وجاہت علی عباسی
ایک خبر کے مطابق پاکستان ایک اور بڑے مسئلے کا سامنا کر رہا ہے اور وہ یہ کہ پاکستان میں بہت سارے گدھے ہو گئے ہیں جی ہاں 1996ءکی رائے شماری کے مطابق پاکستان میں صرف بہتر ہزار گدھے تھے لیکن آج یہ گنتی کچھ سولہ لاکھ تک پہنچ چکی ہے سنا ہے چین میں لوگ گدھے کی طرح کام کرتے ہیں تو پھر اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ پوری دنیا میں کل ملا کر چوالیس ملین گدھوں میں سے آج گیارہ ملین گدھے تو چین میں ہیں چلیئے واپس پاکستان آتے ہیں۔ آج جس ملک میں گدھوں کی تعداد سب سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے وہ پاکستان ہے۔
گدھوں کی تاریخ چھ ہزار سال پرانی ہے لیکن افسوس اتنی پرانی تاریخ کا حصہ ہو کر بھی آج تک گدھے تاریخ میں اپنا کوئی خاص مقام و نام نہیں بنا پائے۔ انہی کے اریب قریب خاندان کے گھوڑے نے کئی جھنڈے گاڑھے ہیں اس لیے آپ کو اکثر جگہوں میں فوجیوں کے پتلوں کے ساتھ ان کے گھوڑے کے پتلے بھی نظر آتے ہیں۔ دوڑ کے میدان میں بھاگ کر ان گھوڑوں نے کئی کو راجہ اور کئی کو بھکاری بنا دیا لیکن یہ گدھے بیچارے گدھے ہی رہے۔ ایک آدھ اتفاق ہوگیا جیسے پہلی جنگ عظیم میں برطانوی فوجی جان سمپین نے کئی زخمیوں کی جان ڈیفی نامی گدھے پر بیٹھ کر بچائی تھی اور اسی یاد میں انگلینڈ کے ساﺅتھ شیلڈ نامی شہر میں جان کے گدھے کا پتلا بھی لگا ہوا ہے اس کے علاوہ اٹیلین آرمی میں بھی گدھوں کا استعمال کیا جاتا تھا لیکن اس کے باوجود تاریخ گدھوں کے کسی بھی کمال کا ذکر کرتی نظر نہیں آتی۔
چلیئے گدھوں کے ماضی کو چھوڑ کر اپنے حال کی فکر کرتے ہیں۔ ہمارا حال یہ ہے کہ آج پاکستان میں لاکھوں گدھے پوچھ رہے ہیں کہ ان کا مستقبل کیا ہے اب ہم پاکستان میں اپنے مستقبل کو لیکر پریشان ہیں اوپر سے گدھوں کی فکر کیسے پا لیں۔ ایک کام کرتے ہیں ہم ان گدھوں کو پاکستان کے ہر اس کام میں لگا دیتے ہیں جہاں سچ مچ بہت کام کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے کچھ لاکھ گدھوں کو پاکستان کے سکولوں میں داخل کرا دیتے ہیں آج ہر وہ سکول پاکستان میں بہتر سمجھا جاتا ہے جہاں ٹیچرز بچوں کو انگریزی میں ڈانٹتی ہیں۔ تعلیم کے نام پر ہر مہینے ماں باپ ہزاروں روپے بچوں کو انگریزی کلچر سکھانے کے لیے دیتے ہیں۔ وہ بچے جو معاشرے کی اپر کلاس بناتے ہیں بڑے ہو کر انگریزی میں پاکستان کو برا بھلا کہتے ہیں۔ ملک سے باہر چلے جاتے ہیں ہم اب گدھوں کو سکول بھیجیں گے انہیں سکھائیں گے کہ ان کے ملک کی اہمیت کیا ہے ہمیں ذہین طالبعلم نہیں چاہیے۔ ہمارے لیے گدھے ہی صحیح ہیں جو بہتر تعلیم حاصل کر کے بھی کم سے کم پاکستان میں رہ کر اپنے ملک کی خمت تو کریں گے۔
کچھ گدھوں کو بجلی کے محکمے میں ملازم کر دینا چاہئے۔ آج بجلی کے محکمے والے بڑی بڑی ملوں کے کروڑوں روپوں کے بجلی کے بل کچھ لاکھ روپے لے کر رفع دفع کر دیتے ہیں اس طرح لوڈ شیڈنگ کی ماری قوم کا کروڑوں روپے کا اندھیرے میں بیٹھے بیٹھے نقصان ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں جو اپنے فائدے کا نہیں سوچتا وہ گدھا ہوتا ہے بس آج ہم کو اس محکمے میں ایسے ہی گدھے چاہئیں جو اپنا کام ایمانداری سے کرنا جانتے ہوں جب یہ گدھے اپنا فائدہ نہیں دیکھیں گے تبھی ہماری قوم کا فائدہ ہو گا اور شاید بجلی آنے سے روشن مستقبل بھی۔اس کے بعد کچھ گدھوں کو پاکستانی سیاسی پارٹیوں کا حصہ بنا دینا چاہئے آج پاکستان کے ہر بڑے ٹی وی چینل کے پروگرام پر مختلف پارٹیوں کے سیاستدان جاہلوں کی طرح لڑتے نظر آتے ہیں ”تم نے یہ کیا.... میں نے یہ کیا....“ بس مار ہی نہیں رہے ہوتے وہ ایک دوسرے کو.... وہ ٹی وی چینل جو انڈیا اور باقی پوری دنیا میں دکھائے جاتے ہیں ان سیاستدانوں کے ذریعے پوری قوم کو ہر گھنٹے شرمندہ کرتے ہیں۔ سیاست میں آنے کے بعد بیچارے گدھے بھلے دوسرے سیاستدانوں کی طرح کوئی کام کی بات ٹی وی پر بیٹھ کر نہیں کریں گے لیکن کم سے کم ”ڈھینچو ڈھینچو“ تو ایک آواز میں کریں گے جس سے دنیا کو یہ تو لگے گا کہ سب پاکستانیوں کی ایک آواز ہے۔
امریکہ میں گدھے نہیں ہوتے اسی لیے امریکہ میں جو پہلا گدھا ملا اسے وائٹ ہاﺅس کی سب سے اونچی گدی پر بٹھا دیا گیا۔ گدی پر بیٹھنے کے بعد اس نے یہ ثابت کیا کہ وہ عام گدھا نہیں ہے بلکہ دنیا کا سب سے بڑا گدھا ہے۔ پاکستان کی آج ہر بڑی گدی پر بیٹھا لیڈر یہ ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے کہ اس سے بڑا گدھا ملک میں اور کوئی نہیں ہے اس لیے ہمارے سولہ لاکھ گدھوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں فکر چھوڑ دینی چاہیے اگر انہوں نے تعلیم حاصل نہیں بھی کی نہ کوئی تعلیم حاصل کر پائے تو بھی انکا بھلا ضرور ہو جائے گا۔ وہ کوئی عام انسان نہیں ہیں ان کی برادری کے لوگ آج ہر اونچی جگہ پر موجود ہیں۔