اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

 
Sun, 27 Jul 2008 03:41:00

ناقابل بیان اضطراب

ناقابل بیان اضطراب
(عبدالقادر حسن)
ہمارے حکمران طبقے نے غلام محمد اور سکندر مرزا سے لیکر پرویز مشرف تک پاکستانیوں کو چین نہیں لینے دیا۔ ان سب کے اندر ایک خوف تھا کہ وہ پاکستانیوں کے ان کی مرضی کے نمائندے نہیں ہیں، ان پر زبردستی یا کسی شعبدہ بازی کے ذریعے حکمران ہیں۔ اس دوران ایک حکمران ذوالفقار علی بھٹو آیا جو منتخب تھا لیکن اسے معلوم تھا کہ وہ پاکستان کا نہیں پاکستان کے ایک حصے سے انتخاب جیتا ہے اور اس کے الگ ہوجانے کے بعد اس کا حکمران بن گیا ہے۔ اس طرح وہ سینہ ٹھونک کر یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ پاکستان کا ایک جمہوری منتخب حکمران ہے۔ دوسرے اس کے دل میں یہ چور بھی تھا کہ ملک کو دو ٹکڑے کرنے میں یحییٰ خاں اور شیخ مجیب کے ساتھ وہ بھی شریک ہے اور یہ ایک بدیہی حقیقت تھی۔ وہ جانتا تھا کہ پاکستانی اس کی حب الوطنی پر شک کرتے ہیں لیکن حالات کے جبر کے تحت اسے قبول کئے ہوئے ہیں۔ اس مختصر سے عرصے کے سوا جسے آپ جمہوری ہی فرض کرلیں، پاکستان فوجی آمریت کا براہ راست یا بالواسطہ غلام رہا ہے۔ ملک ٹوٹنے کے بعد تو پاکستانیوں کی نفسیات بدل گئی اور ملک کی بقاءپر ان کا یقین کمزور پڑ گیا۔ ان کے دل و دماغ میں یہ بات بیٹھ گئی کہ جو ملک ایک بار ٹوٹ گیا ہے وہ پھر بھی ٹوٹ سکتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ملک سے علیحدگی یا کسی حصے کی خودمختاری کی آواز بلند کرنے میں کسی کو کوئی جھجک محسوس نہیں ہوتی بلکہ بعض اوقات تو ذرا ذرا سی بات پر ملک سے الگ ہو کر جانے کا نعرہ لگایا جاتا ہے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ صدر پرویز مشرف کراچی گئے۔ وہاں انہوں نے چند دن بڑے سکون اور راحت میں بسر کئے۔ کراچی کی ایک تقریب میں جب ایک مقرر نے یہ کہا کہ ملک کا نقشہ بدل سکتا ہے تو صدر صاحب یہ سن کر مسکرائے اور خاموش رہے۔ کوئی اور سربراہ مملکت ہوتا تو اول تو کسی کو ان کے سامنے یہ کہنے کی جرا¿ت نہ ہوتی اور اگر کوئی ایسی جرا¿ت کرتا تو وہ سخت برہم ہو کر شدید ردعمل ظاہر کرتے۔
ملک کے مستقبل اور بقاءپر یقین کی یہ کمزوری ان دنوں قوم کیلئے ایک نہایت ہی خوفزدہ کرنے وال کیفیت پیدا کررہی ہے۔ پاکستان کی سرحدوں پر امریکی فوجوں کی نقل و حرکت، ان کا جارحانہ انداز اور امریکی حکمرانوں کی دھمکیاں پاکستانی قوم کو شدید ہراساں کرنے کیلئے بہت ہیں۔ ہر دل سہما ہوا ہے اور دروازوں پر زوردار دستک دینے والے ہاتھوں کو روکنے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ افغانستان اور عراق کی تباہی کے بعد امریکیوں کے سامنے پاکستان میں کوئی رکاوٹ موجود نہیں ہے۔ بے پناہ طاقت کے زعم میں مست امریکہ کیلئے اخلاقیات کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ عراق اور افغانستان میں اس نے لاکھوں انسان قتل کردئیے۔ اس سے قبل کئی جنگی محاذوں پر وہ انسانوں کو قتل کرچکا ہے اور دنیا کی تاریخ میں پہلا ایٹم بم پھینک کر وہ اس درندگی کا ثبوت دے چکا ہے جو امریکہ کو آباد کرنے والوں کے کردار کا ایک حصہ ہے۔ قومی اتحاد اور غیرتمند قیادت سے محروم پاکستانی ان دنوں زندگی اور موت کے خوف میں مبتلا ہیں۔ چونکہ وہ کچھ نہیں کرسکتے اس لئے وہ کچھ نہیں کررہے اور کسی بھی وقت کے انتظار میں اضطراب کی گھڑیاں بسر کررہے ہیں۔
بدنصیب پاکستانیوں کو ایک ایسی حیرت انگیز صورتحال کا بھی سامنا ہے جس کا وہ تصور تک نہیں کرسکتے تھے۔ گزشتہ الیکشن میں انہوں نے جس سیاسی قیادت کو منتخب کیا تھا وہ کئی ہفتوں تک غالب رہے۔ کوئی دبئی میں چھپا بیٹھا تھا تو کوئی لندن میں موجود ہے۔ اگرچہ آصف علی زرداری اور میاں محمد نوازشریف دونوں منتخب نہیں ہیں لیکن ملک پر حکمران دونوں بڑی اتحادی پارٹیوں کے یہ سربراہ ہیں اور منتخب حکمران ان کے اشاروں پر چلتے ہیں۔ ملک کے اندر وزیراعظم ہیں جو یہ صفائیاں دیتے رہتے ہیں کہ وہ بااختیار ہیں اور آصف علی زرداری کے اشاروں پر نہیں چلتے لیکن جب کبھی کسی بڑے فیصلے کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ ملائیشیا میں ایک کانفرنس میں شرکت کے بعد اپنے بھاری بھرکم وفد کے ہمراہ دبئی کا رخ کرتے ہیں اور کروڑوں روپوں کے خرچ سے زرداری صاحب کی حاضری بھرتے ہیں۔ میاں صاحب لندن میں ہیں اور اپنے ساتھیوں کو ضرورت پڑنے پر وہاں بلاتے رہتے ہیں۔ ان دونوں کی طویل غیرحاضری پر قوم حیران ہے۔ جس کڑے وقت میں ان کو قوم کے سامنے ہونا چاہئے تھا اور قوم کے حوصلے بلند کرنے تھے ،اس وقت وہ کسی مفرور کی طرح ملک سے غائب ہیں اور واپسی خدا جانے کب....!
پاکستانی قوم ایک عذاب میں مبتلا ہے، اسے کوئی الفاظ میں کیسے بیان کرے؟
٭٭٭

5 / 5 (1 Votes)









 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier