|
(اور پھر بیاں اپنا.... قمر علی عباسی) فریدہ خانم نے جب نئی غزل سنانے کیلئے چند لمحے کا توقف کیا تو ہمارے دوست عتیق اللہ شیخ نے بآواز بلند کہا فریدہ جی وہ غزل سنائیے گو ذرا سی بات پہ برسوں کے یارانے گئے فریدہ خانم نے فوراً جواب دیا، آپ کیلئے تو یہ ”پرسوں“ کے یارانے ہیں۔ ان دنوں عتیق اللہ شیخ کا تازہ عشق بری طرح ناکام ہوا تھا اور یہ ریڈیو پاکستان لاہور آنے والے ہر شخص کو معلوم تھا۔ فریدہ خانم نے پہلے تو ”ذرا سی بات پہ برسوں کے یارانے گئے“ گایا اور پھر عتیق اللہ شیخ کی طرف منہ کرکے ”پرسوں“ کا اضافہ کیا۔ لاہور ریڈیو اسٹیشن میں ان دنوں شاعروں، ادیبوں اور فنکاروں کا نام تھا۔ کسی سمت سے صوفی غلام مصطفی تبسم آتے نظر آتے، کسی کمرے میں ناصر کاظمی ہوتے، کہیں اے حمید پھولوں کی کیاری کے پاس نظر آتے، یوں ریڈیو پاکستان لاہور گلستانِ ادب تھا۔ گلوکار اپنی پسند کی غزلیں گاتے اور داد پاتے۔ ہمیں یاد ہے پشاور کے باصلاحیت شاعر خاطر غزنوی کی غزل گو ذرا سی بات پہ برسوں کے یارانے گئے لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے ہر گلوکار نے گائی اور پسندیدگی کی سند حاصل کی۔ ہمارا ایک اصول ہے کہ جس شاعر، ادیب، موسیقار، گلوکار کو پسند کریں اس سے ملیں نہیں۔ جو تاثر جو تصویر بنا رکھی ہے اسے ٹوٹنے نہ دیں لیکن جی چاہتا تھا اس شاعر سے ملاقات کریں جس کا شعر جس کی غزل ہر شخص کی زبان پر ہے۔ خاطر غزنوی ان دنوں پشاور میں تھے۔ ان کا تعلق پشاور ریڈیو سے بھی تھا۔ ایک زمانے میں بچوں کے پروگرام کے پروڈیوسر بھی رہے تھے اور اب بھی ریڈیو کیلئے ڈرامے، کہانیاں اور فیچر لکھتے تھے۔ ان دنوں نئے شہر اور مقامات دیکھنے کا ہمیں بہت زیادہ شوق تھا۔ پشاور میں دو دلچسپی کے سامان تھے۔ باڑہ اور خاطر غزنوی، ہم نے عتیق اللہ کو آمادہ کیا اور ایک دن پشاور جاپہنچے۔ سیدھے ریڈیو اسٹیشن گئے۔ وہاں عتیق اللہ شیخ کے کئی جاننے والے تھے۔ ایک صاحب نے ازراہِ عنایت نہ صرف خاطر غزنوی کا پتہ دیا بلکہ فون پر ان سے بات بھی کروا دی۔ خاطر غزنوی یہ جان کر خوش ہوئے کہ ہم ان سے ملنے پشاور آئے ہیں۔ وہ سمجھانے لگے ہم ان تک کیسے پہنچیں۔ پھر بولے آپ اس شہر میں نئے ہیں، میں کسی کو آ پکے پاس بھیجتا ہوں۔ پھر کہا چھوڑیں میں خود آرہا ہوں۔ ایک گھنٹے کے بعد ہم ان کے ساتھ گاڑی میں نمک منڈی جا رہے تھے۔ وہاں انہوں نے پشاور کا روایتی کھانا کھلایا، پھر اباسین ریسٹورنٹ میں جا بیٹھے۔ یہاں چائے اور گفتگو چلتی رہی۔ خاطر غزنوی کی شخصیت کے اتنے پہلو تھے کہ سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ یہ سب کچھ کیسے کرلیتے ہیں؟ وہ مصور تھے، تصویریں بناتے تھے، مجسمہ ساز تھے، اپنی انگلیوں سے پیکر تراشتے تھے۔ فوٹوگرافر تھے لمحوں کو، منظروں کو قید کرلیتے تھے۔ وہ ہندکو میں شاعری کرتے تھے، پشتو کے شاعر تھے، اردو کے گیسو سنوار رہے تھے۔ ہم نے یقین ہی نہیں کیا کہ کوئی ایک شخص اتنے بہت سے کام کرسکتا ہے۔ گفتگو کا سلسلہ چلتا رہا۔ یہاں تک کہ ہماری بس کا وقت آگیا اور وہ ہمیں بس اڈے پر چھوڑ گئے۔ جب واپس آرہے تھے تو عتیق اللہ اور ہمیں یاد آیا کہ ہمیں تو باڑہ بھی جانا تھا۔ خاطر غزنوی ان چند شخصیات میں سے تھے جن سے ملکر کوئی تصور چکنا چور نہیں ہوا۔ ہم لاہور سے راولپنڈی، کوئٹہ، حیدر آباد ریڈیو سے ہوتے ہوئے کراچی ریڈیو اسٹیشن تعینات ہوگئے۔ خاطر غزنوی اکیڈمی آف لیٹرز کے ڈائریکٹر جنرل بنے۔ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر رہے۔ ملائیشیا گئے، ان دنوں ہمارا بھی کوالالمپور جانا ہوا لیکن ان سے رابطہ نہ ہوسکا۔ پھر وہ چین چلے گئے اور اتنی چینی زبان پڑھ لی کہ واپس آکر پشاور یونیورسٹی میں چینی زبان کا شعبہ قائم کیا۔ اس کے ساتھ اردو کو بھی گلے سے لگائے رکھا۔ 1997ءمیں پاکستان کی آزادی کا گولڈن جوبلی سال منایا گیا۔ ہمارے ذمے قومی سطح کا مشاعرہ ترتیب دینا آیا۔ ہر صوبے سے شاعر مدعو کئے گئے۔ ان میں پشاور سے خاطر غزنوی تھے۔ وہ اپنی ساری محبت اور خلوص کے ساتھ کراچی آگئے۔ وہ اپنے ہمعصر لوگوں میں ایک جدا حیثیت رکھتے تھے۔ شاعری پر ایسا عبور تھا کہ شعر بولتے محسوس ہوتے تھے۔ ہم خوش نصیب تھے کہ وہ ہمارے لئے دو مجموعہ کلام ”خواب در خواب“ اور ”سلسلہ انوار کا“ لائے تھے۔ ہمارے لئے اس سے بڑا اور کیا تحفہ ہوتا۔ ایک بے تکلف شاعر اس وقت کہنے لگے آپ پشاور سے عباسی صاحب کیلئے دنداسہ لاتے۔ خاطر غزنوی بولے میں تو کتابیں لایا ہوں، آپ جب جائیں دنداسہ لائیے گا۔ 2000ءمیں خاطر غزنوی سے ملاقات اسلام آباد کے صدارتی محل میں ہوئی جہاں 23 مارچ کو تقسیم اسناد و انعامات تھی۔ صدر پاکستان نے ہمیں اور خاطر غزنوی کو تمغہ امتیاز عطا کیا۔ تقریب کے بعد چائے کے دوران ہم نے کہا آج کا ایوارڈ اس لئے بھی اہم ہے کہ آپ کو ملا ہے اس لئے ہم فخر کرسکتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ شامل ہوگئے۔ وہ بولے اور اگر یہی میں آپ کیلئے کہوں؟ ہم نے انہیں یہ کہنے نہیں دیا، روک دیا، خاطر غزنوی نے پوچھا آپ اسلام آباد میں کب تک ہیں؟ ہم نے بتایا 27 مارچ کو ہمارے نئے سفرنامے ”کرنا کا آیا“ کی تقریب رونمائی ہے، آپ جب تک ہوں گے؟ وہ بولے پشاور دور ہی کتنا ہے، میں آجاﺅنگا۔ ہمیں احساس ہوا وہ ایک بامروت شخص ہیں۔ اخلاقاً آنے کا وعدہ کرلیا ہے۔ 27 مارچ کو ہالیڈے ان اسلام آباد میں ہمارے سفرنامے کی تقریب تھی۔ اس میں ہم سے محبت کرنے والے کئی اہم لوگ آئے۔ ان میں سب سے اہم خاطر غزنوی تھے جو پشاور سے خاص طور سے ہمارے لئے آئے تھے۔ ہم نے تقریب کے بعد ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا کیونکہ نہ وہ اس محفل کے صدر تھے نہ مہمان خصوصی نہ مقرر، وہ ہنس کر کہنے لگے ”اب جب بھی اسلام آباد میں تقریب کریں مجھے اطلاع کریں، میں ضرور آﺅنگا“ ہمارے دوست محبت کرنے والے جاننے والے یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ اب ہم اسلام آباد میں کبھی اپنے سفرنامے کی تقریب نہیں کریں گے کیونکہ اس میں کبھی خاطر غزنوی شرکت نہیں کرسکیں گے۔ وہ ایسی جگہ چلے گئے ہیں جہاں سے کسی بھی تقریب میں شرکت کیلئے نہیں آیا جاسکتا۔ ٭٭٭
|
|