر احمد
جنہیں حقیر سمجھ کر بجھا دیا تو نے
وہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی
صاحبو! آج آپ کی خدمت میں ایک ایسے دیدہ ور کی مختصر داستان حیات پیش خدمت ہے جسے ہم تاریخ کے اوراق میں دفن کر بیٹھے ہیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
لیکن یہ روشن زندگی ہے ایک کھلتے مہکتے پھول کی۔ شہزادہ سلطان محمد خان شہید شاید ہی آپ کو اس عظیم نوجوان کا نام یاد آیا ہو۔ پہلے ذرا سیاق و سباق ملاحظہ فرمالیجئے
غزنی و غوری ہوئے اور پھر آئے غلام
خلجی تغلق سید و لودھی مغل پر اختتام
صاحبو! کسی نے اس شعر میں مسلم حکمرانوں کی تاریخ سمو دی ہے۔ 1000ءسے محمود غزنوی نے برصغیر پر مسلم حکمرانی کی بنیاد رکھی۔ پھر باری باری خاندان غوری، غلاماں، خلجی، تغلق، سادات، لودھی اور مغلوں نے حکومت کی۔ 857 برس تک برصغیر کے حاکم رہنے کے بعد مسلم سلطنت کا چراغ بہادر شاہ ظفر کے ساتھ 1857ءمیں بجھ گیا۔
شہزادہ شہید کا تعلق خاندان غلاماں سے تھا جو 1206ءتا 1290ءبرسراقتدار رہے۔ خاندان غلاماں کے سب بادشاہ یا تو خود کسی کے غلام رہ چکے تھے یا غلاموں کی اولاد تھے۔ قطب مینار اور اڑھائی دن کا جھونپڑا بنانے والے سلطان قطب الدین ایبک خاندان غلاماں کے بانی تھے۔ قطب مینار کو کون نہیں جانتا؟ اسی کے عین قریب شہزادہ شہید ابدی نیند سو رہا ہے۔ ایبک نے 1200ءمیں اجمیر میں ایک مسجد تعمیر کروائی تھی کیونکہ یہ مسجد صرف اڑھائی دن میں تعمیر ہوئی لہٰذا اسے ”اڑھائی دن کا جھونپڑا“ کہتے ہیں۔ آج بھی یہاں ہر سال اڑھائی دن کا میلہ لگتا ہے۔ اسی خاندان میں سلطان غیاث الدین بلبن آیا جو سلطان شمس الدین التمش کا غلام رہ چکا تھا۔ بلبن (1266ءتا 1287ئ) اس دبدبے کا سلطان ثابت ہوا کہ تاریخ عالم میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ وہ نیکی اور وقار کا زندہ نمونہ تو تھا ہی لیکن رعب اور دبدبہ ایسا کہ کسی شخص نے اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نہ دیکھی۔ وہ اپنے مخصوص ملازمین کے ساتھ بھی نہایت اعلیٰ شاہی لباس پہنے بغیر نہ آتا تھا۔
دربار شاہی میں تخت کے گرد سیستان (آج کے چیچنیا) سے منگوائے ہوئے قوی ہیکل پہلوان چمکتی ہوئی تلواریں سونتے ہوئے کھڑے رہتے۔ بلبن کا چہرہ پرجلال اور منور تھا اور اس کی داڑھی کافور کی طرح سفید تھی۔ غیرملکی سفیر دربار میں داخل ہوتے تو سطوت شاہی سے ان کے اوسطان خطا ہوجاتے۔
بلبن نے اپنی فوجوں کو اتنا مضبوط بنا دیا تھا کہ ماضی قریب یعنی 1258ءمیں خلافت عباسیہ کا خاتمہ کردینے والے منگولوں کو بلبن کے ہاتھوں سخت ہزیمت اٹھانی پڑی۔ اسی شیر دل سلطان غیاث الدین بلبن کا ولی عہد شہزادہ سلطان محمد خان تھا جو فوجیوں کا کمانڈر بھی تھا۔ لائق باپ کا لائق بیٹا، فرق صرف اتنا کہ یہ نوجوان شاہی جاہ و جلال کا قائل نہ تھا اور اپنی فوجوں اور عوام میں گھل مل کر رہتا تھا۔ امیر خسرو، امیرحسن اور فردوسی کی اہل علم نسل شہزادے کے دربار کی زینت ہوتے تھے۔ شیخ بہاﺅ الدین زکریاؒ اور خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ کی اولاد بھی بلبن کے دربار دہلی کو چھوڑ کر شہزادے کے ساتھ رہنا پسند کرتی تھیں۔
اس دور کے مورخین ضیاءالدین برنی جیسے لوگ لکھتے ہیں کہ آج تاج شاہی اس شہزادے کے نصیب میں ہوتا تو وہ برصغیر میں ہمیشہ کیلئے بابرکت نظام نافذ کرجاتا۔ ہلاکو خان اور اسکے جانشینوں پر سلطان بلبن سے زیادہ شہزادے محمد خان کی ہیبت قائم تھی۔ وہ سپہ سالار ہی نہیں مردِ قلندر بھی تھا۔ علم پروری، سخاوت، نرم دلی اور شجاعت میں وہ اپنی مثال آپ تھا۔ 1279ءمیں منگولوں کے لشکر جرار نے پنجاب پر یلغار کرکے شہزادہ محمد خان کی قوتِ بازو کو آزمایا۔ انہیں اس بری طرح شکست ہوئی کہ اپنی جاں بخشی کیلئے منگول کمانڈروں نے ایک دستاویز لکھی کہ وہ آئندہ برصغیر پر کبھی حملہ نہ کریں گے
ہنگامے میں میرے تری طاقت سے زیادہ
بچتا ہوا بن گاہ قلندر سے گزر جا
شہزادہ محمد خان اپنے عظیم والدین کا راج دلارا تو تھا ہی لیکن عوام کی آنکھ کا تارا بھی تھا۔ ایک بار شاہی خاندان، امراءاور عوام کھلے میدان میں شیروں کا سرکس دیکھ رہے تھے۔ یکایک ایک ببر شیر کودتا ہوا مجمع کی طرف بڑھا۔ ہزاروں کے مجمع میں شہزادہ تلوار گھماتا ہوا بجلی کی طرح کوندا۔ مجمع خوف سے بے حال ہوا جاتا تھا لیکن بہادر شہزادے نے تلوار کے ایک ہی وار سے شیر کا کام تمام کردیا۔ بادشاہ کی جانب سے 26 سالہ شہزادے کو خان الملک کا خطاب عطا ہوا۔ یہ نوجوان ہمیشہ جست لگا کر چلتے، دوڑتے گھوڑے پر سوار ہوتا تھا۔ بگڑے ہوئے ہاتھی کو اس شجاعت اور مہارت سے رام کرتا کہ بڑے بڑے مہاوت حیران رہ جاتے۔ تیراک اس پائے کا کہ دریائے جمنا میں تیر کر فرار ہوتے ہوئے ایک ہاتھی کو بڑے اطمینان سے تابع کر لایا اور اسکے پاﺅں میں زنجیر باندھ کر اس کے کھونٹے پر کھڑا کردیا۔
امیر خسرو جیسے جہاندیدہ بزرگ نے شہزادے پر ایک فارسی مثنوی لکھی۔ وہ کہتے ہیں کہ جتنی خوبیاں انہوں نے اس ایک نوجوان میں دیکھیں وہ ہزاروں میں بانٹی جائیں تو ختم نہ ہوں۔ شہزادہ خوش شکل، جسیم اور پھرتیلا تو تھا ہی، شجاعت، سخاوت، رحمدلی، میدان کارزار کے تمام رموز کی مہارت میں اس کا کوئی ثانی نہ تھا۔ غریب پرور ایسا کہ بادشاہ نے پبلک کیلئے امور خزانہ شہزادے کے حوالے کردئیے تھے۔ ملک میں عام اعلان تھا کہ جو شخص ضررتمند یا بیروزگار ہو یا اپنی بیٹی کی شادی کا خرچ نہ اٹھا سکتا ہو، وہ خان الملک شہزادے سے رابطہ کرے۔ امیر خسرو کہتے ہیں کہ اس نوجوان کے در سے کوئی خالی ہاتھ نہ لوٹتا تھا۔ اس زمانے میں دو تولے خالص چاندی کا ایک روپیہ ہوا کرتا تھا جسے تنکا کہتے ہیں۔ سفر ہو یا حضر، شہزادے کے سازوسامان میں تنکا سے بھری ہوئی تھیلیاں ہمیشہ موجود رہتی تھیں اور وہ خالص چاندی کے یہ سکے غریبوں پر لٹانے کا بہانہ ڈھونڈا کرتا تھا۔ توجہ فرمائیے کہ یہ سات سو برس پرانی بات ہے جب ایک روپیہ آج کے دس ہزار کے برابر ہوتا تھا۔ سلطان غیاث الدین بلبن اور اس کے ہردلعزیز فرزند نے اسی زمانے میں برصغیر کو دنیا کا امیر ترین ملک بنا دیا تھا۔ غیر ممالک میں برصغیر سونے کی چڑیا کے نام سے مشہور ہوچکا تھا
ہاں اے فلکِ پیر جواں تھا ابھی ”خاناں“
کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور
صاحبو! کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ جوہر نایاب دوسرے جہان والوں کو بھی بہت اچھا لگتا ہے۔ کتنے ہیرے موتی تو آپ کی اور ہماری نگاہوں کے سامنے اٹھ جاتے ہیں۔
شہزادہ ایک دن دہلی کے باہر میدان میں سپاہیوں کو تربیت دے رہا تھا۔ ظہرکا وقت ہوگیا اور شہزادہ نماز پڑھنے میں مشغول، کچھ منگول سازشی جھاڑیوں میں چھپے بیٹھے تھے۔ اچانک بے موسم برسات کی طرح بہت سے تیر اس ہونہار نوجوان پر برسے اور شہزادہ خان الملک شہزادہ شہید بن کر تاریخ کے صفحات کی زینت ہوگیا
مرے خاک و خوں سے تو نے یہ جہاں کیا ہے پیدا
صلہ¿ شہید کیا ہے؟ تب و تاب جاودانہ
٭٭٭

 


5 / 5 (3 Votes)







  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: air purifier